
مَّن يَشْفَعْ شَفَٰعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُۥ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَٰعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُۥ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ مُّقِيتًا(النساء:٨٥)
جوشخص کوئی اچھی سفارش کرتا ہے تواس کی نیکی کا ایک حصہ اسے بھی ملتا ہے۔اور جو بری سفارش کرتا ہے تو اس کے گناہ کا ایک حصہ اس کے نامہ اعمال میں بھی جاتاہے
اس آیت کریمہ میں شفاعت حسنہ یعنی اچھی وجائز سفارش کی تعریف کی گئی ہے اور اللہ کے وعدہ کا ذکر ہے کہ شفاعت کرنے والے کو بھی اللہ اچھا بدلہ دے گا۔
شفاعت سیئہ:-
ناجائز وبری سفارش کی مذمت وقباحت بیان کی گئی ہے،یعنی حاکم وقت کے پاس جاکر لوگوں کی شکایتیں کرنے والوں کو اس بد کرداری کا برا بدلہ ضرور ملے گا۔
مجاہد،حسن، کلبی اور ابن زید نے کہا ہے کہ یہ آیت لوگوں کی آپس کی سفارشات کے بارے میں نازل ہوئ ہے۔
شفاعت حسنہ کی فضیلت میں کئ صحیح حدیثیں واردہوئ ہیں۔
صحیحین میں ابو موسی اشعری سے مروی ہے، آپ نے فرمایا۔اشفعوا توجروا، کہ شفاعت کرواسکا تمہیں اجر ملے گا۔۔۔یاد رہے کہ سفارشات دنیاوی مفاد سے پرے خیر خواہانہ ورضاء الہی کے جذبہ سے ہوں۔
ابوداؤد کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کے لیے سفارش کی جس کے بدلے میں اس نے اسے ہدیہ دیا اور اس نے قبول کر لیا تو وہ کبیرہ گناہوں کے درازوں میں سے ایک بڑے دروازے میں داخل ہو گیا۔
اللہ تعالٰی جملہ مسلمانوں کو مفہوم آیت کی تفہیم عطا فرمااور ناجائز وغلط سفارشات سے بچنے کی توفیق عطا فرما آمین