صلاح الدین لیث محمد نیپالی
مرکز الصفا الإسلامى روپندیہی نیپال

مملکت سعودی عرب دنیا کا ایسا مثالی اور قابل رشک ملک ہے جس کا بنیادی دستور کتاب وسنت ہے ۔
مملکت توحید کی خصوصیات میں یہ چیز شامل ہے کہ جب بھی دنیا کے کسی گوشے میں انسانیت آسمانی یا زمینی مصیبتوں سے دو چار ہوتی ہے تو بذات خود حکمران مملکت اور عوام بغیر کسی مذہبی تفریق کے امدادی تعاون پیش کرنے میں سبقت لے جاتےہیں۔اس وقت فلسطین اور اسرائیل کے درمیان زبردست جنگ چھڑی ہوئی ہے جو پورے عالم اسلام کے لیے ایک آزمائش ہے۔ہر روز اسرائیل معصوم فلسطینیوں کا بہیمانہ قتل کررہاہے جس کی تعداد ذرائع ابلاغ کے مطابق دس ہزار سے متجاوز ہے جس میں اکثریت بچوں خواتین اور بزرگوں کی ہے
الحمدللہ ایسے وقت میں سعودی عرب بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہم منظم کردار ادا کرتا نظر آرہا ہے عرب اسرائیل جنگ سے لے کر آج تک سعودی عرب نے بحمد اللہ فلسطینیوں کو کسی بھی موقع پر اکیلا نہیں چھوڑا خصوصا حالیہ دنوں میں پاسبان مملکت توحید شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز حفظہم اللہ نے ہر موڑ پر مسئلہ فلسطین کو منظم انداز میں اجاگر کیا ہے۔
حالیہ دنوں میں اسرائیل فلسطینی عوام پر جو ظلم وزیادتی کے پہاڑ ڈھانا شروع کیاہے، اور وہاں کی عوام کا بے رحمی سے قتل کرنا شروع کیا ہے، یہاں تک اہل فلسطین روز مرہ کی ضروریات سے محروم ہورہے ہیں، ان مظلوم فلسطینیوں کی مدد کے لئے مملکت سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود حفظہما اللہ۔نے ساہم ایپ کے ذریعہ پہلے اپنا قیمتی تعاون پیش فرما کر سعودی عوام سے امدادی مہم کی اپیل کی اور دیکھتے ہی دیکھتے (300)ملیون ریال سعودی سے زائد کا گراں قدر عوامی عطیہ جمع ہوگیا۔
اور ابھی تک سلسلہ جاری وساری ہے۔
دعا ہے کہ رب العالمین مملکت سعودی عرب اور پاسبان توحید شاہ سلمان بن عبدالعزیز وولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود حفظہم اللہ اور باشندگان مملکت سعودی عرب کے خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے اور ان کے قدموں کو ثابت قدم رکھے اور حاسدین کے شر سے ان کو محفوظ رکھے۔ جو بھی مملکت توحید کے لئے سازشیں رچ رہے ہیں ان کی سازشوں کو ناکام بناۓ۔آمین یار ب العالمین۔