
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأن محمدًا عبده ورسوله، وبعد:
بلاشبہ اللہ تعالی ہی تمام مخلوق کا خالق ہے اور اس نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی ہے ، اورپھر ان میں سے جسے چاہا اپنے لیے چن لیا ، جیساکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ مَا كَانَ لَهُمُ الخِيَرَةُ سُبْحَانَ اللهِ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ [القصص: 68].”اور تیرا رب پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور چن لیتا ہے، ان کے لیے کبھی بھی اختیار نہیں، اللہ پاک ہے اور بہت بلند ہے، اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں”۔
اور ان بابرکت ایام اور نیکیوں وفضیلتوں کے اوقات اور موسموں میں جنہیں دوسرے دنوں اورمواقع ومواسم پر فضیلت وعظمت اور عزت حاصل ہے ان میں ذی الحجہ کےابتدائی دس ایام بھی ہیں، جنہیں اللہ تعالی نے سال کےباقی سارے ایام پر فضیلت وفوقیت عطا فرمائی ہے، یہ ایام عظیم ترین فضائل وخصائص ، برکات اور کثیر ترین بھلائیوں کے حامل ہیں، کیونکہ ان ایام میں بندوں پر عظیم الشان اور جلیل القدر ربانی عنایات اور الہی نوازشات ہوتی ہیں، اللہ تعالی نے اپنی کتاب حکیم میں ان ایام کی قسم کھائی ہے، چنانچہ ارشاد الہی ہے:﴿وَالفَجْرِ*وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾ [الفجر:1-2].”قسم ہے فجر کی!،اور دس راتوں کی”۔
اللہ تعالی کا عشرۂ ذی الحجہ کے ایام کی قسم کھانا اس کی عظمت واہمیت کی بین دلیل ہے، جیساکہ مولانا رفیع الدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:” اللہ تعالی نے اپنی ذات کے علاوہ جن چیزوں کی قسمیں کھائی ہیں اس سے ان چیزوں کی فضیلت یا ان کی منفعت اور افادیت کو بتلانا مقصود ہے، یعنی مقسم بہ کا بڑی چیز ہونا یا صفات جلیلہ والا ہونا یا بڑی شان والا ہونا معلوم کروانا ہے”۔[اقسام القرآن:33]۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”اللہ سبحانہ وتعالی بہت سے امور کے لیے دوسرے امور کی قسم کھاتا ہے اور کبھی وہ اپنی ذات مبارکہ کی قسم کھاتا ہےجو اس کی صفات عالیہ سے متصف ہے اور کبھی اپنی آیات کی جو اس کی ذات وصفات سے جڑی ہوئی ہیں، اس کا اپنی بعض مخلوقات کی قسم کھانا اس بات پر دلالت کناں ہے کہ وہ مخلوق اس کی عظیم نشانیوں میں سے ہے”۔ [التبیان في أقسام القرآن:ص1]۔
امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:(في قوله:[وليال عشر]: “ہمارے نزدیک اس کے متعلق صحیح بات یہ ہے کہ ان (دس راتوں) سے مراد ذوالحجہ کی دس (راتیں) ہی ہیں، کیونکہ تمام مفسرین نے اجماعی طور پر اس سے یہی دلیل پکڑی ہے”۔ [تفسيرالطبري:7/514]۔
حضرت ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم اور حضرت مجاہد اور دیگر اسلاف کرام رحمہم اللہ کا کہنا ہے کہ یہ “عشرۂ ذی الحجہ ہے”، اور ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: “اور یہی صحیح ہے”۔ [تفسیر ابن کثیر:8/413]۔
اللہ تعالی نے اسی میں دین اسلام کی تکمیل فرمائی اور اتمام نعمت کاشرف بخشا، چنانچہ ارشاد الہی ہے:(اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا) [المائدة:3]”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا”۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “دنیا کے سب سے فضیلت والے دن ذی الحجہ کے[ ابتدائی] دس دن ہیں”۔ [ صحیح الجامع رقم:1133]۔
ان ایام میں دو ایسے دن ہیں جو سال بھر کے تمام دنوں سے افضل اور عظیم ہیں، چنانچہ حضرت عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللہ تعالی کے ہاں سب سے بڑھ کر عظمت والا دن یوم نحر ہے پھر اس کے بعد یوم قر ہے”۔ [ابوداؤد:1765، واسنادہ صحیح]۔
ان ایام میں فرائض ونوافل اور نیک اعمال کا اجروثواب باقی ایام میں کی جانے والی عبادات سے افضل وبرتر ہے، جیساکہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی دن اِن دس دنوں سے زیادہ افضل نہیں ہیں اور ان میں کیے جانے والے اعمال سے زیادہ کوئی عمل اللہ تعالیٰ کو محبوب اور پسندیدہ نہیں ہے”۔ [شعب الایمان:3481]۔
ایک اور روایت میں ہے: ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی دن اِن دس دنوں سے زیادہ عظیم نہیں ہیں اور ان میں کیے جانے والے عمل سے زیادہ کوئی محبوب نہیں”۔ [مسند احمد:5446]۔
نیز ان دنوں میں عمل صالح کرنا اللہ کے راستے میں جہاد سے افضل ہے، جیساکہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللہ تعالی کو کوئی نیک عمل کسی دن میں اس قدر پیارا نہیں جتنا ان دنوں میں پیارا ہے”۔ یعنی ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں، صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا: “نہیں جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور پھر کچھ واپس نہ لایا ہو(شہید ہو گیا ہو)” [رواه البخاري:969، وأبو داود، واللفظ له:2438] ۔
عشرۂ ذی الحجہ کی فضیلت کا سبب:
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ عشرہ ذی الحجہ کی اس فضیلت کا سبب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: “عشرہ ذی الحجہ کی اس امتیازی شان کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بنیادی عبادات مثلا نماز، روزہ ، صدقہ اور حج یہ سب اکٹھی ہوجاتی ہیں جو ان کے علاوہ کسی اور دن میں جمع نہیں ہوتیں”۔ [فتح الباری:2/593]۔
کیا ذوالحجہ کے اس عشرے کی فضیلت رمضان کے آخری عشرے سے بھی زیادہ ہے؟
امام ابن قیم رحمہ اللہ اس کا جواب دیتے ہوئے رقمطراز ہیں: “اس میں زیادہ درست رائے یہ ہے کہ رمضان کی آخری دس راتیں ذوالحجہ کی دس راتوں سے افضل ہیں اور ذوالحج کے دس دن رمضان کے ان دس دنوں سے افضل ہیں، لہذا اس تفصیل سے یہ تمام اشکال دور ہوجاتے ہیں، اس پر دلیل یہ ہے کہ رمضان کی دس راتیں اس لیے افضل ہیں کہ ان میں لیلۃ القدر ہے اور ذی الحجہ کے دس دن اس لیے افضل ہیں کہ یوم النحر، یوم عرفہ اور یوم ترویہ انہیں میں آتے ہیں”۔[زادالمعاد:1/19]۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ: توآپ رحمہ اللہ نے جواب دیا: ” ذوالحجہ کے دس دن رمضان المبارک کے آخری دس دنوں سے افضل ہیں اور رمضان کے آخری عشرے کی راتیں عشرۂ ذی الحجہ کی راتوں سے افضل ہیں”۔[مجموع فتاوی ابن تیمیہ:25/287]۔
علامہ عبدالرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “قول مختار یہ ہے کہ یوم عرفہ کی وجہ سے ذوالحجہ کے دس دن افضل ہیں اور شب قدر کی وجہ سے رمضان کی (آخری) دس راتیں افضل ہیں، کیونکہ یوم عرفہ سال کے تمام دنوں سے افضل ہے اور شب قدر سال کی سب راتوں سے افضل ہے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا:”مامن ایام” یہ نہیں فرمایا:”مامن لیال”۔[تحفۃالاحوذی:3/530]۔
حضرت ابو عثمان النھدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “سلف تین عشروں کو بہت عظیم سمجھتے تھے: رمضان المبارک کا آخری عشرہ، ذی الحجہ کا پہلا عشرہ اور ماہ محرم الحرام کاپہلا عشرہ”۔[ لطائف المعارف:39].
مندرجہ بالا نصوص اس پر دلالت کرتے ہیں کہ ذوالحجہ کے ابتدائی دس ایام باقی سال کے سب ایام سے بہتر اور افضل ہیں اور اس میں کوئی استثناء نہیں یہاں تک کہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ بھی نہیں، کیونکہ ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں عرفہ کا وقوف ہوتا ہے جس میں اللہ تعالی اپنے بندوں کو مغفرت سے نوازتا ہے، اور انہیں ایام میں مناسک حج وعمرہ کی ادائیگی کی جاتی ہے جو ارکان اسلام میں سے ایک بہت بڑا رکن ہے، البتہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی دس راتیں ان ایام سے بہتر اور افضل ہیں کیونکہ ان میں لیلۃ القدر شامل ہے اور لیلۃ القدر ایک ہزار راتوں سے افضل ہے، لہذا بندۂ مسلم کو چاہیے کہ وہ اس سنہری موقعہ کو غنیمت جانے اور اس عظیم نعمت کی قدر کرتے ہوئے ان ایام میں مشروع اعمال کرے، چنانچہ حضرت خالد بن معدان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “اگر آپ میں سے کسی کے لیے خیر کا دروازہ کھول دیا جائے تو اسے اس میں داخل ہونے کے لیے جلدی کرنی چاہیے، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ وہ اس کے لیے کب بند کردیا جائے گا”۔ [حلية الأولياء:5/211].
عشرۂ ذی الحجہ کے وظائف واعمال:
ذوالحجہ کے ان دس دنوں میں مندرجہ ذیل کام کرنے چاہییں:
1-حج وعمرہ کی ادائیگی:
اس عشرہ میں کیا جانے والا اہم ترین اورعظیم ترین عمل حج وعمرہ کی ادائیگی ہے، حج اسلام کے محکم اور قطعی فرائض میں سے ایک فریضہ اور اسلام کی پانچ بنیادوں سے ایک بنیاد ہے اس لیے مسلمان صاحب استطاعت پر زندگی میں ایک بار حج کرنا فرض ہے، اس کی فرضیت کا اعلان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایاہے: ﴿وَللهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ البَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنِ العَالَمِينَ﴾ [آل عمران: 97].”اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج (فرض) ہے ، جو اس کی طرف راستے کی طاقت رکھےاور جس نے کفر کیا تو بے شک اللہ تمام جہانوں سے بہت بے پروا ہے”۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”قرآن کریم کی آیت (مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً) کی تفسیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے “الزاد والراحلة” یعنی زاد سفر اور سواری مروی ہے”۔[تفسیر ابن کثیر:1/414]۔
احادیث نبویہ میں حج کی فرضیت کا بڑی وضاحت سے ذکر ہوا ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: “اے لوگو! بے شک تم پر حج فرض کردیا گیا ہے، لہذا تم حج کرو”، ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہرسال (حج فرض ہے؟)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، حتی کہ اس نے تیسری مرتبہ یہی سوال دہرایا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (حج ہرسال) واجب ہوجاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے”۔[صحیح مسلم:1337]۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے،(1) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، (2) نماز قائم کرنا، (3) زکاۃ ادا کرنا، (4) ماہ رمضان کے روزے رکھنا، (5)[ استطاعت ہونے کی صورت میں] اللہ کے گھر کا حج کرنا”۔[صحیح بخاری:8، صحیح مسلم:16].
ہرصاحب استطاعت شخص پر زندگی میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے، جیساکہ امام ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: “امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ صاحب استطاعت پر عمر میں ایک مرتبہ حج واجب ہے”۔[المغنی:5/6]۔
حج بے شمار دنیوی واخروی فضائل ومنافع پر مشتمل ایک عبادت ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: “(ایک) عمرہ (دوسرے) عمرہ تک ان کے درمیانی عرصہ (کے صغیرہ گناہوں) کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا بدلہ سوائے جنت کے اور کچھ نہیں”۔[صحیح بخاری:1773، صحیح مسلم:1349]۔
ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “حج مبرور وہ حج ہے، جس میں ریا کاری و شہرت نہ ہو،اور شہوانی حرکت اور کسی فسق [گناہ] کا ارتکاب نہ کیا گیا ہو، اور مال حلال خرچ کرکے حج کیا گیا ہو”۔[التمهيد:22/39]۔
نیز ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: “جس نے حج کیا اور اس میں نہ کوئی شہوانی حرکت کی اور نہ کسی فسق (گناہ) کا ارتکاب کیا تو وہ حج کرکے یوں گناہوں سے پاک ہو کر لوٹتا ہے جیسے اسے اس کی ماں نے آج ہی جنم دیا ہے”۔[صحیح بخاری:1521، صحیح مسلم:1350]۔
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “میں نے خیر اور نیکی کے کاموں میں نظر ڈالا توپتہ چلا کہ نماز بدن کو تھکاتی ہے، لیکن اس میں مال خرچ نہیں ہوتا، اور روزہ بھی اسی طرح ہے اور حج مال بھی خرچ کراتا ہےاور بدن بھی تھکا تا ہے تو میں سمجھ گیا کہ حج تمام کاموں سے بہتر ہے”۔ [الحلیۃ لابی نعیم،ج:3/87، سيرأعلام النبلاء:11/223]۔
2 – واجبات شرعیہ اور سنن رواتب ونوافل کا اہتمام:
اس سے مقصود یہ ہے کہ شرعی واجبات بالخصوص نماز کو ان کے مقررہ وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر ان کے سنن وآداب کومکمل طورپر ملحوظ رکھتے ہوئے ادائیگی کا اہتمام کرنا ،چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “میرا بندہ جن عبادات کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں سے مجھے وہ عبادات زیادہ پسند ہیں جو میں نے اپنے بندے پر فرض کیں”۔ [صحیح بخاری:6502]۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “مطلوبہ طریقہ پر فرائض کی ادائیگی میں حکم کی تعمیل بھی ہےاور حاکم کی تعظیم وتوقیر بھی، نیزاس میں ربوبیت کی عظمت ووجاہت اور عبودیت کی شان وشوکت کا اظہار بھی ہے، اس لیے فرائض کے ذریعہ قربت الہی کا حصول سب سے افضل عمل قرار پایا”۔ [فتح الباري ج11 ص 351]۔
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے ہیں: “جس مسلم آدمی کو بھی فرض نماز پالے تو وہ اس کے لیے بہترین وضو کرے، اور اس کے رکوع اور خشوع کو عمدہ انداز میں ادا کرے تو وہ اس کے گزشتہ گناہوں کے لیے کفارہ ہوگی جب تک کبیرہ گناہ نہ کیے جائیں، اور یہ سارا زمانہ (سال) ہے”۔[صحیح مسلم:228].
فرائض کے ساتھ سنن رواتب کی ادائیگی کا بھی خصوصی اہتمام کیا کریں، کیونکہ اس کی وجہ سے آپ کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا ، جیسا کہ ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: “جو مسلمان بندہ اللہ تعالی کی رضا کے لیے ہر دن فرضوں کے سوا خوشی سے بارہ رکعات پڑھتا ہے اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے، یا اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا”۔ [صحیح مسلم:728].
نوافل کا بھی بکثرت اہتمام کریں کیونکہ یہ محبت الہی کے حصول کا باعث ہے، جیساکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا: “میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا اتنا قرب حاصل کرلیتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، توجب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کا وہ کان بن جاتا ہوں، جس سے وہ سنتا ہے، اس کی وہ آنکھ بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ دیکھتا ہے، اس کا وہ ہاتھ بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ چھوتا ہے، اس کی وہ ٹانگ بن جاتا ہوں، جس سے وہ چلتا ہے، پھر اگر وہ مجھ سے مانگے تو بلاشبہ یقینا میں اسے عطا کروں گا اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو بے شک میں ضرور اسے پناہ دوں گا”۔ [صحيح البخاري:6502].
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جس شخص نے فجر کی نماز باجماعت ادا کی، پھر سورج طلوع ہونے تک ذکر الہی میں مشغول رہا، پھر اس نے دو رکعتیں پڑھیں، تو یہ اس کے لیے مکمل، مکمل، مکمل حج اور عمرے کے برابر ہوں گی”۔ [رواہ الترمذي:586، البانی رحمہ اللہ نے اسے “صحیح سنن ترمذی” میں حسن کہا ہے].
حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “فضائل کا ادراک نہ عقل سے کیا جا سکتا ہےاور نہ اس میں قیاس کا کوئی عمل دخل ہے، اس لیے کہ اگر اس میں قیاس کو اپنایا جائے تو گناہ کی نیت کرنے والا بھی نیکی کی نیت کرنے والے کی طرح قرار پائے گا، مگر اللہ تعالی انعام واکرام کرنے والا اور بہت ہی مہربان اور رحم کرنے والا ہے”۔ [التمھید:19/26].
3 – روزوں کا اہتمام:
عشرۂ ذی الحجہ کےان نو ایام میں عموما اور خاص طور پر یوم عرفہ کے دن روزہ رکھنا مسنون ہے، اور احادیث مبارکہ میں اس کی بڑی فضیلت وارد ہے،جیساکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ [البقرة: 184]”اور یہ کہ تم روزہ رکھو تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو”.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے: “ابن آدم کے سارے اعمال اس کے اپنے لیے ہیں لیکن روزہ نہیں کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر وثواب دوں گا”۔[صحيح بخاري:1894، صحيح مسلم:1151].
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “نہیں کوئی بندہ جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے مگر یہ کہ رب تعالی اس دن کی بدولت اس کے چہرے سے آتش جہنم کو ستر سال (کی مسافت) تک دور کر دیتے ہیں”۔ [صحیح مسلم:1153].
علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “ذی الحجہ کے نو دنوں کا روزہ حد درجہ مستحب ہے،خاص طور پر اس کے نویں دن ، جو عرفہ کا دن ہے”۔ [شرح مسلم للنووی:8/71].
امام احمد اور نسائی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ سے روایت کرتے ہیں کہ: “نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نو ذی الحجہ اور یوم عاشورہ کے روزے رکھا کرتے تھے”[رواه النسأئي:2372، وأحمد:2/143، وصحيح ابوداؤد للألباني:2129].
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ کے روزے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “یوم عرفہ کے روزوں کے متعلق مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ وہ گذشتہ اور آئندہ سال کے گناہ دور کردے گا”[صحیح مسلم:1162].
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “اس کا ظاہری معنی یہ ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ رکھنا عاشورہ کے دن روزہ رکھنے سے افضل ہے، اور اس کی حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ عاشورہ کا دن حضرت موسی علیہ السلام سے منسوب ہے اور یوم عرفہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ہے اس بنا پر یہ افضل ہے”۔ [ فتح الباري :4/249].
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “میں اس دن کے روزے کو پسند کرتا ہوں سوائے حاجی کے، اس کے لیے میں پسند کرتا ہوں عرفہ کے دن کا روزہ نہ رکھے کیونکہ وہ فریضہ حج ادا کرنے والا ، قربانی کرنے والا اور مسافر ہے (سب سے بڑی بات) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں روزہ چھوڑنے کی وجہ سے، تاکہ وہ دعا کے لیے خوب توانا رہے اور عرفہ کے دن کی دعا افضل دعا ہے”۔ [مختصرالمزنی:ص59، فضائل الأوقات، للبيهقي:ص364]۔
البتہ ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہے، ایام تشریق گیارہ ، بارہ اور تیرہ ذوالحجہ کو کہتے ہیں، کیونکہ یہ کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے ایام ہیں۔
حضرت نبیشہ ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: “ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کے ذکر کے دن ہیں”۔ [صحیح مسلم:1141]۔
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ان ایام میں روزہ مت رکھو، کیونکہ وہ کھانے پینے کے دن ہیں”۔ [الصحیحة، برقم:3573]۔
4 – بکثرت ذکر الہی اور تکبیرات کا اہتمام:
ان ایام میں کثرت کے ساتھ تلاوت قرآن کریم اللہ تعالی کا ذکر ،دعاومناجات اور تکبیروتہلیل کا اہتمام کرنا چاہیے،جیساکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا البَائِسَ الفَقِيرَ﴾ [سورة الحج: الآية 28]”تاکہ وہ اپنے بہت سے فائدوں میں حاضر ہوں اور چند معلوم دنوں میں ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انہیں دیے ہیں، سو ان میں سے کھاؤ اور تنگ دست محتاج کو کھلاؤ”.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ” ایام معلومات سے ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن مراد ہیں”۔ [صحیح البخاری].
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اللہ کے نزدیک عشرہ ذی الحجہ اور اس میں کیے جانے والے نیک اعمال جس قدر عظیم اور محبوب ہیں، کسی اور دن کے نہیں، لہذا ان میں تہلیل (لاالہ الا اللہ) اور تحمید (الحمدللہ) کثرت سے کیا کرو”۔ [أحمد، مج 2، ص 131، الحديث رقم 6154].
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تکبیرات ایام تشریق کی حکمت بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: “ہرمشکل اور ہر خوشی کے موقعے پر تکبیر کا پڑھنا سنت سے ثابت ہے کہ اللہ تعالی کا شکر ادا کیا جائے اور اس میں اللہ تعالی کی ذات ہر عیب سے منزہ (پاک) ہونے کا اقرار کرنا مقصود ہے، خصوصا وہ نامناسب باتیں جن کی نسبت بدبخت یہودیوں نے اللہ تعالی کی ذات کی طرف کی ہے”۔ [فتح الباري:ج4/ص2]۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب عزوجل سے روایت کرتے ہیں کہ: “اگر مجھے دل میں یاد کرے تو میں دل میں اسے یاد کرتا ہوں، مجلس میں یاد کرے تو میں اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں”۔[صحيح البخاري:7405، صحيح مسلم:2675].
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “اگر اللہ کے ذکر سے صرف یہی چیز حاصل ہو تب بھی وہ اس کے فضل وشرف کے لیے کافی ہے”۔[الوابل الصیب من الکلم الطیب:71].
اسلاف کرام ان ایام میں تکبیرات کا بکثرت اہتمام کیا کرتے تھے ، وہ مسجد ، بازاروں اور گھروں میں جاتے تو وہاں بھی بلند آواز سے تکبیرات کہتے جسے سن کر دوسرے لوگ بھی صدائے تکبیر بلند کرتے تھے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “حضرت ابن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم بازار کی طرف نکل جایا کرتے تھے اور تکبیرات کہا کرتے تھے، پھر ان کی دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی تکبیریں کہا کرتے تھے”۔[رواه البخاري في العيدين]۔
“حضرت عمر رضی اللہ عنہ منی میں اپنے خیمے میں تکبیرات کہتے اور ان کی تکبیرات سن کر اہل مسجد اور بازار میں موجود لوگ تکبیرات کہتے حتی کہ منی تکبیر کی آواز سے گونج اٹھتا”۔[رواه البخاري في العيدين]۔
حضرت میمون بن مہران رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “میں نے دیکھا ہے کہ لوگ عشرۂذوالحج میں اس قدر تکبیر پکارتے تھے کہ میں تکبیرات کی کثرت دیکھ کراسے لہروں سے تشبیہ دیتا تھاپھر مزیدآگے کہتے ہیں کہ اب لوگوں نے تکبیر کہنا کم کر دیا ہے”۔[فتح الباري، لابن رجب:6/87-88]۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ تکبیریں پڑھا کرتے تھے:(اﷲ اکبر ﷲ اکبر لا إلٰہ إلا ﷲ وﷲ أکبر ﷲ أکبر ولله الحمد)”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور ہی سب سے بڑا ہے اور ہرقسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے”۔ [مصنف ابن ابی شیبہ:1/448 ، المعجم الکبیر للطبرانی:9/307]۔
واضح رہے کہ غیر حاجی کے لیے تکبیرات عید کا آغاز یوم عرفہ کی فجر سے ہوتا ہے اور ایام تشریق (11،12،13/ذوالحجہ) کے آخری دن کی نماز عصر تک رہتا ہے، البتہ حجاج کرام یوم نحر کی فجر سے تکبیروں کا آغاز کریں گے، یہ تو مخصوص تکبیروں کا حکم ہے، جبکہ مطلق تکبیرات پورے عشرۂذوالحجہ میں ہوں گی۔
5 – گناہوں سے توبہ:
ان ایام میں بندۂ مسلم کو اپنے گناہوں سے بکثرت توبہ اور اللہ تعالی سے رحمت ومغفرت طلب کرنی چاہیے، کیونکہ ارتکاب گناہ ومعاصی دنیا وآخرت میں رحمت الہی سےمحرومی کا سبب ہے، کیونکہ گناہوں کی وجہ سے علم وعمل ، رزق ، عمر اور اطاعت الہی کے کاموں سے برکت مٹ جاتی ہے،جبکہ توبہ واستغفار اور طاعات الہیہ اللہ تعالی کے قرب اور دنیا وآخرت میں فلاح ونجات کا ذریعہ ہے۔
چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿فَأَمَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَعَسَى أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُفْلِحِينَ﴾ [القصص: 67]۔”پس رہا وہ جس نے توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا، سو امید ہے کہ وہ فلاح پانے والوں میں سے ہوگا”۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحاً عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ)[التحریم:8]۔”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی طرف توبہ کرو، خالص توبہ، تمہارا رب قریب ہے کہ تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے اور تمہیں ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں”۔
امام بغوی رحمہ اللہ اس کی تفسیر میں رقمطراز ہیں کہ عمرو ابی اور معاذ رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں:(التوبة النصوح أن يتوب، ثم لا يعود إلى الذنب كما لا يعود اللبن إلى الضرع) “توبہ نصوح یہ ہے کہ انسان گناہ سے اس طرح تائب ہو کہ پھراس کی طرف نہ پلٹے جیسا کہ دودھ تھن میں سے نکل کر پھر اس میں واپس نہیں جا سکتا”.[الآداب الشرعية – لإبن مفلح:96].
“نصوح فعول کے وزن پر ہے، اصل میں یہ ناصح بروزن فاعل تھا، مبالغہ کے لئے اس وزن پر لایا گيا ہے جیسے شکور، صبور، اس کا اصل مادہ : ن،ص ،ح ہے، اس کے معنی ہیں کھوٹ اور ملاوٹوں سے کسی چیز کا خالی ہونا، توبہ، عبادت اور مشورہ میں نصح کا مطلب ہے ان کا ہر قسم کے کھوٹ، نقص اور فساد سے پاک ہونا اور ان اعمال کو مکمل صورت میں ادا کرنا”۔[تفسیری نکات وافادات، از حافظ ابن القیم – جمع وترتیب: مولانا عبدالغفار حسن رحمانی: 189]۔
6 – اعمال صالحہ کا بکثرت اہتمام:
ان ایام میں کیے گئے اعمال کے برابر کوئی عمل نہیں، جیساکہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللہ تعالی کو کوئی نیک عمل کسی دن میں اس قدر پیارا نہیں جتنا ان دنوں میں پیارا ہے”۔ یعنی ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں، صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا: “نہیں جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور پھر کچھ واپس نہ لایا ہو(شہید ہو گیا ہو)” [رواه البخاري:969، وأبو داود، واللفظ له:2438] ۔
حافظ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “جب ان دس دنوں میں کیا ہوا نیک عمل بارگاہ الہی میں سال کے باقی سارے دنوں میں کیے ہوئے نیک اعمال سے زیادہ فضیلت والا اور محبوب ہے، تو ان دنوں کی کم درجہ کی نیکی دوسرے دنوں کی بلند درجہ کی نیکی سے افضل ہوگی”۔[لطائف المعارف].
علامہ ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “عشرۂذی الحجہ کے سارے ایام قابل قدر اور معظم ہیں جس میں نیک عمل کا ثواب بڑھادیا جاتا ہے اور ان دنوں میں عبادت میں محنت کرنا مستحب ہے”۔ [المغنی لابن قدامہ ج:4/443]۔
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سےروایت ہے وہ کہتے ہیں: “ذوالحجہ کی پہلی دس راتوں میں اپنے چراغ نہ بجھایا کرو[یعنی رات میں قیام اور قراءت کا اہتمام کرو] ، آپ رحمہ اللہ کو عبادت بہت پسند تھی، اور آپ فرمایا کرتے تھے کہ:اپنے خادموں کو اٹھایا کرو تاکہ وہ سحری کریں اور عرفہ کے دن کا روزہ رکھین”۔ [سيرأعلام النبلاء:4/326]۔
7 – صدقہ وخیرات کرنا:
اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ ثُمَّ لاَ يُتْبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا مَنًّا وَلاَ أَذًى لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ ﴾ [البقرة: 262]”جو لوگ اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، پھر انہوں نے جو خرچ کیا اس کے پیچھے نہ کسی طرح کا احسان جتلانا لگاتے ہیں اور نہ کوئی تکلیف پہنچانا، ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، اور ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے”.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا”[صحیح مسلم:2588]۔
“صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا ، اس کی دو صورتیں ہیں، پہلی یہ کہ صدقہ دینے سے مال میں برکت ہوتی ہے نیز بلائیں ٹل جاتی ہیں، اس طرح صدقہ دینے سے مال میں ہونے والی کمی پوری ہو جاتی ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ مال بظاہر کم ہوتا ہے مگر صدقہ دینے پر اللہ تعالی کے ہاں جو اجروثواب لکھا جاتا ہے وہ مال کی کمی سے کہیں زیادہ اہم ہے”۔ [موسوعة نضرة النعيم:2527]۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “صدقہ گناہوں اور خطاکاریوں کو ایسے ہی مٹادیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے”۔ [صحیح الترغیب:983]۔
8 – دعا کرنا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(الدُّعاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ)”دعا عبادت ہی ہے”۔ [صحیح أَبُو دَاوودَ:1329، والتِّرْمِذيُّ، وابنُ مَاجَةَ بِسَنَدٍ صَحِيحٍ]۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:﴿قُلْ مَا يَعْبَأُ بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ﴾ [الفرقان: 77]”کہہ میرا رب تمہاری پروا نہیں کرتا اگر تمہارا پکارنا نہ ہو”۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(ليس شيئ أكرم على الله سبحانه من الدعا) “اللہ تعالی کی نظر میں دعا سے زیادہ قابل قدر کوئی چیز بھی نہیں ہے”۔ [صحيح الجامع الصغير:2/955]۔
لہذا بندۂ مسلم کو ذی الحجہ کے ان دس ایام میں بالخصوص عرفہ کے دن گڑگڑا کر کثرت سے دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ 9/ ذوالحجہ نہایت مبارک ومخصوص دن ہےجیساکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے:” بہترین دعا یوم عرفہ کی دعا ہے اور بہترین ذکرودعا جو میں نے اور مجھ سے قبل انبیاء نے کی ہے وہ یہ ہے:(لا اله إلا اللهَ وحدَهُ لا شريكَ لَهُ، لَهُ المُلكُ ولَهُ الحمدُ وهُوَ عَلَى كلِّ شيءٍ قديرٌ)”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے”۔ [ سنن ترمذی :3585، مشکاۃ:2/797، علامہ البانی رحمہ اللہ نے شاہد کی بناء پر اسے حسن قرار دیا ہے]۔
علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ یوم عرفہ کی دعا اکثروبیشتر قابل قبول ہوتی ہے”۔[التمہید:6/41]۔
حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عرفہ کے دن ایک آدمی کو دیکھا کہ لوگوں سے سوال کر رہا ہےتو انہوں نے اس کو زجر وتوبیخ کرتے ہوئے فرمایا: “اے بے ہمت انسان! تم آج بھی غیراللہ سے مانگ رہے ہو”۔[الأذكار النووية:147]۔
9 – نماز عید کی ادائیگی:
اس عشرے میں کیے جانے والے اعمال میں سے ایک عظیم ترین عمل نماز عید کی ادائیگی اور خطبۂعید کا سننا بھی ہے، عید اللہ تعالی کے لیے عبودیت وبندگی کے شعائر کا مظہر بھی ہے،عیدالاضحی اور عیدالفطر ایسی عیدیں ہیں جنہیں خود اللہ تعالی نے اہل اسلام پر فرض کیا ہے، چنانچہ ارشاد الہی ہے:(لِّكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ)[الحج:67] “ہر امت کے لیے ہم نے عبادت کا ایک طریقہ بنا دیا ہے جسے وہ بجا لانے والے ہیں”۔
امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی ہے کہ :”[مَنسَكًا] کا معنی یہاں عید ہے”۔
نیزفرمان الہی ہے:(فصل لربک وانحر) [الکوثر:2] “اپنے رب کے لیے نماز پڑھئے اورقربانی کیجئے”۔
امام قرطبی نے حضرات ائمہ قتادہ، عطاء، عکرمہ رحمہم اللہ تعالی سے نقل کیا ہے کہ [فصل لربک] سے مراد قربانی کے دن نماز عید ہے”۔[تفسیرقرطبی:20/218]۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو دیکھا کہ ان لوگوں کی دوعیدیں تھیں، جن میں وہ کھیل کود کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:(ما هذان اليومان؟) “یہ دو دن کیا ہیں؟” انہوں نے بتایا کہ ہم عہد جاہلیت میں ان دونوں میں کھیل کود کیا کرتے تھے، تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللہ تعالی نے تمہیں ان دو دنوں کے بدلے ان سے بدرجہا بہتر دو دن عطا کر دیے ہیں:عیدالاضحی اور عیدالفطر”۔[مسنداحمد:3/103، سنن ابوداؤد:1134، سنن نسائی:1556]۔
اللہ تعالی نےعیدالاضحی کو 10/ ذوالحجہ کے دن مقرر فرمایا ہے اور یہ دونوں عیدوں میں بڑی اور افضل عید ہے ، جو وقوف عرفات کے بعد آتا ہے وہ رکن حج جو حج کے تمام ارکان سے بڑا [رکن اعظم ] ہےاور اسی دن کو اللہ تعالی نے” یوم حج اکبر ” بھی قرار دیا ہے، کیونکہ حج کے اکثر اعمال کی انجام دہی اسی دن میں ہوتی ہے، جبکہ وہ مسلمان جو حج نہ کررہے ہوں ان کے لیے یوم عرفہ کا روزہ اور اجتماع کی شکل میں نماز عیدالاضحی پڑھنے کا حکم فرمایا ہے۔
عورتوں کو بھی باپردہ حالت میں اور خوشبو لگائے بغیر عید کی نماز میں شامل ہونے کا حکم دیا گیا ہے، جیساکہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: “ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم فرمایا کہ ہم عیدالفطر اور عیدالاضحی میں جوان دوشیزاؤں، حیض ونفاس والی عورتوں اور پردہ نشین خواتین کو بھی عیدگاہ میں ساتھ لے جائیں، حیض والی عورتیں نماز سے تو الگ رہیں، البتہ خیر وبرکت اور مسلمانوں کی دعا ؤں میں شرکت کریں”۔ [صحیح بخاری:974]۔
علامہ شوکانی رحمہ اللہ اس حدیث شریف کے بارے میں تحریر کرتےہیں:”یہ حدیث اور اس کے ہم معنی حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سب عورتوں کا عیدین کے موقع پر عیدگاہ جانا مستحب ہے خواہ وہ غیر شادی شدہ ہوں یا شادی شدہ، جوان ہوں یا بوڑھی، حیض والی ہوں یا دوسری، البتہ عدت والی عورتیں یا جن کے جانے میں فتنے کا اندیشہ ہو، یا کوئی عذر ہو تو وہ اس حکم سے مستثنی ہیں”۔[نیل الاوطار:3/354]۔
10 – قربانی کرنا:
یوم النحر کے دن اللہ عزوجل کے حضور میں اپنی قربانیاں پیش کرکے اپنے رب کی رضا اور اس کا تقرب حاصل کرنا اسلام کےعظیم شعائر میں سے ہے، قربانی کی مشروعیت کتاب اللہ ، سنت رسول اللہ اور اجماع امت سے ثابت ہے، جیساکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ ﴾ [الحج: 34]”اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ چوپائے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں دے رکھے ہیں، سمجھ لو کہ تم سب کا معبود برحق صرف ایک ہی ہے تم اسی کے تابع فرمان ہو جاؤ عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے!”.
نیز ارشاد الہی ہے: ﴿وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ كَذَلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ * لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ﴾ [الحج: 36، 37].”اور قربانی کے بڑے جانور، ہم نے انہیں تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے بنایا ہے، تمہارے لیے ان میں بڑی خیر ہے، سو ان پر اللہ کا نام لو، اس حال میں کہ گھٹنا بندھے کھڑے ہوں، پھر جب ان کے پہلو گر پڑیں تو ان سے کچھ کھاؤ اور قناعت کرنے والے کو کھلاؤ اور مانگنے والے کو بھی ، اسی طرح ہم نے انہیں تمہارے لیے مسخر کر دیا ، تاکہ تم شکر کرو، اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون اور لیکن اسے تمہاری طرف سے تقوی پہنچے گا ، اسی طرح اس نے انہیں تمہارے لیے مسخر کر دیا، تاکہ تم اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنادے”۔
فرمان الہی ہے:(فصل لربک وانحر) [الکوثر:2] “اپنے رب کے لیے نماز پڑھئے اورقربانی کیجئے”۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اور دوسرے ائمہ [اس آیت کی تفسیرمیں]فرماتے ہیں کہ : “صحیح یہ ہے کہ “نحر” سے مراد جانور ذبح کرنا ہے، یعنی اونٹ کی قربانی وغیرہ کرنا”۔ [تفسیر ابن کثیر،ج:4/597]۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمام دنوں سے بہتر اللہ کے نزدیک قربانی کا دن ہے ، پھر منی میں ٹھہرنے کا دن ہے” [سنن ابوداؤد:1765، اس حدیث کی اسناد جید ہے ، ملاحظہ ہو تحقیق مشکاۃ ج۲/ ۸۱۰]۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ کے بعد مدنی زندگی میں باقاعدگی کے ساتھ ہر سال قربانی کیاور اپنی امت کو بھی تاکید فرمائ کہ ان کا ہر گھرانہ ہر سال قربانی دے، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: “رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے دس سال مدینہ میں قیام فرمایا اور ہر سال قربانی کی” [سنن ترمذی:1507]۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “آپ نے کبھی بھی قربانی ترک نہیں کی”۔[زادالمعاد:ج2/317]۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جس کے پاس قربانی کی طاقت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب ہرگز نہ پھٹکے”۔ [صحيح الجامع:6366]۔
ایک سے زیادہ جانوروں کی قربانی مسنون ومستحب فعل ہے، بشرطیکہ اس عمل میں سنت کی پیروی، اخلاص، حصول تقوی وللہیت ہو، چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: “نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھے ذبح کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھے ذبح کرتا ہوں”۔[صحیح بخاری:5553، سنن نسائی:439]۔
حضرت ابن بطال رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: “جو شخص اپنی طرف سے دو یا تین قربانیاں کرنا چاہے یہ عمل اس کے لیے زیادہ اجروثواب کا باعث ہے بشرطیکہ اس عمل سے رضائے الہی اور مساکین کو کھلانا مقصود ہو”۔ [شرح ابن بطال:11/14]۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “عیدین اور ایام تشریق میں لوگوں کو کھانے کے لیے جمع کرنا سنت ہے، اور یہ اسلام کے ان شعائر میں سے ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع قرار دیا ہے”۔ [مجموع الفتاوى :25/298]۔
درحقیقت قربانی کرنے والے کو یہ اختیار ہے کہ وہ جتنا چاہے خود کھائے اور جتنا چاہے دوسروں کو کھلائے اور جتنا چاہے ہدیہ اور صدقہ کرے، کھانے کھلانے اور ہدیہ دینے یا صدقہ کرنے کی کوئی مقدار متعین نہیں ہے، لیکن اگر وہ ایک ثلث صدقہ کردے تو زیادہ بہتر ہے، چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “قربانی دینے والا ایک ثلث صدقہ کرے اور ایک ثلث ہدیہ دے اور اگر اکثر حصہ کھالے یا اکثر حصہ ہدیہ دے دے یا اکثر حصہ کھلا دے یا پکا کر لوگوں کی دعوت کردے تو بھی جائز ہے”۔[مجموع فتاوی ابن تیمیہ:26/309]۔
جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھے اسے چاہیے کہ وہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے دسویں ذی الحجہ کے دن اپنی قربانی کا جانور ذبح کرنے تک جسم کے کسی حصے کے بال کاٹنےا ورناخن تراشنے سےمکمل طور پر پرہیز کرے، جیساکہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے باز رہے”۔[صحیح مسلم:1977]۔
امام نووی رحمہ اللہ بال اور ناخن زائل نہ کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:” عشرۂ ذی الحجہ میں بال اور ناخن کاٹنے کی ممانعت کی حکمت یہ ہے کہ قربانی کرنے والا کامل الاعضاء رہے اور اسے جہنم سے کامل الاعضاء آزاد کیا جائے”۔ [شرح النووی:13/138، نیل الاوطار:5/119]۔
اور قربانی کےلیے ایسے جانوروں کا انتخاب کریں جو مندرجہ ذیل حدیث میں مذکور عیوب سے پاک ہوں، جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گيا کہ:کس جانور کی قربانی سے بچنا چاہیے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے فرمایا: ” چار قسم کے جانوروں سے بچنا چاہیے، لنگڑا جس کا لنگڑاپن ظاہر ہو، کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو، بیمار جس کی بیماری واضح ہو، اور انتہائی کمزور لاغر جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو”۔[رواہ احمد:18675]۔
لہذا ہرمسلم مرد وعورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان مبارک ایام کو غنیمت سمجھیں، اور بکثرت اعمال صالحہ کا اہتمام کریں تاکہ اللہ تعالی کی رضا اور اس کی جنت کے مستحق قرار پائیں۔
نسأل الله تعالى أن يعيننا وإياكم على اغتنام مواسم الخيرات على الوجه الذي يرضيه عنا، وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم.