==================================
(تحریر:- محمد مصطفیٰ کعبی ازہریؔ/ فاضل الازہر اسلامک یونیورسٹی مصر عربیہ)
==================================
جامعہ سلفیہ وطن عزیز مدھیش پردیش کی راجدھانی مشہور ومعروف شہر جنکپور دھام نیپال میں واقع ہے مولانا شمس الحق سلفی اور عین الحق سلفی رحمہم اللہ رحمۃ واسعۃ مشرق نیپال کے علاقوں میں خصوصاً مشرق نیپال کے چار اضلاع (سپتری، سرہا، دھنوشا، مہوتری) میں شیخین کا دعوتی دورہ بکثرت ہوا کرتا تھا، گاؤں گاؤں اور بستی بستی کا دورہ کرتے تھے، وعظ و نصیحت کرتے تھے، لوگوں کے مابین پائے جانے والے نزاعات واختلافات کا حل فرماتے تھے، مدرسہ قائم کرتے تھے، مسجد بنواتے تھے، امام اور مدرس کا انتظام کرتے تھے ، لوگوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے روشناس کراتے تھے، لوگوں میں اہل حدیث کی دعوت وتبلیغ فکری بیداری مہیا کرتے تھے، مشرکانہ عقائد ورسومات سے آگاہ کرتے تھے، خصوصاً مشرق نیپال کے چار اضلاع (سپتری، سرہا، دھنوشا، مہوتری) میں شاید ہی کوئی ایسی بستی ہوگی جہاں مولانا شمس الحق سلفی اور عین الحق سلفی رحمہم اللہ رحمۃ واسعۃ کا دعوتی دورہ نہ ہوا ہوگا ۔
اور جامعہ سلفیہ جنکپور دھام نیپال کا قیام 1966ء میں مولانا ہی کی کوشش کی مرہون منّت ہے کیونکہ مولانا ہندوستان کی طرح نیپال میں بھی ایک مرکزی دارالعلوم کا قیام چاہتے تھے اور اسی لئے جامعہ سلفیہ جنکپور دھام کا قیام عمل میں آیا، تاکہ اس ادارہ کے ذریعہ نیپال میں جماعت اہل حدیث کا دائرہ وسیع ہو، اور دعوت اہل حدیث فروغ پائے، یہاں کے فارغین ملک کے طول وعرض میں پھیلے اور سلفی دعوت ومنہج کی خوب نشر واشاعت ہو، اور الحمد للہ ہوا بھی ایسا ہی قلیل عرصے میں جامعہ سلفیہ جنکپور دھام کی شہرت و مقبولیت چہار جانب پہنچ گئی۔
اور یہاں سے علماء ودعاۃ کی کئ ایک کھیپ بھی تیار ہوئی جو ملک وبیرون ممالک میں دعوت اہل حدیث کے فروغ کا فریضہ انجام دے رہے ہیں اور اس کا ایک حصہ ہے ۔
آپ سے مخفی نہیں کہ نیپال کا ایک تعلیمی مینار جامعہ سلفیہ جو امتداد زمانہ کے دست و برد سے نکل کر اب نئے عزم میں داخل ہوچکا ہے جو اپنی اکتیس سالہ تاریخ کو دہرانے کے لئے طلباء اسلام کو دستار فضیلت سے نوازنے کا رسمی پروگرام کرنے جارہا ہے ۔
پس اب حسب اعلان مؤرخہ(21 جنوری 2023 مطابق 7 ماگھ 2079 بکرم سمبت) کو جامعہ سلفیہ جنکپور دھام دھنوشا نیپال کی جامع مسجد میں ” سالانہ تعلیمی مظاہرہ اور دستارِ فضیلت کا مشاورتی پروگرام بڑے ہی تزک واحتشام کے ساتھ منعقد ہوا ۔ جس میں علاقائی اربابِ علم و فضل کے ساتھ ساتھ ذمہ داران جامعہ ہذا مع اساتذہ اور علاقائی دانشوران و بہی خواہان نے شرکت کیں ۔ اس مشاورتی پروگرام کا آغاز قرآن مجید کی چند آیات سے کیا گیا ۔ چوں کہ اس مشاورتی پروگرام جس میں علماء کرام ، ذمہ داران جامعہ ہذا مع اساتذہ اور دانشوران نے بہتر سے بہتر تجاویز پیش کیے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں :
❀جامعہ سلفیہ کی تعلیمی وتربیتی ترقی میں جد وجہد کی مزید ضرورت ہے ۔
❀جامعہ سلفیہ میں سالانہ تعلیمی مظاہرہ اور دستار فضیلت 16 مارچ 2023 کو منعقد ہونا طے پایا ہے۔
❀ابناء قدیم فارغین جامعہ سلفیہ کی فہرست تیار کی جائے گی ۔
❀ابناء قدیم میں سے جن کی حاضری متوقع ہو ‘ انہیں بھی جدید فارغین کی معیت میں سند و دستار سے نوازا جائے گا ۔
❀مقامی سطح پر کم از کم دودہائیوں سے جن کی دعوتی و تعلیمی خدمات ملت کو میسر رہی ہیں ان کا بھی تقدیری اسناد سے اعزازی شرف بخشا جائے گا۔
❀جامعہ سلفیہ کی سالانہ تعلیمی مظاہرہ اور دستار فضیلت پروگرام کے لئے واجبی صرفہ فراہم کس طرح کیا جائے گا ۔
*جن حضرات نے میزانیہ فراہمی کیے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:*
✺ فضیلۃ الشیخ محمد مستقیم مدنی حفظہ اللہ رئیس جمعیہ المنھل الخیریہ نیپال(سو عدد اسناد کی کاغذات کی طباعت کا صرفہ) ۔
✺جناب مولانا محمد زہیر سلفی حفظہ اللہ مجھورا (دس ہزار روپیہ)
مولانا عبدالحفیظ سلفی حفظہ اللہ چھگڑیا (پندرہ ہزار روپیہ)
مولانا فہیم اختر قاسمی حفظہ اللہ رئیس مدرسہ جمیلۃ الحارثی للبنات جدوکہا دھنوشا(دس ہزار روپیہ)
✺مولانا ثناء اللہ کریمی حفظہ اللہ(دس ہزار روپیہ)
✺مولانا عبد الستار مدنی حفظہ اللہ (پانچ ہزار روپیہ)
✺جناب ذاکر حسین حفظہ اللہ رگوناتھپور(دس ہزار روپیہ)
✺جناب عطاء الرحمن صاحب جرہیا(دس ہزار روپیہ)
✺انجینئر رضاء اللہ صاحب(دس ہزار روپیہ)
✺ڈاکٹر عبد الخبیر صاحب(دس ہزار روپیہ)
✺جناب درگاہی و عطاء الرحمن صاحبان بھکراہا(بیس ہزار روپیہ)
✺ اراکین جامعہ سلفیہ (ایک لاکھ روپیہ تعاون پہ پیش کریں گے) وغیرہم ۔
*مشارکین علماء کرام اور احباب جماعت:*
شیخ عبدالعزیز سلفی رئیس مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات مجھورا، شیخ نورالہدی ازہریؔ خادم جامعہ سلفیہ جنکپور، شیخ اسرافیل سلفی استاذ جامعہ سلفیہ ہذا، جناب کلیم راعین رئیس اقراء اسکول جنکپور وغیرہم۔۔۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارہ کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے اور ہم تمام علماء کرام کو اخلاص وللہیت کے ساتھ دعوتی و اصلاحی کاموں کو، انجام دینے ، اتحاد واتفاق، الفت ومحبت کے ساتھ رہنے اور حق کی پاسداری کرنے کی توفیق دے ( آمین)