
جامعہ سراج العلوم السلفيه جھنڈانگر نیپال
____________________________
مملکت سعودی عرب اپنی تمام تر دینی، سیاسی اور انسانی خدمات کے سبب پورے کرہ ارض پر ہمیشہ سے ممتاز رہی ہے، چاہے ملک و ملت کی تعمیر و ترقی کا مسئلہ ہو یا مختلف ممالک سے اپنے ملک کے سیاسی، سماجی روابط اور تعلقات کی استواری، يا اقوام عالم میں بکھرے مسلمانوں کی خبر گیری، یا دعوت دین اوراسلام کی نشر واشاعت کا مسئلہ ہو، مصائب و آلام میں انسانیت کی امداد و تعاون، یا ناگہانی آفات وبلیات میں انسانوں کی ہمدردی و خیر خواہی کا معاملہ ہو، یا پوری انسانیت کو اسلام کی طرف دعوت دینے کی طرف ممکنہ وسائل اور اسباب پر غور و خوض اور بساط بھر تنفیذ وغیرہ کی بات ہو غرضیکہ مملکت توحید سعودی عرب کے معزز بانیان کرام نے جب سے مملکت کا کمان سنبھالا اسی دن سے قرآن و سنت کو مملکت کا بنیادی دستور مقرر کیا اور شریعت کی آبیاری کے لئے عزم وہمت کے ساتھ خود کو ذہنی طور پر تیار اور ہم آہنگ کرلیا۔
دین کے دونوں اہم اصولوں (کتاب وسنت) کی بھر پور آبیاری کی، تعلیم وتعلم کو عام کیا، قرآن مجید کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیا، مدارس و مراکز اور مختلف نوعیت کی تعلیم کے لئے پوری مملکت کے مختلف شہروں میں مختلف نوعیت کی يونيورسٹیاں قائم کیں، توحید کا پرچم لہرایا، ديني مسائل اور فتاوی کے لئے ماہرین اور مستند علماء کرام کی کمیٹیاں تشکیل دے کر ایک شعبہ بنام وزارت برائے اسلامی امور و اوقاف قائم کرکے نامزد علماء کو اس کی ذمہ داری سونپ دی۔ گویا ہرطرح سے اسلام اور مسلمانوں سمیت پوری انسانیت کی خدمت کا بیڑہ اٹھالیا۔
قرآن مجید اللہ کا کلام اور انسانیت کی فلاح و بہبودی کے لئے ایک روشن شاہراہ ہے جس پر عمل کرکے انسانوں کی زندگیوں میں انقلاب آسکتا ہے۔ اس کے پڑھنے پڑھانے پر اللہ رب العالمین نے کافی اجر وثواب رکھا ہے۔ اس پر عمل پیرا ہونے والوں کو باری تعالیٰ سر بلندی عطاء کرتا ہے نیز اس مہتم بالشان کتاب سے بے اعتنائی برتنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مملکت سعودی عرب کے حکیم و ہوشمند اور معزز حکام تعلیمات کتاب و سنت پر خود عمل پیرا ہونے کے ساتھ دونوں کی بھر پور خدمت انجام دے رہے ہیں جس کی ایک اہم مثال حالیہ ایام میں کعبہ شریف کے بالکل بغل اسکے پڑوس میں بین الاقوامی مسابقہ حفظ قرآن مجید کا انعقاد ہے۔ یہ مسابقہ کل پانچ اہم زمروں پر مشتمل ہے جس میں پوری دنیا کے 117ممالک سے بیشتر طلبہ کی شرکت متوقع ہے مشارکین کی آمد و رفت نیز قیام و طعام کا خرچ حکومت سعودی عرب کے ذمہ ہے نیز کم سن و نوخیز حافظ کے ساتھ بطور رفیق ایک سرپرست کے سفر کی بھی اجازت ہے جس کا صرفہ بھی حکومت سعودی عرب کی جانب سے واجب الاداء ہوں گی۔ مذکورہ مسابقہ میں انعامات کے لئے گرانقدر کئی کروڑ روپئے مختص ہیں۔ مسابقہ کی سرپرستی مملکت کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود رعاہ اللہ اور ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان حفظہ اللہ اور شعبہ وزارت برائے اسلامی امور اور دعوت و ارشاد کے وزیر عزت مآب ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ حفظہ اللہ اور وزارت اسلامی امور کے وکیل شیخ عواد السبتی العنزی حفظہ اللہ بڑی خوش اسلوبی اور دلجمعی کے ساتھ بین الاقوامی مسابقہ کی تنظیم و تنسیق کرکے کتاب اللہ کی خدمت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ رب کریم قبول فرمائے۔ آمین
البتہ واضح رہے کہ شہر مکہ مکرمہ کے میں منعقد ہونے والے اس مسابقہ میں ہمارے ملک نیپال سے بھی ایک خوش نصیب طالب کو شرکت کا موقعہ ملا ہے۔ جس کے لئے ہم اپنی اور اپنے اعزاء و اقرباء احباب و دین پسند دوستوں نیز اپنے ملک کے علماء و ذمہ داران کی جانب سے مملکت توحید کے حکام اور باشندگان کی جناب میں شکر بجا لاتے ہیں اور پرخلوص ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں اور مسابقہ کی بھرپور کامیابی کے لئے دست بدعا ہیں۔ اللہ تعالیٰ مملکت توحید کی جملہ خدمات کو شرف قبولیت بخشے۔ اور مملکت کو ہرگام چھوٹے بڑے تمام فتنوں سے مامون و محفوظ رکھے۔ آمین