
==================================
*(تحریر:- محمد مصطفیٰ کعبی ازہریؔ/ فاضل الازہر اسلامک یونیورسٹی مصر عربیہ)*
==================================
علماء اہل حدیث جو کسی جمعیت کے سرخیل و سرتاج ہوتے ہیں ان کی صفت خاص یہ ہوتی ہے کہ وہ سب سے پہلے اس کے نتائج پر نگاہ رکھتے ہیں اگر کسی چیز میں خیر سے زیادہ شر کا پہلو ہو تو اسے ترک کردیتے ہیں اور جس چیز میں شر سے زیادہ خیر کا پہلو ہوتا ہے اسے اختیار کرتے ہیں ۔ یہ امتیازی شان انہیں ہر فساد عمل سے بچاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ امتداد زمانہ کے ساتھ ہر شر سے بچتے ہوئے مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال اور ان کے سورما آج بھی اعلائے کلمة اللہ میں سینہ سپر ہیں ۔
اس کے برعکس کوتاہ بیں اور کورچشم لوگ جب جب اس ساکن سطح پر طوفان کھڑا کرنے میدان میں آئے ذلیل و خوار ہوئے اور اپنا سا منہ لیکر رہ گئے ۔ بلکہ متوازی مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کا خواب ہمارے کتنے اکابرین نے دیکھنے کا ڈرامہ رچایا مگر سبھی خاکستر ہوئے ۔ لیکن جمعیت اہل حدیث الحمد للہ اسی آب و تاب سے کھڑی ہے اور اپنی خدمات نمایاں وصف کے ساتھ جاری رکھی ہوئی ہے ۔
ہم ایسے لوگوں کو صرف ایک آئينہ دکھاتے ہیں اور انتباہ کرتے ہیں نصف النہار میں سپنا دیکھنا بھول جائيے ورنہ آپ کے ساتھ ملت کا بھی خسارہ ہوسکتا ہے ۔ بتایا جائے کس شعبہ میں اور کس گاؤں میں کام نہیں ہوتا ہے کہاں پر اذان نہیں ہوتی ہے کہاں پر جمعہ نہیں قائم ہے ؟ کیا پہلے زمانہ کی طرح لوگ ذبح کیلئے کہیں دور دراز چُھری پڑھانے جاتے ہیں یا پیر صاحب کا حلقہ لگتا ہے ؟ بلکہ یہ جمعیت ہی ہے جس کے توصیہ اور سفارش سے آج ہر طرف مدنی مکی ریاضی نظر آتے ہیں اور دین کی خدمت میں اپنی اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے بہترین کارکردگی کامظاہرہ کررہے ہیں ! ہماری جمعیت نے ترجمہ قرآن نیپالی زبان میں طبع کراکر اسے پورے ملک بالخصوص پہاڑی علاقوں میں مفت تقسیم کیا ہے ، کاٹھمانڈو میں اسلام دین رحمت سیمینارکرایا ہے ، بہوری بیرگنج میں تحفظ انسانیت عالمی کانفرنس منعقد کی ہے ، بھیرھوا میں تین منزلہ مسجد ودفتر ضلعی وصوبائی جمعیت اور بہوری میں ایک جامع مسجد تعمیر کرائی ھے ۔ اسکے علاوہ گاہے بگاہے رفاہی کام انجام دیتی رہتی ہے ۔ غرض یہ کہ وہ کون سا شعبہ ہے جہاں جمعیت سرگرم نہیں ہے ۔ بلکہ ہمارے ذمہ داران جمعیت ہذا ہمہ تن دعوت ہی کے لئے وقف ہیں ۔
اس لئے آپ سے گزارش ہے اپنی متحرک وفعال جمعیت اور مخلص ذمہ داروں سے ہرگز دوری نہ بنائيں اور نہ کسی اختلاف کرنے والے کی بات میں آئيں کیونکہ ایسے لوگ صرف منصب کے بھوکے ہوتے ہیں جو اس قسم کا شوشہ چھوڑتے ہیں۔
بفضل اللہ وتوفیقہ (13 جنوری 2023/ مطابق 29 پوس2078 بکرم سمبت بروز جمعہ) مركزی جمعیت اہل حدیث نیپال کی جانب غریب ونادار، فقیر وناتواں کے درمیان حسب معمول ہر سال کی طرح امسال بھی وطن عزیز نیپال کے راج دھانی کاٹھمانڈو میں راحت تقسیم کیا اور جس سے ضرورت مندوں کی ضرورتیں بر وقت پوری ہوئیں۔
اور غریب ونادار، فقیر وناتواں جو وطن عزیز نیپال کی راجدھانی میں مقیم ہیں اور وہ منمارک(برما) کے روھنگیا کے مسلمان ہیں اور وہ دو سو فیملیوں پر مشتمل ہیں اور وطن عزیز نیپال کے راجدھانی کاٹھمانڈو میں تین مختلف جگہوں میں مقیم ہیں۔ 1 – لوسن ٹار کپن 98 فیملی . 2 – رام مندر کپن 77 فیمل. 3 – سوناکوٹی للت پور 25 فیملی پر مشتمل ہیں اور ان کی حالت بے حد خراب اور نا گفتہ بہ ہے اور رہتی بھی ہے ۔اس لئے مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال انکے درمیان وقتاً فوقتاً راحت یعنی کھانے پینے اور موسم سرما میں سردی سے بچاؤ کے لئے کمبل جیکٹ وغیرہ فراہم کرتی رہتی ہے ۔
الحمد للہ بروز جمعہ(13جنوری2023) کو کھانے کے سامان پر مشتمل دو سو پیکج راحت جو تقسیم کیا گیا ہے وہ اشیاء مندرجہ ذیل ہیں : چاول 30 کلو ،چنا 1کلو ، تیل 1کلو، نمک 1کلو، سویابین 2کلو۔ بھونا(مرہی) ایک کلو ۔ چینی 2 کلو، دال 2 کلو ۔
چنانچہ اس موقعہ پر مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کی جانب سے تینوں جگہوں پر قائم مصلی میں خطبہ جمعہ کا بھی اہتمام کیا گیا پہلے(رام مندر کپن) مصلی میں فضیلۃ الشیخ عبدالحيّ محمد حنیف المدنی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال نے اور دوسرے(لوسن ٹار کپن) مصلی میں فضیلۃ الشیخ عزیزالرحمن تربت مدنی ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال نے اور تیرے(سونا کوٹی للت پور) مصلی میں مولانا مظہر علی سنابلی آفس سکریٹری مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال نے خطبہ جمعہ دیا ۔
اور غریب ونادار، فقیر وناتواں ، بیواؤں ، یتیموں اور محتاجوں نے ذمہ داران مرکزی جمعیت ہذا کے حق میں بے شمار دعائیں کی ۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس نیک کام کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور اسے نجات کا ذریعہ بنائے ۔ آمین یا رب العالمین۔