

از قلم: ابو عبدالبر عبدالحئی السلفی
قرآن کریم رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لئے سرچشمہ ہدایت ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے تجوید کے ساتھ پڑھااور پڑھایا جائے –
برصغیر ہندو پاک کے مدارس اسلامیہ میں بچوں کو قرآن کی تعلیم کا آغاز روایتی طور پر قاعدہ بغدادی ایک ورقی اس کے معا بعد چار ورقی سے ہوا کرتا ہے’ قاعدہ بغدادی ‘تیسیر القرآن ‘یسرنا القرآن ،محمدی قاعدہ ‘قرآنی قاعدہ یا اورکوئی متداول قاعدے ان سب کے ترتیب دینے کا مقصد محض ایک ہی ہوتا کہ بچے کو حروف و الفاظ کی شناخت بھی ہوجائے اعراب(حرکات و سکون وغیرہ)کو بھی سمجھ لے اور حروف و اعراب کو ملا کر ہجے کرنے، پھر قرآن رواں پڑھنے کے قابل ہو جائے، اور بتدریج قرآن کریم ناظرہ (دیکھ کر)پڑھنے کی صلاحیت حاصل کرلے۔
الحمد لله ” فروغ اسلام سیریز “مرتب ڈاکٹر ظہیر احمد کو چند ہى سالوں ميں كافى مقبوليت ملى ہے جس كا اثر يہ ہے كہ اسے ہند ونيپال كے سيكڑوں مدارس ومكاتب كے منتظمين نے نصاب ميں شامل كياہے اسی سلسلہ کی بہت ہی اہم کڑی فروغ اسلام ” قرآنی قاعدہ ” جس میں
🖋️عصر حاضر کے لحاظ سے جدید طرز کا استعمال کیا گیا ہے۔
🖋️طلباکی ذہنی سطح کی رعایت کرتے ہوئے صرف آسان قرآنی الفاظ دیئے گئے ہیں ۔
📗یہ “قرآنی قاعدہ” 4کلر اور بہترین کاغذ بڑی سائز پر طباعت ہوئی ہے.
🖊️ بچوں کے لکھنے کے لئے مشق بھی دیئے گئے ہیں تاکہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ تحریر بھی اچھی ہوجائے اور الفاظ ذہن نشین ہو جائیں۔
فروغ اسلام (قرآنی قاعدہ) اس مقصد کی تکمیل کے لیے ترتیب دیا گیا ہے کہ قرآن پڑھنے کا صحیح طریقہ اپنایا جائے اس کے لئے مؤلف نے ہر سبق کے شروع ہی میں ہدایت برائے اساتذہ لکھی ہے اگر اس کے مطابق صحیح انداز سے پڑھا دیا جائے تو قرآن کی درست قراءت سیکھی جاسکتی ہے اس میں طالبان علم کی سہولت کے لیے مختلف رنگوں کے ذریعے حروف کی پہچان کے نہایت مؤثر طریقے بروئے کار لائے گئے ہیں قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجوید کے قواعد و ضوابط اور اصول و آداب کے ساتھ پڑھایا جائے۔
اس میں پڑھانے والے اساتذہ کرام کی راہنمائی کے لیے اہم تعلیمی ہدایات، تجوید کے قواعد، اور مشق کرانے کے مختلف طریقوں کو بیان کیا گیا ہےاس کے لئے ضروری چیز یہ ہے کہ اجتماعی تعلیم دی جائےاور جتنے سطور پڑھانے ہوں اسے بلیک بورڈ پر جلی حروف میں لکھ دیا جائے اور دوسرے دن طلبہ اسے کاپی پر حتی المقدور لکھ کر اساتذہ کو دکھائیں اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ تھوڑی محنت اورکم وقت میں زیادہ بچوں کو بہت ساری باتیں آسانی سے پڑھایا اور سکھایا جاسکتا ہے۔ اس طریقہ تعلیم میں استاذ بچوں پر یکساں توجہ دے سکتا ہے جس کی وجہ سے بچوں کو شرارت کرنے کا موقع نہیں ملے گا اور درس گاہ میں نظم وضبط رہے گا ۔
لہذا ہم ہند و نیپال کے تمام ذمہ داران مدارس نظماء و صدور اور تعلیمی وتربیتی کمیٹی کے مسؤولین سے پر زور گزارش کرتے ہیں کہ فروغ اسلام “قرآنی قاعدہ” کو اپنے یہاں ضرور بہ ضرور داخل نصاب کریں تاکہ نونہالان قوم و ملت اور ملک کے لیے مفید ثابت ہوں .آمین