
آج بتاریخ 9/9/2023 بروز سنیچر بمقام مرکز تحفیظ القرآن الکریم بھینسہیا روپندیہی نیپال میں جمعیت اہل حدیث روپندیہی کی جانب سے ایک پروگرام منعقد کیا گیا جس میں ضلعی و علاقائی ذمہ داران جمعیت کے ساتھ لمبنی سانسکرتک نگر پالیکا،شدودھن گاؤں پالیکا اور گیڑھوا گاؤں پالیکا میں واقع تمام مدارس و مکاتب کے نظماء،صدور، علماء کرام،احباب جماعت وجمعیت نیز دانشوران قوم وملت نے شرکت فرمائی،جس کی مختصر تفصیل یہ ہے ۔
پروگرام میں نظامت کی ذمے داری مشتاق احمد رئیس سلفی کو سونپی گئی جبکہ صدارت کا فریضہ جماعت کے معروف اسکالر شیخ مطیع اللہ حقیق اللّٰہ مدنی حفظہ اللہ نے ادا کیا، پروگرام کا آغاز مرکز تحفیظ القرآن الکریم بھینسہیا کے ایک طالب علم حافظ محمد ابرہیم نے تلاوت قرآن مجید سے کیا اس کے بعد اسی مرکز کے ایک طالب علم نے نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کیا پھر باقاعدہ خطاب کا سلسلہ شروع ہوا۔
چنانچہ سب سے پہلے جمعیت اہل حدیث روپندیہی کے ناظم عمومی شیخ صلاح الدین مدنی حفظہ اللہ نے کلمہ تشکر پیش کیا جس میں انہوں نے مختصراً جمعیت کے اغراض اہداف ذکر کرنے کے ساتھ موجودہ دور میں اسے کن کن مسائل وچیلنجز کا سامنا ہے اور ان سے دفاع کی کیا صورت ہے وغیرہ پر روشنی ڈالی۔
اس کے بعد پہلا خطاب شیخ عبد الحق مدنی حفظہ اللہ کی طرف سے پیش کیا گیا جس میں انہوں نے “دعوت وتبلیغ کے اسالیب کیا ہیں؟” کے موضوع پر کئی نکات پیش کئے اور قرآن مجید کی اس آیت ” أدع إلى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة ” کے تحت عمدہ پیرائے میں مؤثر بیان کیا۔
اس کے بعد دوسرے محاضر کی حیثیت سے ہند ونیپال کی معروف شخصیت فضیلۃ الشیخ عبد الرحیم صاحب امینی حفظہ اللہ تشریف لائے آپ نے صحیح مسلم کی اس روایت کو جو حضرت سلیمان علیہ السلام کی ان کی بیویوں کے تعلق سے ہے اور جو مختلف سندوں سے آئی ہوئی ہے اس کے تعلق سے جماعت اسلامی کے بانی مودودی صاحب کے جو شکوک وشبہات اور اوہام و خرافات ہیں ان کا زبردست پوسٹ مارٹم کیا۔
اس کے بعد تیسرے محاضر کی حیثیت سے شیخ عبدالقیوم صاحب مدنی حفظہ اللہ تشریف لائے آپ کا موضوع تھا “منہج سلف کی اہمیت وضرورت”موصوف نے اپنے خطاب میں اس بات پر بڑا زور دیا کہ منہج سلف کیا ہے؟اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو طریقہ ہے جس پر صحابہ کرام،تابعین اور تبع تابعین وغیرہ چلے درحقیقت ہمیں بھی اسی طریقے پر چلنا چاہیے اور جو باطل تحریکیں ہیں ان سے محتاط ہوکر رہنا چاہئے کہ یہ ہمیں ہمارے مقاصد سے دور کر دیں گی۔
اس کے بعد صدارتی خطاب پیش کرنے کے لئے فضیلة الشیخ مطیع اللہ حقیق اللّٰہ مدنی حفظہ اللہ اسٹیج پر تشریف لائے آپ نے کتاب وسنت کی روشنی میں نہایت وقیع اور فاضلانہ خطاب کیا آپ نے گمراہ فرقوں مثلا(جہمیہ،قدریہ، معتزلہ، جبریہ، مشبہ اور خوارج وغیرہ) سے متنبہ کیا اور یہ بتایا کہ اگر کوئی فرقہ ناجیہ ہے تو وہ اہل حدیث ہے جسے اہل سنت والجماعت بھی کہتے ہیں جیساکہ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی سب کے سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک فرقہ کے اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے طریقے پر چلنے والے ہوں گے ۔
صدارتی کلمات کے بعد حاضرین کی جانب سے سوالات کا دور شروع ہوا جن کے تشفی بخش جوابات شیخ عبد الرحیم صاحب امینی اور شیخ مطیع اللہ صاحب مدنی حفظہما اللہ نے دئے’صدر مجلس نے فرمایا کہ آج کے اس پرفتن دور میں کتاب و سنت کی دعوت سلف صالحین کے فہم کے مطابق مثبت دعوت ضروری ہے اور داعی کے لئے جذباتیت سے کنارہ کشی اور مثبت سوچ انتہائی اہم ہے
اور پھر اخیر میں جمعیت کی طرف سے ماہ نومبر کے آخر میں عقیدہ توحید کے موضوع پر مسابقے کے اعلان کے ساتھ پروگرام کے اختتام کا اعلان ہوگیا ۔
پروگرام کو زینت بخشنے والے محترم علماء کرام میں سے شیخ ابرار احمد مدنی کلیۃ حفصہ للبنات رہرا کپل وستو ، شیخ محمد نسیم المدنى مرکز السنۃ ایکلا ‘شیخ پرویز عالم ریاضی استاذ مدرسہ اسلامیہ فیض العلوم پڑریا ‘شیخ ضیاء الدین ریاضی مرکز الدعوۃ والتعلیم تنہوا’ شیخ عبدالقیوم فیضی، شیخ محمد زید فیضی، شیخ نثار احمد فیضی، شیخ شجرالدین اثری، شیخ فضیل احمد مدنی، شیخ سلیم احمد ریاضی، شیخ محمد سعی عالیاوی، شیخ مشتاق احمد سلفی اور حافظ عبد السبحان صاحب وغیرھم حفظھم اللّٰہ نے شرکت فرمائی.
الحمدللہ یہ دعوتی پروگرام بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ چلا اور سامعین اور علماء کرام کی معتدبہ تعداد نے پوری توجہ اور انہماک سے مہمانان گرامی کے خصوصی خطاب اور دوسرے علماء کے بیانات کو بغور سماعت کیا
اللّٰہ تعالیٰ اس پروگرام کو کامیاب بنائے اور جمعیت کے کاز کو مزید آگے بڑھانے کی توفیق ارزانی نصیب کرے آمین