
خادم جامعہ سراج العلوم السفیہ جھنڈانگر نیپال
رواں سال 2023م کا حج بحسن و خوبی اختتام پذیر
پرویز یعقوب مدنی
خادم جامعہ سراج العلوم السفیہ جھنڈانگر نیپال
حج بیت اللہ دین اسلام کا پانچواں بینادی رکن ہے، جو مالی اور بدنی عبادت ہے۔ انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا اعزاز حاصل ہے، یہ معزز انسان جب دین اسلام کی آبیاری تن من دھن سے کرنے لگتا ہے تو اللہ رب العالمین کی مدد اور اس کی تائید اور توفیق سے مزید بڑا بن جاتا ہے۔
مملکت توحید سعودی عرب کے قیام سے لے کر آج حکومت کا ہر کام انتہائی نمایاں اور دلکش رہا ہے، کیونکہ وہاں کتاب وسنت کی بالادستی ہے، حکومت کا ہر کام خلوص وللہیت پر انجام پاتا ہے، چھوٹے بڑے، غریب و فقیر، خورد وکلاں، حاکم و محکوم سب کے ساتھ عدل و انصاف کا برتاؤ ہوتا ہے۔
کتاب وسنت اور عدل وانصاف نیز اخلاص وللہیت کی برکت ہے کہ مملکت توحید کے خلاف ہونی والی اعداء اسلام اور باطل طاقتوں کی تمام ہرزہ سرائیاں اور غلط پروپیگنڈے ناکام و برباد اور خاک میں ملتے نظر آتے ہیں، ان کے تمام ہفوات و بکواس کو بے بنیاد ہونے کے سبب ملت کا باشعور اور عقلمند واسلام پسند طبقہ سائڈ کردیتا ہے۔
اللہ رب العالمین کا مملکت سعودی عرب پر خاص فضل اور کرم ہے کہ سعودی حکومت معاشی، اقتصادی، سماجی، سیاسی، فلاحی، رفاہی، زمینی ذخائر کی حصول یابی، قدیم و جدید تعلیم، بلند و بالا عمارتیں اور ایک مضبوط عسکری قوت کے لحاظ سے ہر میدان میں عالمی سطح پر اپنی حیثیت منوا چکی ہے۔
خادم الحرمين الشريفين کے دانشمندانہ اقدامات کو ضبط تحریر میں لانے کے لئے کافی وقت درکار ہے، جو مجھ ناتواں کے لئے ناممکن نہیں تو ازحد مشکل ضرور ہے، پھر بھی چند اقدامات جو امسال ایام حج میں انجام دئے گئے ہیں، انہیں ضبط تحریر میں لانے کی یہ ادنی کوشش ہے۔ احباب قارئین سے دعاء خیر مطلوب ہے:
حجاج کی تعداد میں اضافہ
مملکت سعودی عرب نے گذشتہ سالوں میں کرونا جیسے مہلک وبا کی وجہ سے محدود پیمانے پر ادائیگی حج کا حکم صادر فرمایا تھا لیکن امسال حجاج کی تعداد میں ریکارڈ توڑ اضافہ کرکے نہ صرف ملت کے مسلمانوں کو عبادت کا بہترین موقعہ عنایت کیا بلکہ پریشاں حال انسانوں کی بھرپور معاونت کرکے ایک سنہری تاریخ رقم فرمایا ہے۔ شعبہ احصائیات کے مطابق امسال کل 1,845,045 خوش نصیبوں نے فریضہ حج ادا کیا ہے جس میں دنیا کے مختلف ملکوں سے وراد ہونے والے مردوں کی کل تعداد1,660,915/ رہی، اور مملکت توحید سے کل 1,82,130/مرد و خواتین سعودی اور سعودی میں مقیم دیگر ملکوں کے افراد شریک ہوئے.
ضیوف خادم الحرمين پیکیج
مملكت سعودي عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود حفظہ اللہ نے سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے رواں سال 90/ ملکوں کے 1300/افراد چوٹی کے علماء و مفتیان سمیت لیڈران اور سیاسی، سماجی اور رفاہی طور پر سرگرم سرکردہ شخصیات کو اپنے خرچ پر حج کی ادائیگی کے لئے بلاد توحید سعودیہ عربیہ بلانا اور ان کے لئے اچھے ہوٹلوں عمدہ کھانے اور لگزری بسوں کا بہترین انتظام کرکے حج کی ادائیگی کے لئے ہر ممکن سہولت فراہم کرنا یہ بہت بڑا اعزاز اسلام اور ملت اسلامیہ کے لئے انتہائی عظیم سرمایہ افتخار ہے۔ کیونکہ ایسے خوش نصیبوں کو بیک وقت بادشاہ سعودیہ عربیہ کا مہمان بننے کے ساتھ اللہ رب العالمین کا بھی مہمان بننے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ مزید برآں ملک فلسطين کے شہداء کے ورثاء میں سے 1000/ خوش نصیبوں کو اور عاصفة الحزم فیصلہ کن جنگ جو ماضی قریب میں مملکت توحید سعودی عرب اور ملک یمن میں موجود حوثی باغیوں کے مابین ہوئی اس میں جام شہادت نوش کرنے والے جانبازوں کے ورثاء میں 1000/ افراد اور یمن کے متاثرین میں سے 1000/افراد نیز ملک یمن کے ہی 150/ علماء کرام سمیت ایسکو کے 130/ افراد اور ملک شام کے انتہائی پریشان حال مسلمانوں میں سے 230/ افراد کو بھی مملکت کے پاسبان نے اپنا مہمان بنا کر اعزاز اور سعادت بخشا۔ جس کی وجہ سے معزز مہمانوں سمیت اسلام کے غیور اور باعزم و حق گو مسلمانوں کے درمیان خوشی کی لہر دوڑ گئی اور سبھوں نے سعودی قیادت کی زبان حال اور زبان قال سے تائید اور حمایت کرنا شروع کردیا اور دعائیں دینے لگے۔ اللہ شرف قبولیت سے نوازے۔ امین
نظافت اور صفائی ستھرائی
مملكت سعودي عرب میں صفائی و ستھرائی پر خاص توجہ ہے کیونکہ طہارت و صفائی سے انسان صاف و شفاف اور نکھرا ہوتا ہے البتہ گندگی کے اثرات انسانی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں طہارت پر مذہب اسلام نے خوب ابھارا ہے قرآن مجید میں باری تعالی نے تذکیر کی ہے احادیث کے ذخائر میں طہارت کے متعلق محدثین نے کہیں کتاب الطہارہ تو کہیں ابواب الطهارة کے مضامین ذکر کرکے احادیث کو جمع کیا ہے تاکہ انسان کا ظاہر و باطن صاف ستھرا رہے اور امن و سلامتی کا خوشگوار ماحول قائم رہے۔ ایام حج میں بھی صفائی وستھرائی پر حکومت خاص توجہ رکھتی ہے اور سیکڑوں لوگوں کو حرمین شیریفین، مشاعر مقدسہ، سڑکوں، ہوٹلوں، ٹوائلٹ اور باتھ روم وغیرہ کی صفائی اور دھلائی پر مامور کرتی ہے تاکہ عازمین حج کو کسی طرح کی کہیں کوئی تکلیف نہ ہو جس سے ان کی طبیعت مکدر ہو اور ان کی عبادت میں خلل پڑے۔
طبی عملہ
سعودی ہیلتھ منسٹری کی رپورٹ کے مطابق سعودی فرماں روا نے مختلف امراض کی علاج کے لئے بڑے اور فن کے ماہر ڈاکٹروں کو بھی عازمین حج کی خدمت پر مامور فرمایا حتی کہ مختلف عوارض اور بیماریوں میں گھرے ہوئے حجاج کے لئے جدید سہولیات سے لیس ایمبولینس کے ذریعہ حج کی ادائیگی میں اپنا نمایاں کردار ادا کیا جیسا شہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ میں تین ایسے بیمار افراد جو اپنی بیماری سے انتہائی پریشان تھے اور حج کے ادائیگی کی ان کے سامنے کوئی سبیل نہ تھی فرزاندان توحید ہو جب اس کا علم ہوا تو تین خصوصی فلائٹ کے ذریعہ ڈائریکٹ انہیں میدان عرفات پہنچا کر ان کو ادائیگی حج کا سامان فراہم کیا حتی کہ سات روز کے درمیان شہر مکہ اور مدینہ کے اسپتالوں میں کئی سو مریض داخل ہوئے جن میں تقریبا 532/سرجری، 93 انڈاس کوپیز،1491/ ڈائلیسیز، 498/ دل کی اوپن ہارٹ سرجری عمل میں آئی۔ واضح رہے کہ آپریشنوں یا بیماری کی دواؤں کا سعودی عرب نے عازمین حج سے کوئی بھی معاوضہ نہیں لیا۔ اور عازمین حج کا فراخدلی سے بخوشی تعاون کیا اور اس تعاون کو اپنے لئے باعث شرف سمجھا۔ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔
سعودی سیکورٹیز اور فورسیز
مملکت سعودی عرب کے دیدہ ور اور معزز پاسبان نے اللہ کے مہمانوں کی خدمت کے لئے ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی غایت درجہ کوشش کی جس کے لئے ہر مقام پر سعودی عرب کے ٹریننگ یافتہ سیکورٹی اور فورسیز کی تعین کیا تاکہ بھٹکے، پریشاں حال اور بیمار ، لاغر اور انتہائی کمزور وناتواں، عازمین حج کو صحیح راستوں کی تعیین اور رہنمائی کرکے یا انہیں ویل چیئر یا گاڑی پر سوار کرکے، یا بخود انہیں سہارا دے کر ان کے حج کو مکمل ہونے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرسکیں۔
علماء اور مفتیان کی تعیین
مملکت سعودی عرب اسلام پسند ملک ہے جسے بعض دیگر امتیازات کے ساتھ مھبط وحی اور آخری نبی و سید الأنبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے پیدائش ہونے کا شرف حاصل ہے، علماء انبیاء کرام علیہم الصلاة والتسليم کے سچے جانشین اور حقیقی وارث ہیں اس لئے وہاں ملک کی جانب سے ملک و ملت کے الجھتے اور سلگتے مسائل کو سنجیدگی سے کتاب وسنت کی روشنی میں حل کرنے کے لئے علمی مسائل میں ید طولی رکھنے والے مستند اور باوقار علماء کرام کی ملکی سطح پر حکومت کی جانب سے ایک ٹیم مقرر ہے، مزید بر آن پورے ملک کے کونے کونے میں مدارس و مکاتب، مراکز وجامعات کا ایک عظیم جال بچھا ہوا ہے۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود حفظہ اللہ کی سرپرستی میں سعودی حکومت کا مختلف عالمی طاقتوں سے روابط استوار کرنا نیز جدید تعلیم کو فروغ دینے کے ساتھ تعلیم نسواں کو اہمیت دینا اور ٹیکنالوجی میں ترقی کرنا جیسے منصوبے شامل ہیں، جن میں کئی ایک پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں، ملک وملت اور قوم کے نونہالوں کے لئے جہاں کئی یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں آیا وہیں ملت کی خواتین اور حوا کی بیٹیوں کی تعلیم وتربیت اور ان کی اسلامی نہج پر نگہداشت کے لئے دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی الامیرہ نورہ بنت عبد الرحمن کو قائم کرکے ملت کے سامنے تازہ ترین ثبوت پیش فرمایا جبکہ برسوں پہلے جامعۃ الملک عبد العزیز جدہ میں خالص عورتوں کی تعلیم کے مختلف شعبے قائم کئے گئے تھے، ماضی قریب میں وہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ جس میں نصف صدی سے صرف علوم دینیہ کی تعلیم ہوتی تھی، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے بڑھا کر ملت کے سامنے دینی وعصری تعلیم وتربیت کا حسین تحفہ پیش فرمایا، ان خدمات کے اثرات بھی ایام حج میں انتہائی زیادہ ظاہر ہوتے ہیں کیونکہ مملکت توحید کے ایک انتہائی فعال شعبہ وزارت اسلامی امور و اوقاف کی جانب سے مشاعر مقدسہ میں مستند علماء کرام کے خطابات اور علمی دروس و لیکچرز کا اشتہار مرتب کرکے جاری کیاجاتا ہے اور مقرر علماء اپنے علمی دروس و محترم عازمین حج کی جانب سے آنے والے استفسارات و سوالات اور مسائل کا کتاب و سنت کی روشنی میں جواب دے کر عہدہ بر آ ہوتے ہیں۔ نیز مکہ اور مدینہ کے حرمین اور دیگر مقامات مقدسہ میں وہاں علماء سمیت ہونہار طلبہ کو بھی محترم عازمین حج کی صحیح رہنمائی کے لئے متعین کیا جاتا ہے تاکہ اللہ کے مہمانوں کی عمدہ ضیافت ہے ساتھ صحیح رہنمائی ہوسکے۔ نیز مقام عرفات کی مسجد نمرہ اور مسجد خیف میں وہاں کے چیدہ اور چنیدہ علماء کرام کو خطبہ اور علمی دروس کے لئے مقرر کرنا بھی ایک عظیم اور لائق تحسین قدم ہے۔
باشندگان مملکت کی بے لوث خدمات
سعودی عرب کے باشندگان کی ہمیشہ سے یہ روایت رہی ہے کہ وہ کار خیر میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں نیکی اور بھلائی کے کاموں میں پیش پیش رہنا ان کا شیوہ اور طرہ امتیاز رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ایام حج میں سعودی عرب کے جوانوں،بچوں اور بوڑھوں نے اللہ کے مہمانوں میں کبھی پانی ،کبھی جوس اور لسی، کبھی کھجور، کبھی بسکٹ تو کبھی کھانے کی پیکٹ تو کبھی پهل فروٹس کو تقسیم کرکے محترم حاجیوں کی بے لوث خدمت اور اجروثواب کے لئے سخت گرمی اور دھوپ میں کھڑےرہنے کو ترجیح دیا اور زمزم کے مبارک پانی کی سپلائی اور ترسیل کی ذمہ دار یونٹ پر ایک لمحہ اس کی ترسیل اور تقسیم میں کوتاہی نہ کی اور اللہ کے معزز مہمانوں کو مسلسل یہ متبرک اور مبارک پانی پہنچاتے رہے۔
باری تعالی کا لاکھ لاکھ شکر و احسان ہی کہ حج 2023م انتہائی پرامن طریقہ پر پایۂ تکمیل کو پہنچا اور کسی طرح کا کوئی بھی ناخوشگوار حادثہ رونما نہیں ہوا۔ ایام حج میں مملکت توحید سعودی عرب کی جانب سے اللہ کے مہمانوں کی خدمات پر مامور سعودی سیکورٹی فورسیز، ائمہ و مفتيان، علماء،دعاة اور طلبہ وغیرہ کی خدمات لائق تحسین ہیں۔
ہم اللہ رب العالمین کے شکریہ کے بعد کتاب و سنت پر گامزن حکومت سعودی عرب کے خادم الحرمين الشريفين شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، باعزم شہزادہ محمد بن سلمان نیز حج منسٹری کے چھوٹے بڑے تمام ذمہ داران اور وزارت اسلامی امور و اوقاف کے وزیر اور اس کے تمام ممبران، شعبۂ صحت کے معزز ارکان حفظهم اللہ کے شکرگذار ہیں۔
اللہ رب العالمین مملکت سعودی عرب کی ہر گام حفاظت فرمائے اورحکّام سمیت تمام باشندگان کی ایام حج میں اللہ کے مزز مہمانوں کی خدمات اور مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے۔آمین