مرچوار/روپندیہی رپورٹ:ابو نعمان سنابلی
سابقہ روایات کی طرح امسال بھی جمعیۃ السلام للخدمات الانسانیہ بھیرہوا، روپنديهی، نیپال کے زیراہتمام معہد ابی بن کعب لتحفیظ القرآن الکریم موضع مریاد پور، روپندیہی نیپال میں مورخہ 15/03/2023 بروز بدھ یک شبی دعوتی وتبلیغی اجلاس عام و تقریب دستار بندی حفاظ کرام کا انعقاد عمل میں آیا، جس کی سرپرستی مولانا شمیم الرحمن اثری حفظہ اللہ صدر جمعیۃالسلام للخدمات الانسانیہ نیپال اور صدارت فضیلۃ الشیخ شمیم احمد ندوی حفظہ اللہ ناظم اعلیٰ جامعہ سراج العلوم سلفیہ جھنڈا نگر نیپال نے فرمائی، جبکہ مولانا خالد رشید سراجی حفظہ اللہ استاذ جامعہ سراج العلوم سلفیہ نےاسٹیج سکریٹری کے فرائض نہایت ہی خوش اسلوبی سے سر انجام دیئے ۔
تلاوت كلام مجید سے اس تقریب سعید کا باقاعدہ آغاز ہوا، پھر حمد باری تعالی اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد طلبا‍‌ئے معہد ابی بن کعب لتحفیظ القرآن الکریم نے ترانہ معہد پیش کیا۔
صدر جمعیت مولانا شمیم الرحمن اثری حفظہ اللہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے معزز مہمانوں اور تمام حاضرین کو خوش آمدید کہا اور اجلاس میں تشریف آوری پر جمعیت کے اراکین اور اراکین و معاونین کی طرف سے خلوص دل سے ان کا شکریہ ادا کیا، اور جمعیت کی دعوتی، تعلیمی ، اشاعتی اور سماجی و رفاہی سرگرمیوں کا اجمالی تعارف پیش کیا۔
اس کے بعد باقاعدہ خطابات کا سلسلہ شروع ہوا جس میں سب سے پہلے فضیلۃ الشیخ عبد العظیم عبد التواب مدنی حفظہ اللہ ناظم اعلیٰ جامعہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات، و مدیر مسئول ماہنامہ “نور توحید” جھنڈا نگر، نیپال نے “مومنین کی تین اقسام” کے موضوع پر انتہائی وقیع اور جامع خطاب فرمایا۔
فضیلۃ الشیخ مولانا سعود اختر سلفی حفظہ اللہ استاذ جامعہ سراج العلوم السلفیہ، ومعاون مدیر ماہنامہ “السراج ” جھنڈانگر ، نیپال نے “تربیت اولاد ” کے عنوان سے مفصل ومدلل خطاب فرمایا۔
صدر اجلاس فضیلۃالشیخ شمیم احمد ندوی حفظہ اللہ نے “عظمت قرآن اور اس کی فضیلت ” کے موضوع پر نہایت وقیع ، اہم اور بصیرت افروز خطاب فرمایا، اور علامہ عبدالرؤف رحمانی رحمہ اللہ کی کتاب “نصرة الباري في بيان صحة البخاري” کی اہمیت اور سبب تالیف اور دفاع حدیث و محدثین کے سلسلے میں علامہ رحمانی رحمہ اللہ کی گرانقدر خدمات کو بیان کرتے ہوئے اس کی تعریب کے لئے ڈاکٹر جمیل احمد ضمیر مدنی اور ادارہ جمعیۃ السلام کے روح رواں مولانا افضال احمد سلفی حفظہما اللہ اور زمہ داران جمعیت کا شکریہ ادا کیا اور دعاؤں سے نوازا ۔
صدر اجلاس اور دیگر معزز مہمانوں کے دست مبارک سے جمعیت کے شعبہ تالیف و ترجمہ کی جانب سے عربی زبان میں شائع کردہ خطیب الاسلام علامہ عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری رحمہ اللہ کی مایہ ناز و شہره آفاق کتاب ” نصرة الباري في بيان صحة البخاري” ترجمہ ڈاکٹر جمیل احمد ضمیر مدنی حفظہ اللہ کا اجراء بھی عمل میں آیا ۔
مؤرخ جماعت فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الحکیم عبد المعبود مدنی حفظہ اللہ استاذ حدیث جامعہ رحمانیہ کاندیولی، و ناظم اعلیٰ ضلعی جمعیت اہلحدیث مہاراشٹر نے امام بخاری رحمہ اللہ اور صحیح بخاری کی اہمیت سے سامعین کو روشناس کراتے ہوئے احادیث نبویہ کی اشاعت اور ان کی حفاظت و صیانت نيز دین خالص کی ترویج کے لئے بر صغیر ہند و پاک کے علمائے اھلحدیث کی گرانقدر خدمات اور عظیم کارناموں سے متعلق نہایت وقيع، جامع اور جوش و ولولہ سے بھرپور خطاب فرمایا۔
فضیلۃ الشیخ حافظ عبد السمیع مدنی حفظہ اللہ، وکیل الجامعہ جامعہ اسلامیہ دریاباد نے “اختلاط مرد و زن کے نقصانات” کے عنوان سے کتاب وسنت کی روشنی میں نہایت جامع اور مؤثر خطاب کیا۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فرید احمد سلفی حفظہ اللہ نے اپنے مختصر تاثراتی کلمات میں جمعیۃ السلام کی دعوتی، تعلیمی، رفاہی اور اشاعتی مجالات میں گرانقدر خدمات کو سراہتے ہوئے سامعین کو اپنے قیمتی پند و نصائح سے نوازا۔
بعد ازاں عالی وقار ومعزز مہمانوں کے دست ِمبارک سے معہد سے حفظ قرآن کریم کی تکمیل کرنے والے (12) خوش نصیب حفاظ کی دستار بندی عمل میں آئی، اور انہیں شہادت کے ساتھ ایک عدد ہینڈبیگ، گھڑی، متنوع شرعی کتب اور ملابس کی صورت میں انعامات سے نوازا گیا۔
محترم ناظم اجلاس نے اپنے دعائیہ کلمات کے ساتھ اس پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا۔
اس اجلاس کی کامیابی کےلئے نیپال اردو ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سامین وسامعات پروگرام کے شروع ہونے سے لیکر اختتام تک سبھی اپنی نشستوں پر موجود تھے جیسا کہ نیپال اردو ٹائمز کی لائیو میں دکھایا گیا تھا کافی ہے۔


اس اجلاس میں جامعہ خدیجۃ الکبریٰ جھنڈا نگر کے مہتمم ڈاکٹر سعید احمد اثری حفظہ اللہ، معروف خطیب مولانا محمد عمر سلفی، مولانا عبدالمبین مدنی، مولانا نثار احمد فیضی، مولانا محمد اکرم عالیاوی، مولانا علاء الدین فیضی، مولانا عزیز الرحمن سلفی ، مولانا عقیل احمد محمدی، مولانا محمد عمر اثری، ڈاکٹر عبد الاول صاحب، حافظ طارق ریاض سراجی ، الحاج عبدالسلام عبد اللہ مدنی، وغیرہم کے علاوہ ہند و نیپال کے درجنوں علمائے کرام، نامور علمی اور سماجی شخصیات اورقرب وجوار کے سرکردہ افراد کے علاوہ مسلم مرد وخواتین کی ایک کثیر تعداد نے بڑے جوش، جذبہ اور خلوص کے ساتھ شرکت کی۔