
پرویز یعقوب مدنی
خادم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال
بلاشبہ اللہ رب العالمین نے ان لوگوں کے لیے جو اس کی اطاعت کریں اور اس سے ڈرتے رہیں جنت تیار کر رکھی ہے، ایسی جنت جس کی چوڑائی زمین و آسمان کی چوڑائی کے برابر ہے اور اس میں وہ نعمتیں ہیں جس کو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: {سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ} [الحديد : 21]
(بندو) اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور جنت کی (طرف) جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے۔ اور جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللّٰہ پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں لپکو۔
ایک جگہ فرماتا ہے: {إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا ۖ وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ} [الحج : 23]
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اللّٰہ ان کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں۔ وہاں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور موتی۔ اور وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا۔
ایک مقام پر فرمایا: ٱدْخُلُواْ ٱلْجَنَّةَ أَنتُمْ وَ أَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُونَ يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِصِحَافٍ مِّن ذَهَبٍ وَأَكْوَابٍ وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ ٱلأَنْفُسُ وَتَلَذُّ ٱلأَعْيُنُ وَأَنتُمْ فِيهَا خَالِدُونَ وَتِلْكَ ٱلْجَنَّةُ ٱلَّتِيۤ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ لَكُمْ فِيهَا فَاكِهَةٌ كَثِيرَةٌ مِّنْهَا تَأْكُلُونَ ﴿سورة الزخرف: ٧٠ ـــ٧٣﴾
(ان سے کہا جائے گا) کہ تم اور تمہاری بیویاں عزت (واحترام) کے ساتھ بہشت میں داخل ہوجاؤ ان پر سونے کی پرچوں اور پیالوں کا دور چلے گا۔ اور وہاں جو جی چاہے اور جو آنکھوں کو اچھا لگے (موجود ہوگا) اور (اے اہل جنت) تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور یہ جنت جس کے تم مالک کر دیئے گئے ہو تمہارے اعمال کا صلہ ہے وہاں تمہارے لئے بہت سے میوے ہیں جن کو تم کھاؤ گے.
مزید فرمایا: {۞ لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ ۖ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌ وَلَا ذِلَّةٌ ۚ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ} [يونس : 26]
جن لوگوں نے نیکو کاری کی ان کے لیے بھلائی ہے اور (مزید برآں) اور بھی اور ان کے منہ پر نہ تو سیاہی چھائے گی اور نہ رسوائی۔ یہی جنتی ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے.
اس آیت میں حسنی سے مراد جنت ہے کیونکہ کوئی بھی گھر اس سے بہتر نہیں ہے اور زیادۃ سے مراد اللہ رب العالمین کے چہرے کا دیدار ہے۔
جناب ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنَا عَنِ الْجَنَّةِ مَا بِنَاؤُهَا ؟ قَالَ : ” لَبِنَةُ ذَهَبٍ وَلَبِنَةُ فِضَّةٍ، وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ، وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ، وَالْيَاقُوتُ، وَتُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ، مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ وَلَا يَبْؤُسُ، وَيَخْلُدُ لَا يَمُوتُ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ. (رواہ أحمد)
ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں بتائیں جنت کی تعمیر کیسے ہوئی؟ فرمایا: ”ایک اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی، اس کا گارا تیز خوشبو والی کستوری کا ہے، اس کی چپس ہیرے جواہرات اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے، جو اس میں داخل ہو گا وہ خوشحال رہے گا، بدحال نہیں ہو گا، وہاں ہمیشہ رہے گا، فوت نہیں ہو گا، اس کے کپڑے بوسیدہ ہوں گے نہ اس کی جوانی ختم ہو گی۔
جناب انس ابن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا يَأْتُونَهَا كُلَّ جُمُعَةٍ فَتَهُبُّ رِيحُ الشَّمَالِ فَتَحْثُو فِي وُجُوهِهِمْ وَثِيَابِهِمْ فَيَزْدَادُونَ حُسْنًا وَجَمَالًا فَيَرْجِعُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ وَقَدْ ازْدَادُوا حُسْنًا وَجَمَالًا فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُوهُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا فَيَقُولُونَ وَأَنْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا. (رواہ مسلم )
جنت میں ایک بازار ہے جس میں وہ (اہل جنت) ہر جمعہ کو آیا کریں گے تو (اس روز) شمال کی ایسی ہوا چلے گی جو ان سے چہروں پر اور ان کے کپڑوں پر پھیل جائےگی، وہ حسن اورزینت میں اوربڑھ جائیں گے، وہ اپنے گھروالوں کے پاس واپس آئیں گے تو وہ (بھی) حسن وجمال میں اور بڑھ گئے ہوں گے، ان کےگھر والے ان سے کہیں گے: اللہ کی قسم! ہمارے (ہاں سے جانے کے) بعد تمہارا حسن وجمال اور بڑھ گیا ہے۔ وہ کہیں گے اور تم بھی، اللہ کی قسم! ہمارے پیچھے تم لوگ بھی اور زیادہ خوبصورت حسین ہو گئے ہو۔
جناب ابوسعید خدری اور حناب ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يُنَادِي مُنَادٍ : إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْتَئِسُوا أَبَدًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ:{وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} (سورۃ الأعراف: 43) (رواہ مسلم)
ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا۔ یقیناًتمھارے لیے یہ (انعام بھی) ہے کہ تم ہمیشہ صحت مند رہو گے۔ کبھی بیمار نہ پڑوگے، اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ زندہ رہوگے۔ کبھی موت کا شکار نہیں ہو گے۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ جوان رہو گے۔ کبھی بوڑھے نہ ہوگے۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ ہمیشہ ناز و نعم میں رہوگے۔ کبھی زحمت نہ دیکھو گے۔‘‘ یہی اللہ عزوجل کا فرمان (واضح کرتا) ہے: اور انھیں ندا دے کر کہا جائے گا کہ یہی تمھاری جنت ہے جس کے تم ان اعمال کی وجہ سے سے جو تم کرتے رہے وارث بنا دیے گئے ہو۔
جنت کی صفات، جنت کی نعمتوں، اس کے مسرتوں اور اس کے خوشیوں وغیرہ کی صفات کے بارے میں بہ کثرت آیات و احادیث وارد ہیں، اللہ رب العالمین نے اہل جنت کی صفات اور ان کے ان اعمال کا تذکرہ کیا ہے جس کی وجہ سے وہ جنت میں داخل ہوں گے، چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے: قَدۡ أَفۡلَحَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي صَلَاتِهِمۡ خَٰشِعُونَ وَٱلَّذِينَ هُمۡ عَنِ ٱللَّغۡوِ مُعۡرِضُونَ وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِلزَّكَوٰةِ فَٰعِلُونَ وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِفُرُوجِهِمۡ حَٰفِظُونَ إِلَّا عَلَىٰٓ أَزۡوَٰجِهِمۡ أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُمۡ فَإِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ٱبۡتَغَىٰ وَرَآءَ ذَٰلِكَ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡعَادُونَ وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِأَمَٰنَٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رَٰعُونَ وَٱلَّذِينَ هُمۡ عَلَىٰ صَلَوَٰتِهِمۡ يُحَافِظُونَ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡوَٰرِثُونَ ٱلَّذِينَ يَرِثُونَ ٱلۡفِرۡدَوۡسَ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ (سورة المؤمنون 1__11)
بےشک ایمان والے رستگار ہوگئے جو نماز میں عجزو نیاز کرتے ہیں اور جو بیہودہ باتوں سے منہ موڑے رہتے ہیں اور جو زکوٰة ادا کرتے ہیں اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی مِلک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں اور جو امانتوں اور اقراروں کو ملحوظ رکھتے ہیں اور جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں یہ ہی لوگ میراث حاصل کرنے والے ہیں (یعنی) جو بہشت کی میراث حاصل کریں گے۔ اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
جناب معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے فرمایا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ. قَالَ : ” لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ، وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ : تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ ۔۔۔۔ الحدیث (رواہ أحمد )
اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جس کے ذریعے میں جنت میں داخل ہوجاؤں اور جہنم سے دور ہوجاؤں اور وہ مجھے جہنم سے دور کردے آپ نے فرمایا کہ تم نے تو بہت بڑا سوال کرلیا ہے اور یہ چیز اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ تعالی آسانی پیدا کرے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو نماز قائم کرو زکوۃ ادا کرو رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو.
چنانچہ جنتیوں کی سب سے اہم ترین صفت اور جنتیوں کا سب سے اہم ترین عمل اللہ رب العالمین کی توحید ہے، اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا ہے، اسلام کے ان فرائض کو قائم کرنا ہے جنہیں اللہ تعالی نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ شرم گاہوں اور امانتوں کی حفاظت کرنا ہے اور عہد و پیمان کی رعایت کرنا ہے۔
اس کے علاوہ اللہ تعالی کے فضل و کرم کے بعد جو نیک اعمال جنت کو پہنچانے والے ہیں بہت زیادہ ہیں جیسے کہ نفلی عبادتیں، زیادہ سے زیادہ نماز پڑھنا، روزے رکھنا، صدقہ دینا، حج کرنا، عمرہ کرنا، علم شرعی کا طلب کرنا اور اچھے اخلاق وغیرہ چنانچہ جناب ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے عمل کے بارے میں سوال کیا جس کے ذریعے اللہ تعالی انہیں جنت میں داخل کر دے تو آپ نے کہا: عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلَّهِ ؛ فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً. (رواہ مسلم)
تم زیادہ سے زیادہ اللہ تعالی کو سجدے کیا کرو کیونکہ جب بھی تم اللہ تعالی کو سجدہ کرو گے اللہ تعالی تمہارا ایک درجہ بلند کردے گا اور تمہارا ایک گناہ مٹادے گا۔
جناب ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ ؟ ” قَالُوا : بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : ” إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ . (رواہ مسلم)
کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعہ اللہ تعالی گناہوں کو مٹا دیتا اور درجات کو بلند کرتا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول کیوں نہیں!! آپ نے فرمایا: ناپسندیدگی کے باوجود مکمل وضو کرنا، مسجدوں تک زیادہ قدم چل کے جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہی سرحد کی نگرانی ہے یہی سرحد کی نگرانی ہے۔
صحابى رسول جناب سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت سے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ : الرَّيَّانُ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، يُقَالُ : أَيْنَ الصَّائِمُونَ ؟ فَيَقُومُونَ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ. (متفق علیہ) بلاشبہ جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو ریان کہا جاتا ہے جس سے قیامت کے دن روزے دار ہی داخل ہوں گے اور ان کے علاوہ کوئی دوسرا داخل نہیں ہوگا۔ اسی طرح جناب ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا ؛ سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ. (رواہ مسلم)
جو کسی ایسے راستہ پر چلتا ہے جس میں وہ علم تلاش کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے ذریعہ جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔
انھیں سے روایت وہ کہتے ہیں: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ ؟ فَقَالَ : ” تَقْوَى اللَّهِ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ. (رواہ الترمذی)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عمل کے بارے میں پوچھا گیا جو جنت میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ داخل کرے گا آپ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرنا اور اچھے اخلاق۔
انہیں سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ. (متفق علیہ)
ایک عمرہ سے لے کر دوسرا عمرہ ان دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا بدلہ صرف اور صرف جنت ہے۔
اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمارے لیے اور آپ سب کے لیے جنتیوں کے راستہ پر چلنا آسان کرے اور ہمیں اسی پر ثابت قدم رکھے۔ بلاشبہ وہ جواد ہے کریم ہے ۔ وصلی الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم