انا للہ ونا الیہ راجعون۔

اللہ مولانا کی بال بال مغفرت فرمائے ، بشری لغزشوں کو درگزر فرمائے آمین۔

مولانا لب سرحد جامعۃ الاصلاح غوری میں اپنی عمر کا پورا حصہ گزار دیا، بلکہ یہ کہہ لیں جامعہ کے ہوکر رہ گئے، شعر وسخن سے محبت ایسی تھی کہ برجستہ کہہ دینے والے اسلامی شاعر تھے،کسی بھی موضوع پر آپ شعر بامعنی کہہ دینے کی صلاحیت رکھتے تھے، کئی شعری مجموعے زیور طبع ہوکر حلقہ ادب میں آکر شمع کو جلا کر فضاکو مسحور کرچکے ہیں اسی طرح آپ کے اشعار ھندونیپال کے ہر اخبار وجرائد مجلات ، رسالے ماھنامے سہ ماہی میں شامل اشاعت ہوئے ہیں، کئی مدرسہ کا ترانہ لکھ چکے ہیں اور افسوس کہ وہ شخصیت جو کل تک کسی کی وفات پر تازیتی پیغام ادبی انذاز میں پیش کرتے تھے،افسوس آج وہ خود ان شخصیتوں کے فہرست میں شامل ہوگئے جو کل تلک ان کے ساتھ ہوا کرتے تھے،

دنیا فانی کا نظام ہی کچھ اس طرح ہے۔

ذرائع کے مطابق حادثے میں جانبحق ہوئے ہیں مگر حادثہ کی تفصیل نہیں مل سکی ہے۔

ممتاز احمد سالک بستوی سڑک کے حادثہ میں جانبحق