
اللہ لغزشوں کو درگزر فرمائے آمین
تحریر: شمیم عرفانی
اسلامک دعوہ سینٹر عفیف
گذشتہ کل بروز سنیچر مورخہ 22/رجب 1445ھ مطابق 3 ، فروری 2024ء سوسشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی اس اندوہناک خبر نے دینی وعلمی حلقوں میں ہر صاحب قلب ونظر کو قلق واضطراب اور رنج و غم میں مبتلا کردیا کہ جماعت کےغیور عالم دین باحمیت داعی ،لائق وفائق کہنہ مشق مدرس، اور دیدہ وَرشاعرِ فضیلۃ الشیخ ممتاز احمد سالک عالیاوی بستوی ( رحمہ اللہ تعالی واسکنہ الفردوس من جناتہ) اچانک سڑک حادثہ میں وفات پاگئے آپ ؒکی خبر وفات دل ودماغ پر صاعقہ بن کر گری ، اور یہ اندوہناک وجانگسل خبرجنگل میں آگ کی مانند پھیل گئی ،چاروں سمت ایک کہرام بپا ہوگیامیں شخصی طور پر خود سر اَسیمہ اور ششدر تھا یقین کرنا مشکل ہورہاتھا کیونکہ وفات سے ایک روز قبل گزشتہ جمعہ کو آپ رحمہ اللہ سے مراسلت کے ذریعہ سلام ودعا اور پرسش احوال ہوئی تھی اور آج اس حادثہء فاجعہ نے قلب وذہن کو یکسر ہیجانی کیفیت میں مبتلا کردیا یقینا انکھیں اشکبار ہیں ، دل غمزدہ ہے اور ہم سب آپ ؒکی اس ناگہانی مفارقت پر رنجور ہیں،لیکن اہل ِایمان بندے ہر آن اور گام اللہ کے فیصلوں سے سدا راضی رہتے ہیں اس لئے ہم بھی وہی بات کہیں گے جو ہمارے حق تعالی کی رضا اور خوشی کا باعث ہو، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔موت ایک تلخ حقیقت ہے ہم سبھی اللہ کی طرف جانے کیلئے قطار میں کھڑے اپنی اپنی باری کے انتظار میں ہیں ، یہی سچائی ہے : رفیقانِ سفر تو چل بسے اَب اپنی باری ہے۔
بس،اللہ مولائے کریم ہم سب کو حسن ِخاتمہ کی نعمت سے شاد کام فرمائے۔آمین۔
مولانارحمہ اللہ مختلف الجہات شخصیت کے مالک تھے رب ذوالمنن نے آپ ؒ کو گوناگوں ستودہ صفات اور خوبیوں سے بہرہ وَر فرمایا تھا آپ کہنہ مشق مدرس ومعلم بھی تھے اورتجربہ کار مصلح وداعی بھی ، سخن طراز ، زود گو شاعر بھی تھے اوربہترین قلمکار اورادیب ِ شہیر بھی ، صاحب ِ طرز خطیب بھی تھے اور جمعیت وجماعت کا سرمایہء افتخار بھی ۔تواضع ، سادہ مزاجی ، خندہ جبینی ، شیریں کلامی،کشادہ ظرفی اور جانفشانی آپ کی شخصیت کے اعلی وارفع مظاہر میں شامل ہیں آپ ؒ کو رب ِ صمد کی طرف سے سلفِ امت، اکابر جماعت اور اَصحاب علم وفضل سے عقیدت وشیفتگی کا خوب خوب حظِ وافر ملا تھا یہی وجہ تھی کہ چھوٹا ہو یا بڑا ہرصاحب علم اور صاحبِ دین کے سانحہء وفات پرآپ کا اشہب ِ قلم فورا جنبش میں آجاتا اور منظوم تعزیتی کلام کے ذریعہ آپؒ سب کو خراج عقیدت پیش کرنےمیں سبقت لے جاتے۔رحمہ اللہ تعالی ۔
مولانا موصوف رحمہ اللہ کی عملی زندگی کم وبیش چار دہائیوں کو محیط ہے آپ رحمہ اللہ نےجامعہ دار الہدی یوسف پور،جامعہ سراج العلوم بونڈھیار اور جامعہ عالیہ عربیہ مئو سے اپنے تعلیمی مراحل کی تکمیل اور سندِ فراغت سے سرفراز ہونے کے بعد تدریسی خدمات کیلئے سب سے پہلے ہمارے مولد ومسکن موضع ببھنی خرد ضلع مہراج گنج کے تعلیمی ودعوتی ادارہ مدرسہ دار القرآن والحدیث ببھنی خرد ، کلہوئی مہراج گنج کا انتخاب فرمایا ،اسی بقعہء نور پر آپؒ نے بحیثیت مدرس اپنا پہلا قدم رکھاان ایام میں آنمحترم ؒ کے برادر خورد جناب مولانا محمد اشرف راشد سراجی حفظہ اللہ بھی مدرسہ مذکورہ میں زیر تعلیم تھے ، شنید ہےکہ مولانا رحمہ اللہ کا ذوق شعر گوئی مدرسہ دار الہدی یوسف پور اور سراج العلوم بونڈھیار میں آپ ؒ کےایام طالبعلمی میں ہی انگڑائیاں لے رہا تھا اورعلم وادب کی فضا میں پرواز کیلئے اپنے پَر تول رہا تھا ،غالبا 1984ء کے پَس وپیش کا زمانہ تھا جب مدرسہ دار القرآن والحدیث ببھنی خرد ، کلہوئی مہراج گنج میں آپؒ بحیثیت مدرس قدم رنجہ ہوئے اس وقت مولانا ممدوح رحمہ اللہ کو شاعر جماعت، سحبان الہند استاذ گرامی مولانا ڈاکٹر ابو المآثر حامد الانصاری انجم جمال اثری رحمہ اللہ کو بہت قریب سے دیکھنے اور سننے کا سنہری موقع ملااس وقت مولانا انجم رحمہ اللہ کا فن شعر گوئی اور اسلوبِ خطابت کا چہار دانگ عالم بالخصوص اَطراف ہند ونیپال میں دور دور تک شہرہ تھا چنانچہ اس دَور مسعود میں شیخین کریمین رحمھما اللہ کے مابین علمی تعلقات اور قربتیں فزوں تر ہوتی گئیں اور پھر اسی گہوارہء علم وعرفاں میں آپؒ نے شعر وسخن فکر وفن اور علم واَدب کی بنیادیں استوار کیں تاہم شعری سفر کے آغاز میں میرے نانا محترم مولانا سید تجمل حسین منگلپوری خطیب گورکھپور رحمہ اللہ کے بقول آپ رحمہ اللہ براہ ِ راست مولانا ڈاکٹر انجم رحمہ اللہ سے خودنہ کہہ کرنانا منگلپوری رحمہ اللہ کے توسط سے اپنی شعری تخلیقات کی اِصلاح اور نظر ثانی کراتے چنانچہ یہیں سے فن شعر گوئی میں مولانا رحمہ اللہ ؒ کے پرِپرواز کو قوت وتوانائی ملی، آپ کے فن شعر گوئی کو جمالیاتی رنگ وروپ ملا اورجلا حاصل ہوئی اورآپ کا ستارہء اقبال بلند تر ہوتا گیا ،آپ ؒنے ہم طلبا کیلئے بہت ساری حمد ونعت اور شاہکار نغمےلکھے اورپھر مرورِ ایام کے ساتھ ساتھ آپؒ نے مختلف شعری اَصناف اور بحور میں لامعدود قصیدے ، رباعیات ،مخمس ومثمن اَبیات ،اسلامی ترانے ،تعزیتی نظمیں اورمتعددموضوعات پرخوب اَشعار لکھے ابتدائی دَور میں مدرسہ دار القرآن والحدیث کیلئے چھوٹی بحر میں آپ کا لکھا ہوا ایک ترانہ :
یہ مدرسہ باغ ِ جناں غنچے ہیں ہم سب شادماں
یہ سرزمیں ببھنی کی ہے دینی ہے اس میں گلستاں
اور آپؒ کی پہلی شعری تخلیق ایک منظوم حمد :
رب ِ عالم تو سب کا نگہبان ہے نام تیرا رحیم اور رحمان ہے
تو نے مٹی کو بخشی حسیں صورتیں تیری کاریگری کی عجب شان ہے
کو کافی شہرت اور پذیرائی حاصل ہوئی اورابھی چند ہی ماہ واَیام گزرے تھےکہ نہایت ہی قلیل مدت میں استاذ محترم رحمہ اللہ کا ایک شعری مجموعہ بھی چھپ کر منصہء شہود پر آگیامدرسہ دار القرآن ببھنی میں خاکسار نےآپ رحمہ اللہ کاصرف ایک یا ڈیڑھ سال کا زمانہ پایا ہے پھر 1986ء میں ،میں مزید حصول تعلیم کیلئے معہد التعلیم الاسلامی دہلی چلا گیا ،اوراستاذ محترم مولانا عالیاوی بستوی رحمہ اللہ نے بھی کم وبیش تقریبا تین یا ساڑھے تین سال کا عرصہ گزار نے کے بعد ببھنی خرد کو الوداع کہہ دیا تاہم مولانا رحمہ اللہ نےہمیشہ اپنی ذات کو انبیائی مشن سے مربوط رکھا دعوت وتدریس کے قصدوارادہ سے آپؒ ہند وستان کے مشہور شہر سورت بھی تشریف لے گئے اورپھر کچھ سالوں کے بعد آپ ؒنے اپنے مولد ومسکن موضع غوری ، سدھارتھ نگرکو اپنی دعوتی وتعلیمی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور جامعۃ الاصلاح اور جامعۃ المحسنات جیسے تعلیمی ودعوتی اداروں کو قائم کرکے قوم وملت پر زبردست احسانِ عظیم فرمایا ۔
اپنی شعری تخلیق کو مزید جلا اور نمو عطا کرنے اور ذوق شعر گوئی کواعتبار اورقوت بہم پہونچانے کیلئے آپ رحمہ اللہ نےجماعت کے معتبر اور نامورشاعرجناب مولانا عبد الرؤوف حیرت بستوی رحمہ اللہ سے بھی رابطے استوار کئے آپ کا ذوق شعر گوئی آسمان ِادب کی بلندیوں کو چھونے لگا یہانتک کہ آپ نےاپنے اس شعری سفر میں مختلف فنون شعر میں طالع آزمائی کی اور تمام فنون ِ شعر میں لیلائے کامرانی آپ ؒسے ہمکنار ہوتی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے کچھ ہی عرصہ میں آپ رحمہ اللہ کا نام عالمی شہرت یافتہ معتبر شعرا کے صف اول میں شمار ہونے لگا ایک ملاقات میں آپ ؒنے مجھے بتایا کہ ہیسویں صدی کی آخری دہائی میں آپ کی شعری تخلیقات آل انڈیا ریڈیو اسٹیشن سے بھی اردو نشریاتی پروگرام میں آپ ہی کی آواز میں براڈکاسٹ ہونے لگی تھیں جو یقینا شرف واعزاز کی بات ہے انہیں مبارک ایام میں آپ ؒنے مدرسہ دار السلام سلفیہ مڑلا نیپال کے لئے بھی ایک خوبصورت ترانہ : “دار السلام مڑلا کیا خوب ضو فگن ہے “
لکھا جو بڑا مشہور ہواآنمحترم رحمہ اللہ نے اپنی علمی ، دینی وادبی تخلیقات کی طباعت اور نشر واشاعت کیلئے موضع غوری میں ہی اپنا ایک اَدبی دفتربھی کاشانہء اَدب کے نام سے قائم کیا جہاں سے بہت سی مفیددینی وادبی کتب زیور طبع سے آراستہ ہو کر منصہء شہود پر جلوہ گر ہوئیں اور علمی ودینی حلقوں میں ان کو خوب داد اور پذیرائی ملی،میری طلابعلمی کے ایام میں کم وبیش 12، 13 سالوں تک مولانا موصوف رحمہ اللہ سے رابطہ منقطع رہا لیکن اس پورے عرصہ میں آُپ ؒ کا سراپامیرےدل و دماغ پر ہمیشہ چھایا رہا ،پھر میری بہت ساری مصروفیات اور خرابئ صحت کے باوَصف سوشل میڈیا کے ذریعہ طویل عرصہ سے میرا آپؒ سے مسلسل رابطہ رہا تاہم اس د۔وران شرف ِ ملاقات کی کوئی اِمکانی صورت پیدا نہیں ہوپائی،مولانا رحمہ اللہ سے ایک طویل زمانے کے بعدسال 2005ء کے کسی ماہ وتاریخ میں نچلول ضلع مہراج گنج میں واقع موضع کہڑول کےزیر اہتمام منعقدہ ایک اجلاس عام میں ملاقات ہوئی جس میں خطیب جماعت مو لانا غیاث الدین سلفی رحمہ اللہ ، مولانا مطیع اللہ سلفی کے ساتھ میں خاکساربھی بحیثیت خطیب مدعو تھا میرے ساتھ مولانا عبد الرؤوف اثری اور مولانا عبد الحق اشرف منگلپوری حفظہما اللہ بھی شریک ِ اجلاس تھےاس اجلاس میں آپ ؒ نے مجھ خاکسار پر ایک طویل نظم استقبالیہ لکھ کراسٹیج پر خود اس کو پڑھا اور مجھ پر اپنی شفقتوں اورمحبتوں کے ساغر انڈیلے ،پھر 6/ جون 2015ءبروز ہفتہ مولانا رحمہ اللہ میرے برادرِ نسبتی عزیز القدر سحر محمود سنابلی سلمہ اللہ تعالی کی تقریب ِ نکاح میں بھی تشریف لائے اور ایک خوبصورت منظوم تہنئتی قصیدہ لکھ کر ہم سب سے اپنی بے پناہ محبت ، دلی وابستگی اور والہانہ لگاؤ کا اظہار فرمایا،2016 ء میں آپؒ میری خرابئ صحت کی خبر سن کر عیادت کیلئے محب ِ مکرم فضیلۃ الشیخ نیازاحمد سراجی حفظہ اللہ کے ساتھ ببھنی میرے غریب خانہ پر بھی تشریف لائے اس ملاقات میں آپ نے مجھے اپنا شعری مجموعہ لالہء صحرا عنایت کیا اور بتایا کہ اولا کتاب کا نام یاسمینِ صحرا رکھا گیا تھا لیکن معروف شاعر وادیب محترم فضا ابن فیضی رحمہ اللہ کی تجویز پر اس کانام بدل کر لالہء صحرا اختیار کیا گیا ہے 30نومبر 2018 ءبروز جمعہ موضع دھنگڑوا ،ضلع سدھارتھ نگر میں مجھ احقر سے منسوب ایک خصوصی دعوتی اجتماع منعقد ہوا جس میں،مجھ خاکسار سے ملاقات کیلئےبہت سارے اصحاب علم وفضل کےعلاوہ مولانا موصوف رحمہ اللہ بھی تشریف لائے جو یقینا مولانا رحمہ اللہ کی عالی ظرفی اور وسعت ِ قلبی کا بڑاثبوت ہے۔ تغمدہ اللہ بواسع رحمتہ ۔آمین۔
اپنےمشفق استاذرحمہ اللہ سے میں نےجماعت ِ ادنی وغیرہ کی کلاسوں میں شرف ِ تلمذ بھی حاصل کیا ہے ،مدرسہ دار القرآن والحدیث ببھنی میں اَیام تدریس میں میرے گھرانہ بالخصوص والد، گرامی مولانا عرفان اللہ ریاضی رحمہ اللہ اور نانا منگلپوری رحمہ اللہ سے مولانا رحمہ اللہ کے مخلصانہ اور خیر خواہانہ مراسم اور روابط قائم تھے اکثر ملاقاتوں میں آپ ؒ ان ایام کا وفور شوق ومحبت کے ساتھ ذکر خیر فرماتے مولانا عالیاوی رحمہ اللہ 2015ء کے ماہ جنوری میں میرے پاس شہر عفیف میں بھی تشریف لائے اور تقریبا ہفتہ عشرہ اَیام تک آپ ؒنے عفیف میں قیام فرمایا اور ہم سب کواپنی خدمت کا زریں موقع عنایت کیا اور 29 جنوری 2015بروز جمعرات بعد از صؒلاۃ عشا ء اسلامک دعوہ سینٹر عفیف کے آڈیٹوریم ہال میں “فکر آخرت “کے موضوع پر آپ کا پر مغز ، وقیع اور ایمان افروز خطاب ہوا اورپروگرام کے اختتام میں آپ کے اعزاز میں ایک شعری نشست بھی منعقد کی گئی جس میں ہند ونیپال اور پاکستان وغیرہ کے بہت سارے اَحباب واِخوان کے علاوہ مولانا عبید اللہ فیضی ، مولانا امیر الدین عالیاوی ، مولانا نظام الدین سلفی ، مولانا انور عالیاوی ، انجینیئر محمد اقبال علی اور سلمان عرفانی وغیرہ جیسے کئی اصحاب علم بھی شریک ہوئے ،سال 2023ء کے ماہ ِ دسمبر کے اواخر میں میں آپ ؒنے اپنی حیات وخدمات پر زیر ترتیب ایک کتاب بنام “سخنہائے اہل قلم” کے حوالہ سے بشارت سنائی اور اس کیلئے مجھ ذرہء بے مقدار سے قلبی تاثرات واحساسات لکھنے کی فرمائش بھی کی نیزمولانا رحمہ اللہ نے خود میرے والد گرامی مولانا عرفان اللہ ریاضی رحمہ اللہ کی حیات وخدمات پر زیر ترتیب کتاب کیلئے کچھ اپنے قلبی تاثرات لکھنے کا بھی وعدہ فرمایا تھا۔۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ۔
اب مولانا رحمہ اللہ ہمارے درمیان نہیں رہے یقینا آپ رحمہ اللہ کا سانحہء ارتحال علمی وادبی دنیا کیلئے زبردست خسارہ ہے نیزآپ ؒ کی وفات سے جماعت میں بھی ایک وسیع خلا پیدا ہوگیا ہےآپ ؒبہت جلد ہم سب کو سوگوا رچھوڑکر دار ِ بقا کو رحلت فرما گئے تاہم آپ ؒ کی محبتیں ، یادیں اور زندگی کے نقوش تاحین ِ حیات ہم سب کے لوح دل ودماغ پر مرتسم رہیں گے ان شاء اللہ ، مولائے کریم اُپ ؒ کی بشری لغزشوں کو در گزر فرمائے ، آپ ؒ کی آل واولاد اور تمام پسماندگان کو ثبات واستقلال ، حوصلہ وہمت ، عزیمت اور صبر ِ جمیل کی توفیق ارزانی بخشے ،آپ رحمہ اللہ کو فردوس ِ اعلی کا مکین بنائے ، درجات بلند کرے ،آپ کی قبر کو انوار وتجلیات سے معمور فرمائے ۔ آمین۔
[ رَبَّنَا ٱغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَٰنِنَا ٱلَّذِينَ سَبَقُونَا بِٱلْإِيمَٰنِ وَلَا تَجْعَلْ فِى قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ رَبَّنَآ إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ] ۔ سورۃ الحشر﴿10﴾ آمین یاربالعالمین.
شمیم عرفانی
عفیف ، سعودی عرب