
فریضۂ حج کی ادائیگی کے لئے دنیا کے مختلف ممالک سے بیشتر حجاج کرام سوئے حرم روانہ ہوچکے ہیں۔اکثر پہنچ بھی چکے ہیں۔ جنہیں سعودی عرب کے ائیرپورٹ پر پرجوش خیرمقدم بھی کیاگیا۔ حکومت کی دیرینہ روایت رہی ہے کہ وہ حجاج کرام کی خاطر تمام تر سہولیات اور انتظامات میں کسی قسم کی کوتاہی کو روا نہیں رکھتی ہے بلکہ ہر طرح کے اعلی اور عمدہ ترین انتظامات کو اپنی ذمہداری اور شرف وسعادت سمجھتی ہے، چونکہ حج ہر مستطیع پر فرض ہے یہ ارکان اسلام میں سے ایک ہے، یہ مہتم بالشان عمل ہے ہر مومن کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ دیار نبوی کا دیدار کرے،حج بیت اللہ الحرام کی سعادت حاصل کرے،مقامات مقدسہ کی زیارت کرے اس لئے برسوں محنت ومشقت کرکے پائی پائی جوڑ تاہے اور اللہ کی بارگاہ میں دست بستہ دعاگو رہتاہے کہ الہی اسے اس سعادت سے سرفرازی بخشے، اسی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے سعودی حکومت حاجیوں کی سہولت فراہم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتی ہے۔ جزاھم اللہ احسن الجزاء ۔
گزشتہ ایام میں عمرہ اور زائرین کی جم غفیر کو دیکھتے ہوئے وزارت حج ،منسٹری آف اسلامک افیئرز اور سعودی فورسز، پولیس اہلکاران، وزارت صحت کے مختلف عملے اور موظفین، ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ عہدیداران اور مزید سہولتوں کے لیے دیگر پولیس اہلکاران اور ذمہ داران اور اس کے علاوہ قدم قدم پر حجاج کی نگرانی اور ان کو تمام تر سہولیات بہم پہنچانے کے لیے مختلف رضاکاران کی مستعد ٹیمیں مکمل طریقے سے تیار رہتی ہیں اور یہ لوگ پہلے سے ہی ہر طرح کے انتظامات اور سہولیات اور تمام تر حجاج کرام کی آمد و رفت اور نقل و حمل کی تیاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلی پیمانے پرکام کی تکمیل اور انتظامات کو مکمل کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔حجاج کرام کی اسقدربے لوث خدمات پر سعودی حکومت خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز حفظہ الله اورانکے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود/ایدھما الله اور وزارت حج ،وزارت برایے اسلامی امور اوردیگر تمام محکمہ جات اورسرکاری ونجی ادارے قابل ستائش اورلائق تعریف ہیں ۔الله کرے انکی روشن خدمات کا یہ سلسلہ ہمیشہ جاری وساری رہے اوریہ سب اللہ کے فضل کے بعد سعودی حکومت اور اسکے سربراہان کا خلوص اور انکی فکرمندی کانتیجہ ہے جسکی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
دنیا والوں کو اگر ایثار ومحبت ،نفوس کی قدر وقیمت، الفت واکرام ،لطف وعنایات اگر دیکھنا ہے تو سال میں ایک بار سعودی حکومت کے اس نظم وانصرام کو دیکھے جس میں یہ سبق ملےگا کہ اسلام امن و شانتی کا مذہب ہے جہاں کالے گولے کے درمیان کوئی تفریق نہیں،ہرکوئی دربار الہی میں یکساں ہوتاہے،ایک صف میں صف بستہ ہوتے ہیں۔ جس صف میں ایک غریب کھڑے ہوکر مناسک حج کے ارکان کی ادائیگی میں مشغول ہوتاہے اسی کے بغل میں بادشاہ بھی ہوتاہے،اعلی وارفع منصب پر فائز عہدیداران بھی ہوتے ہیں، ایسی نظیر دنیا کے کسی بھی مذھب کے مذھبی فیسٹیول میں دیکھنے کو نہیں ملے گی، کیونکہ رحمت للعالمین نے اپنے متبعین کو جو درس دےکر دنیا میں دین کے مشن کو مکمل کرکے دنیا سے رخصت ہوئے قیامت تک انکے متبعین اس پر عمل پیرا ہونگے ، ظاہر سی بات ہے کہ آپ رحمت للعالمین تھے آپ کی پاکیزہ تعلیمات انسانیت کی بھلائی کےلئے تھیں تو بھلا کیونکر کسی کو تکلیف ہوسکتی ہے، لاکھوں کی تعداد میں بیک وقت حج کے ارکان کی ادائیگی کےلئے امنڈتا سیلاب کبھی کسی کو اُف تک نہیں کہتا اور ایک دوسرے کے تئیں تعاون کا جذبہ رکھتاہے۔
مملکت سعودیہ عربیہ کو اللہ نے ہمت و حکمت اور دریا دلی سے سرفراز کیاہے جس میں شاہی فرمان کے مطابق دنیا کے ان ممالک سے چنندہ شخصیات کو حج جیسے اہم فریضہ کی ادائیگی سے بلایا جاتاہے ، امسال خوش نصیب لوگوں میں فلسطین سمیت 88 ممالک کے 2322 لوگ نیز اسرائیلی حملوں میں شہید، زخمی یا جیلوں میں قید فلسطینی متاثرین کے خاندانوں کے ایک ہزار افراد کے علاوہ مملکت میں الگ ہونے والے جڑواں بچوں کے خاندان کے 22 افراد بھی شاہی مہمان کی حیثیت سے اس فریضہ کی ادائیگی کریں گے جس کا مقصد مسلمانوں کو حج کیلیے اکٹھا کر کے ان کے درمیان اتحاد اور بھائی چارے کو مضبوط کرنے کی کوششوں کرنا ہے_اللہ تعالی تادیر آل سعود اور تمام اداروں کے اہلکاروں پر اپنا لطف وکرم بنائے رکھے جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کا سر بلندیوں تک پہنچتا رہے۔