صلاح الدین خان لیث محمد نیپالی
مرکز الصفا الإسلامى روپندیہی نیپال

مادر وطن کی راجدھانی کاٹھمانڈو میں وزارۃ الشؤون الاسلامیۃ سعودی عرب کے زیر نگرانی مسلم آیوگ نیپال کے معرفت 19/18 ستمبر 2023کو دوروزہ سیمینار “اسلامی رواداری اور پرامن بقائے باہمی ” کے موضوع پر marriott hotel میں اختتام پذیر ہوا.
محترم جناب شمیم میاں انصاری حفظہ اللہ صدر مسلم آیوگ نیپال کانفرنس کی صدارت فرما رہے تھے اور مہمانان خصوصی کے طور پر قومی اسمبلی کے اسپیکر عالی مقام گنیش پرشاد تیملسینا صاحب ‘سعودی عرب سفارت خانہ کے سفیر برائے نیپال عالی جناب سعد بن ناصر ابو حیمد اور اسی طرح سے وزارت برائے اسلامی امور ریاض کے وکیل فضیلة الشیخ ڈاکٹر عواد سبتی العنزی حفظہم اللہ تشریف فرما تھے ۔
سیمینار کا آغاز ملک نیپال کے دستور کے مطابق قومی ترانہ نیپال پڑھا گیا پھر قومی ترانہ سعودی عرب بھی گنگنایا گیا اور اس کے بعد باضابطہ تلاوت قران مجید سے پروگرام کا آغاز ہوا سب سے پہلے ڈاکٹر عبدالغنی القوفی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا اور اس کے بعد معزز و مؤقر مہمان ذی وقار ڈاکٹر عواد سبتی العنزی وکیل وزارت برائے اسلامی امور ریاض نے اپنا قیمتی افتتاحی خطاب پیش کرتے ہوئے محاسن اسلام پر روشنی ڈالی اور تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا ۔سمپوزیم کے دوسرے مہمان خصوصی نیشنل اسمبلی کے اسپیکر عالی جناب گنیش پرساد تیملسینا نے کہا: نیپالی مسلمان ہر قسم کے فساد اور شر انگیزی سے دور ہیں انہوں نے امن کا کردار ادا کیا ہے آپ نے مزید کہا مدرسہ بورڈ کی جلد تشکیل مسلمانوں کے تعلیمی مسائل کو حل کردے گی اس طرح افتتاحی تقریب اپنے اختتام کو پہونچا ۔
اس کے بعد کانفرنس کی دوسری نشست فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عواد سبتی العنزی حفظہ اللہ کے خطاب سے ہوا آنجناب نے فرمایا: اسلام اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے ہمارے لئے شرف کی بات ہے کہ ہمیں اس کا متبع بنایا، اسلام اپنانے کا حکم اللہ کا ہے جوکہ حتمی اور الزامی ہے یہ اختیاری نہیں ہے اس لئے اسے سیکھنا سمجھنا ہم سب کے لئے ضروری ہے.
سچا مسلمان وہ ہے جو اسلام کے ظاہری اور باطنی دونوں امور پر عمل کرے، منہج اسلام کا پابند بنے، نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی اسی کی آئینہ دار ہے، ہم سب اسی نہج پر چلیں.
کسی بھی تنظیم جماعت میں تشدد اسی وقت آتا ہے جب وہ منہج اسلام سے دور ہو جائے کیونکہ تشدد کی وجہ غلو اور انحلال ہے، جو بھی جماعت افراط وتفریط میں ملوث ہوگی انتہا پسند ہوگی. سعودی عرب کو انتہاپسندی سے لڑنے کا کامیاب تجربہ ہے ہم سب اس ملک کے تجربہ سے فائدہ اٹھائیں.
شیخ عبدالرحمن الفریح نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ہمارا دین دین احسان ورحمت ہے۔اس میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔اور دین اسلام زندگی کے ہر شعبہ میں عدل وانصاف امن ویکجہتی اور خیرشگالی کی تعلیم دیتا ہے ۔
شیخ ڈاکٹر عبد اللہ ابراہیم اللحیدان نے اپنے خطاب میں کہا: اسلام غلوو تطرف ظلم وعدوان سرکشی و تعدی سے منع کرتا ہے ۔
اس دوروزہ سیمینار میں بلا تفریق مسلک وملت ملک کے مسلم دانشوران ، مختلف جامعات و مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران علماء کرام ، سینئر اساتذہ مسلم وغیر مسلم سیاست دان کی ایک بڑی تعداد شریک رہی۔
کانفرنس کے دوسرے دن دونوں محاضروں کے بعد آخری و تکریمی پروگرام رکھا گیا جس میں خصوصی طور پر سعودی ایمبیسی کےسعادة سفیر سعد بن ناصر ابو حيمد اور وکیل وزارہ اور مسلم آیوگ کے صدر اور دیگر معزز و محترم مہمانان گرامی کی موجودگی میں تمام مشارکین حضرات کو سیمینار کے طرف سے ایک خوبصورت بیگ اور دیگرچیزوں سے ان کی تکریم وتوقیر کی گئی اس کے بعد سیمینار تمام تر رعنائیوں اور خوبیوں کے ساتھ پائے تکمیل کو پہنچا،
اس پر مسرت اور بیش بہا موقع پر اور کانفرنس کے بحسن خوبی اختتام پر ہم خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود حفظہم اللہ کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں جن کی رعایت سے یہ کانفرنس منعقد ہوئی اور اسی طرح سے وزارت برائے اسلامی امور کے وزیر ڈاکٹر عبداللطیف بن عبدالعزیز آل شیخ حفظہ اللہ کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں اورساتھ ہی ساتھ سعادتِ سفیر سفارت خادم الحرمین الشریفین نیپال سعد بن ناصر ابو حیمد حفظہ اللہ اور وزارت برائے اسلامی امور کے ریکٹر ڈاکٹر عواد سبتی العنزی حفظہ اللہ اور مسلم آیوگ کے صدر شمیم میاں انصاری اور ملحق دینی کے ذمہ داران فضیلۃ الشیخ بدر بن ناصر العنزی اور عبداللطیف بن عبدالصمد الکاتب حفظہم اللہ کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جن کی انتھک کوششوں سے سمپوزیم بحسن وخوبی پائے تکمیل کو پہنچا.
اللہ تعالی ٰتمام مشارکین و محاضرین کو جزائے خیر سے نوازے اور ہمارے اس سمپوزیم کو انسانی معاشرے، عالمِ اسلام اور امت مسلمہ کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنائے اور ہم سب کو اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کی توفیق دے الہ العالمین پاسبان توحید مملکت سعودی عرب کی مکمل طور پر حفاظت فرمائے آمین یا رب العالمین۔


