ہمتہوناچاہئے

تعلیم حاصل کرنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی ہے؛انسان کے اندر اگر ہمت انگڑائیاں لینے شروع کرے تو پھر عمر کی ساری حدیں پھلانگ کر تعلیمی سلسلہ کو آگے بڑھاتا ہے؛تاریخ میں بہت سارے ایسے واقعات ملتے ہیں اور عہد رسولﷺ سے لے کر تا ہنوز خواتین ِ اسلام نے ایسے بیشتر واقعات تاریخ کے زریں صفحات میں ثبت فرمائے جن سے صاف طور طور پر پتہ چلتا ہے کہ ہمت ہو تو انسان کیا کچھ نہیں کر سکتا ہے ؟
ابھی کل کی بات ہے کہ سعودی عرب کی ایک خاتون جن کا نام ھدی العبیداء ہے ؛جو 63 کی ہے؛جنہوں نے سعودی عرب کی حائل یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ہے؛یہ 17 سال کی تھیں جب ان کی شادی کر دی گئی ؛شادی کے بعد تعلیمی سلسلہ رک گیا ؛11 بچے ان کے بطن سے پیدا ہوئے؛سب کی تعلیم و تربیت کی اور 40 سال تک تعلیمی سلسلہ رکا رہا؛پھر 59 سال کی عمر میں اشتیاقِ علم نے کچوکے لگائے اور میدانِ علم میں کود پڑیں؛واضح رہے کہ انہوں نے شادی سے پہلے میٹرک تک تعلیم حاصل کر رکھی تھی اور کل 23/مئی 2024(جمعرات)کو بی اے کی ڈگری سے سرفراز ہوئیں۔
کل جب یہ حائل یونیورسٹی کے کانووکیشن میں اپنےبچوں کی عمر کے کلاس فیلوز کےہمراہ موجودتھیں توسعودی ٹی وی چینل العربیہ کے نمائندے نےپوچھا: آپ نےکیا سوچ کر دوبارہ تعلیم حاصل کرنا شروع کی؟ کہنے لگیں: “میں چاہتی ہوں جب میں اپنے اللہ تعالیٰ سےملوں تو ایک جاہل عورت کے طور پر نہ ملوں بلکہ میرا شمار اللہ کے ہاں ، علم والوں میں ہو”
ام عبد اللہ نے اپنے انٹرویو میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ دورانِ تعلیم بہت سارے مواد کے حصول میں بہت سی کٹھنائیوں کا سامنا بھی ہوا تاہم میرے مضبوط اور چٹان ارادے سامنے ساری کٹھنائیاں ریزہ ریزہ ہو گئیں اور ممتاز نمبرات سے پاس ہوتی چلی گئیں ۔
مذکورہ 62 سالہ جامعہ حائل سے فارغ التحصیل خاتون کا عربی زبان میں مکمل انٹرویو العربیہ چینل کی ویب سائٹ پر موجود ہے جو دو منٹ بارہ سکنڈ پر(2:12) مشتمل ہے ؛وہاں سے آپ سن سکتے ہیں؛انٹرویو کافی دلچسپ ہے اور عبرت و موعظت سے مملو و مشحون ہے ۔
محترمہ ھدی العبیداء صاحبہ کا یہ تعلیمی سفراور اس عمر میں تعلیمی اشتیاق اور تعلیمی مراحل کے جملہ متاعب و مشاق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انسان اگر چاہ لے اور پختہ ارادہ کرلے تو عمر کی ساری حدیں ہیچ اور اس عمر کی مشقتیں اور کلفتیں دھڑام ہوجاتی ہیں اور کامیابی اس کی قدم بوسی کے لیے مجبور ہوجاتی ہے
اس واقعہ سے جہاں بہت سے اسباق ملتے ہیں ؛ہمارے اپنے معاشرے کی خواتین کے لیے بہت سارے اسباق موجود ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں:۔
(1)تعلیم و تعلم کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی ہے
(2)ہمارے معاشرے کی خواتین بھی اگر پختہ ارادہ کر لیں تو تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو سکتی ہیں
(3)تعلیمی بیداری کے لیے ہمیں اس میدان میں بھی پیش قدمی کرنی چاہئے
(4)معاشرے میں تعلیمی بیداری کی خاطر خواتین کو بھی کسی بھی عمر میں زیورِ تعلیم سے آراستہ ہونے کے لیے اپنے اندر شوق و ذوق اور جذبہ و حوصلہ پیدا کرنا چاہئے اور حیلے بہانے تراشنے کی بجائے میدانِ عمل میں آگے آنا چاہئے
(5)ہم سب ۔مرد و خواتین ۔کے اندر یہ حوصلہ و جذبہ ہونا چاہئے کہ زندگی کے عمل کا پہیہ کبھی رکنے نہ دیں اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری و ساری رہے
رہے نام اللہ کا
(عبد السلام بن صلاح الدین مدنی)