انعام اللہ محمد شفیق المدنی
                            مدرس جمعية التوحيد الخيرية بجوا نيبال

سعودی حکومت اللہ کی ایک عظیم نعمت اور اس کا خاص فضل ہے جس کا دستور کتاب وسنت ہے اور اپنے قیام کے پہلے ہی دن سے حرمین شریفین کی خدمت، دونوں کی تعمیر و توسیع، صفائ ستھرائ اور ضروریات کی فراہمی اور سنت کے مطابق اور حج وعمرے کیلۓ دیگر تمام سہولیات فراہم کرنا اپنا مقدس فریضہ سمجھتی ہے۔
سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ نے سال 2024  کیلۓ پوری دنیا سے تقریباً ایک ہزار بڑی شخصیات کو شاہی خرچ پر عمرے کیلئے مدعو کیا ہے ۔ ان شاہی مہمانوں میں مدارس وجامعات کے اساتذہ اور جمعیت و جماعت اور دعوتی تنظیموں کے ذمہ داران، مساجد کے با اثر ائمہ وخطباء حضرات اور ممتاز صحافی وصاحب قلم جیسی شخصیات کو مدعو کیا جاتا ہے۔ اسی طرح برنامج ضیوف الرحمان کے تحت کچھ ممالک کے ستم خوردہ افراد ، معذور افراد اور تباہی و بربادی کے شکار افراد کو بھی یہ حکومت حج و عمرے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ ان شخصیات کے انتخاب کے بعد عمرہ وحج کیلئے نکلنے سے لیکر انکی واپسی تک ساری ضروریات ان خوش نصیبوں کو سعودی حکومت سے مفت فراہم کی جاتی ہے جس میں ہوائی جہاز کا ٹکٹ ویزہ، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور دیگر مشاعر مقدسہ کی زیارت، کھانے پینے کی ساری سہولتیں حکومت خادم حرمین شریفین کی طرف سے فراہم کی جاتی ہیں ۔ بلا شبہ مملکت توحید کا یہ کارنامہ لائقِ صد ستائش ہے اس سے پوری دنیا کے افراد مستفید ہوتے ہیں اور کعبہ اللہ اور مسجد نبوی کی زیارت کر کے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دلوں کو سکون فراہم کرتے ہیں۔
ہمارے ملک نیپال سے بھی امسال  تقریباً دس افراد  الحمد للہ شاہی خرچ پر عمرے کی سعادت حاصل کرنے کیلۓ روانہ ہو چکے ہیں جس میں مولانا زاھد آزاد جھنڈا نگر امیر کارواں ہیں اور انکے ہمراہ دیگر نو اہم شخصیات شامل ہیں۔ 
یقیناً سعودی حکومت کی اس فیاضی اور سخاوت پر جتنا شکریہ ادا کیا جائے اتنا ہی کم ہے۔ اللہ سے دعا ہیکہ اللہ رب العالمین سعودی عرب کی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں امت مسلمہ اور عالم اسلام کی خدمات کیلۓ ہر طرح کا صلہ اور بہترین بدلہ دنیا اور آخرت میں عطاء فرمائے اور حجاج و معتمرین کی مزید خدمات کی توفیق دے۔آمين