تڑپے ہے لہو دیکھو!اقصی کی زمینوں پر
کیوں ترس نہیں آتا،مظلوم حزینوں پر
تاراج ہوا گلشن، اور تلف ہوئی جانیں
ہر ظلم روا رکھا،غزہ کی مکینوں پر
یہ موت کے سوداگر،انسان کے دشمن ہیں
بمباری یہ کرتے ہیں،پُر امن زمینوں پر
غزہ کے جوانوں نے ،ہمت نہ کبھی ہاری
گو گولی رہے کھاتے،خود اپنے ہی سینوں پر
رحمان کی رحمت ہو،ایسے ہی دلیروں پر
بل آنہ سکا جنکی ، ایمانی جبینوں پر
بس ایک نصیحت ہے،یہ اپنے جوانوں کو
تم جاں نہ کبھی چھڑکوں،ان جھوٹے حسینوں پر
مغموم سراجیؔؔ تم ،بس ایک دعا کرنا
اللہ کی لعنت ہو، بمبار مشینوں پر