
ابوعبدالبر عبد الحئی المدنی
ماہ رمضان مسلمانان عالم کے لئے نیکیاں کمانے کا ایک سنہرا موسم ہے اس میں دیگر مہینوں کے بالمقابل چھوٹے بڑے مردوخواتین روزہ رکھنے اور تلاوت قرآن کریم وتراویح کی نماز پڑھنے میں زیادہ سرگرداں نظرآتے ہیں کیونکہ ماہ رمضان کے روزے اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے ‘رمضان کی آمد زندگی میں عبادت کو پہلی صف میں لادیتی ہے مساجد نمازیوں سے بھردیتی ہے۔
عرب ممالک میں سحری کے لئے جگانے والوں کو مساہرتی’ مکرمہ میں زمزمی’کویت میں ابو طبیلہ اور بر صغیر ہندوپاک میں سحر خواں کہتے ہیں۔گو یہ سلسلہ پرانا ہے جو ہنوز جاری ہے۔
مختلف اسلامی ممالک یا مسلم بستیوں میں سحری کا وقت شروع اور ختم ہونے اور افطار کے وقت کا آغاز ہونے کی اطلاع دینے کے لیے صدیوں سے مختلف طریقوں پر عمل کیا جاتارہا ہے’سحری کے اوقات میں سڑکوں ‘گلیوں اور محلوں میں ڈھول،دف، سائرن بجاکر ‘توپ کے گولے داغ “کر یا فانوس (لالٹین) جلاکر یا موسیقی کے مختلف آلات کے ذریعہ روزہ داروں کو سحری کے لیے جگانا بعض اسلامی ممالک کی ثقافت وروایت رہی ہے جو کسی نہ کسی صورت میں آج بھی برقرار ہے ذیل میں اسلامی ممالک و برصغیر ہندوپاک میں سحری کےلئے جگانے کی تقالید ورسومات کا مختصرا تذکرہ کیا جارہا ہے امید کہ آپ بھی اپنے اپنے علاقوں میں رائج رسوم ورواج سے باخبر کریں گے ۔
مصر کا بادشاہ “عتبہ بن اسحاق ” رات کو اپنی رعایا کو سحری کےلئے بیدار کرنے کےلئے قاہرہ کی سڑکوں کا دورہ کرکے لوگوں کو شاعرانہ انداز میں یہ کہتے ہوئےجگاتا تھاکہ”تم لوگوں میں جو سو رہے ہیں وہ اٹھیں اور اللہ کی عبادت کریں”
مصر میں رمضان کے دوران فانوس (لالٹین) اٹھا کر گلیوں کے چکر لگانے کی روایت ایک ہزار برس سے زائد پرانی ہے، کہا جاتا ہے کہ 969ء میں اہلِ مصرنے قاہرہ میں خلیفہ معز الدین اللہ کا فانوس جلا کر استقبال کیا تھا جس کے بعد سے رمضان المبارک کے دوران فانوس جلانے کی روایت کا آغاز ہوا۔ ایک اور روایت کے مطابق فاطمی خلیفہ الحاکم بامر اللہ کی یہ خواہش تھی کہ قاہرہ میں افطاری کے بعد چراغاں کیا جائے، چنانچہ انہوں نے یہ حکم جاری کیا کہ تمام مساجد پر لالٹین روشن کی جائے۔
کویت میں سحری کے وقت بیدار کرنے کی روایت قدیم ہے چنانچہ وہاں بھی ڈھول بجا کر لوگوں کو جگانے والے گلی گلی آج بھی پھرتے ہیں.
ترکی میں حکومتی سطح پر خلافت عثمانیہ کے وقت ہی سے عثمانی لباس زیب تن کیے ہوئے سحری کے وقت ڈھول بجاکر روزے داروں کو جگانے کی روایت اسلامی ثقافت کا حصہ ہے.
مراکش میں ایک شخص بگل بجا کر رمضان کی آمد اور خاتمے کا اعلان کرتا ہےیہاں بچوں کی روزہ کشائی کی روایت بڑی قدیم ہے۔ 27 رمضان کو بچوں کو روزہ رکھوایا جاتا ہے اور روزہ کشائی کی تقریب سحری میں منعقد کی جاتی ہے۔علماء کا کہناہے کہ یہ تقریباً 4 سو سال پرانی روایت ہے جو سلطنتِ عثمانیہ سے شروع ہوئی تھی۔
امریکہ کے شہر نیویارک میں سن 2002 میں محمد بوٹا نامی ایک ٹیکسی ڈرائیور ڈھول بجا کر مسلمانوں کو سحری کے لیے جگا رہا تھا.
خلیجی ممالک میں افطار کے وقت توپ کے گولے داغے جانے کی روایت آج بھی برقرار ہے۔
سوڈان میں مساہراتی گلیوں کے چکر لگاتا ہے اور اس کے ساتھ ایک بچہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں ان تمام افراد کی فہرست ہوتی ہے جن کو سحری کے لیے آواز دے کر اٹھانا مقصود ہوتا ہے۔سحری کے وقت دیہاتوں اور شہروں میں ایک شخص لالٹین تھامے ہر گھر کے سامنے کھڑا ہوکر اس کے رہائشی کا نام پکارتا ہے یا پھر گلی کے ایک کونے میں کھڑا ہوکر ڈرم کی تھاپ پر حمد پڑھتا ہے۔ ماہ رمضان کے اختتام پر لوگ انہیں مختلف تحائف دیتے ہیں۔
برصغیر پاک و ہند میں نوابوں کے دور میں مختلف ریاستوں میں سرکاری سطح پر سحری اور افطاری کا اعلان توپ کے گولے داغے جانے سے کرتے ہیں –
امرتسر میں مسلمانوں کو سحری کے لئے بیدار کرنے کے لئے گلی کوچوں میں ٹولی بنا کر حمد و ثناء موسیقی کے ساتھ گاکر جگائے جاتے تھے۔
پاکستان (کراچی )کے کچھ علاقوں میں ڈھول بجاکر سحری کے لئے جگانے کی روایت موجود ہے کچھ علاقوں میں باآواز بلند صدائیں دیتے نظر آتے ہیں وہیں دیگر علاقوں میں سارنگی، شہنائی اور دف بجاکر جگانے کی روایت اب ختم ہوچکی ہے ۔
بھوپال کے مسلمانوں کے مطابق 250سال پرانی یہ روایت ہے کہ چھوٹی توپ کے گولے میں کم بارود بھرا جاتا تھا جس کے داغے جانے کی آواز قرب و جوار کے پچاس سے زائد گاؤں دیہات تک سنی جاتی تھی.
حیدرآباد میں مشہور قلعہ ہشّام میں اونچے مقام پر سحری کا وقت ختم ہونے اور افطار کا وقت شروع ہونے کے وقت توپ داغی جاتی جس کی زوردار آواز بہت دور تک سنائی دیتی تھی آج بھی احناف کی مساجد میں سائرن بجانے کا رسم برقرار ہے۔
اعظم گڑھ یوپی میں سحری کے لئے جگانا پھیری والوں کی سماجی شناخت ہوا کرتی تھی ۔ پرانی تہذیب کے رہنما مانے جانے والے یہ پھیری والے رمضان میں دیہاتوں اور شہروں میں رات کو لوگوں کو سحری کی خاطر جگانے کے لئے شعروشاعری کرتے ہوئے نکلتے تھے۔
سحری کے لئے اذان
رسول اللہﷺ نے سحری کے وقت روزے داروں کو بیدار کرنے کے لئے بلال رضی ﷲ عنہ کو مقرر کیا تھا جو اسلام کے پہلے مؤذن بھی تھے حضور اکرمؐ نے حضرت بلال ؓ کی ذمے داری لگائی کہ وہ اہل ایمان کو سحری کیلیے بیدار کریں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان دیا کرتے تھے۔ پس رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا: تم سحری کے وقت کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ مؤذن ابن ام مکتوم اذان دے۔ وہ طلوع فجر سے پہلے اذان نہیں دیا کرتے تھے۔
اس صحیح حديث سے درج ذیل امور ثابت ہیں۔
(الف)عہد نبوی ﷺ میں دو مؤذن مسجد نبوی میں مقرر تھے ایک بلال رضی اللہ عنہ جو سحری کے وقت اذان کہتے تھے دوسری ابن ام مکتوم جو طلوع فجر پر اذان دیا کرتےتھے۔
(ب)فجر سے پہلے سحری کے وقت اذان کہنا مسنون ہے اور یہ بھی کہ یہ تعامل عہدِ نبوی میں جاری رہا کیوں کہ لفظ كان يؤذن ماضی استمراری ہے
موجودہ حالات میں نت نئی ایجادات’اختراعات اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے میں خیر ہے اور لاؤڈ اسپیکر کا استعمال اس طرح بالکل نہ کریں کہ ہر 15/20 منٹ پر سحری کے لئے بیدار کیا جائے کیونکہ یہ معاملہ اپنوں کے ساتھ ساتھ غیروں کو بھی تکلیف پہنچانے کا باعث ہے جس سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ‘‘ مسلمان وہ ہے جو مسلمانوں کو اپنی زبان اور ہاتھ سے تکلیف پہنچنے سے محفوظ رکھے۔(صحیح بخاری)
ظاہر ہے کہ یہاں زبان سے پہنچنے والی ہر قسم کی تکلیف مراد ہے لہذا کسی کو بھی تکلیف و اذیت میں مبتلا کرنا حرام ہے علماء کرام نے اسے گناہ کبیرہ میں شمار کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام آئمہ مساجد ذمہ داران مدارس اور تمام لوگوں کو دینی سمجھ عطا فرمائے آمین .