ڈاکٹر شہاب الدین مدنی
سعودی عرب بے شمار خوبیوں سے مالا مال ملک ہے، مسلمانوں کے قبلہ والی یہ سرزمین عالمی قیادت کی لیاقت وقابلیت کے لئے نہایت کارگر عوامل میں سے ایک ہے، گاہے بگاہے پوری دنیا میں پھیلے مسلمانوں اور ان کے ساتھ دیگر تمام اقوام کو ہر شر وفتنہ سے محفوظ رکھنے کے لئے اسلام کی صاف وشفاف تعلیمات پوری دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے بہت مفید اقدامات اٹھائے جاتے ہیں تو اسی سرزمی سے، خاص کر مکہ سے بلند ہونے والی دانشمندانہ طاقتور اسلامی صدا پورے عالم میں آباد تمام انسانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی ہے. اس لئے عالمی مسائل کو اجاگر کرنے، ان کا مناسب تسلی بخش حل تلاش کرنے کے لئے، اس مقدس سرزمینِ پر اہم شخصیات کو مدعو کرکے کامیاب سیمینار وکانفرنس کا انعقاد ایک حکیمانہ اقدام ہے، جس پر وہاں کے فرمانروا خادم الحرمين الشريفين شاہ سلمان اور ان کے ہونہار صاحبزادے اور ولی عہد محمد بن سلمان حفظہما اللہ جن کی رعایت وسرپرستی ہی کامیابی کی ضمانت ہے تہنیت ومبارکباد کے مستحق ہیں. اسی طرح اسلامی امور کے چابکدست وزیر ڈاکٹر عبد اللطیف آل شیخ حفظہ اللہ جوکہ تخلیقی صلاحیتوں کے حامل باکمال ومنفرد صاحب بصیرت وفراست شخص ہیں، ان کا عہد تاریخی رہے گا اور ان کے سنہرے کاموں سے کئی نسل مستفید ہوتی رہے گی، ان کے عہد ساز کارناموں پر انہیں تہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، مکہ میں “تواصل وتکامل” کے عنوان سے موسوم دو روزہ کامیاب اور عصر حاضر کی ضرورت سے ہم آہنگ کانفرنس کا انعقاد انہی کی تخلیقی صلاحیتوں کا ایک مظہر ہے، دنیا کو اس اچھوتے عنوان سے جڑے اہم پیغامات دینے پر ہم سب ان کے شکر گزار ہیں.
سعودی عرب نے چند روز قبل روس اور یوکرین کے مابین مصالحتی کوشش کے ذریعہ پوری دنیا کو پیغام دیا کہ اس روئے زمین پر امن وآشتی سے زندگی بسر کرنے کا حق ہر فرد کا ہے جو کسی بھی صورت میں سلب نہیں کیا جانا چاہئے، اور کہیں کے بھی حالات کشیدہ نہیں ہونے چاہئے، اس طرح کی آواز وہی اٹھا سکتا ہے جو امن عالم کے حوالے سے فکرمند رہتا ہے جس کے خمیر میں انسانیت کی محبت ہوتی ہے. دیگر اقوام اور ملی ملکی عالمی رہنماؤں کو اس ملک کے حکمرانوں سے سیکھنا چاہئے.
بہادری کے پیکر سعودی عرب کے مخلص فرمانروا اس مذہب اسلام کے پیروکار ہیں جو مکمل امن وآشتی کا پیغام دیتاہے، جس کی پناہ میں انسان کے علاوہ پرندے اور جانور بھی شیر وشکر رہتے ہیں، ایسے دور اندیش بہادر حکمران ہی دنیا میں پائی جانے والی اضطرابی کیفیت کا ادراک کرتے ہیں اور اس کا معقول حل تلاش کرتے ہیں، حالیہ دنوں میں قرآن مجید جیسی مقدس کتاب کے جلانے جیسے تکلیف دہ واقعات رونما ہونے، فتنہ پرور نام نہاد مصلحین کی بیان بازیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پریشان کن صورتحال کے تناظر میں  سعودی عرب کے اسلام دوست حکمرانوں نے پچاسی ملکوں سے عظیم وباصلاحیت افراد کو یکجا کیا، ان سے تبادلہ خیال کیا، تاکہ پوری دنیا کو پیغام دیا جا سکے کہ اسلام کسی بھی غیر شائستہ عمل سے پاک دین ہے اس کی تعلیمات اعتدال ووسطیت پر مبنی ہے جہاں کہیں بھی کسی طرح کے فتنہ کو اسلام سے جوڑا جاتا ہے تو وہ اسلام سے دوری اور الحاد کا شاخسانہ ہے فہم سلف سے ہٹ کر کسی اور سوچ کو مسلط کرنے کا نتیجہ ہے. مبلغین ودعاۃ، ائمہ اور علماء ایسے عناصر سے آگہی رکھیں، اسلام کی صحیح تعلیمات سے لوگوں کو روشناس کرائیں، اسلام کا مثبت انداز میں دفاع کریں، پورے عالم کو متحدہ کوششوں کے ذریعہ شریروں کی شرارت گمراہوں کی گمراہی اور فتنہ پروروں کے فتنہ فساد سے محفوظ ومامون رکھنے کے لئے مثبت وسرگرم کردار ادا کریں.
اللہ تعالیٰ اس کانفرنس کو باور آور بنائے، سعودی عرب کی حفاظت فرمائے، مزید توفیق سے نوازے.