صلاح الدین لیث مدنی
مرکز الصفا الاسلامی نیپال

حج اسلام کا ایک اہم رکن  اور جامع عبادت ہے۔ جس کے لیے ہر سال دنیا سے لاکھوں مسلمان ایک مرکز پر جمع ہو کر اس فریضہ کی ادادائیگی کرتے ہیں۔ حج کی اسی اہمیت وافادیت کے پیش نظر  مملکت سعودی عرب اس جانب خصوصی توجہ مرکوز کرتی ہے اور امورِ حج کے بہترین نظم و نسق میں اہم ترین کردار ادا کرتی ہے اور بلاشبہ اس کو اپنے لیے سعادت سمجھتی ہے . اسی طرح سے جذبۂ سخاوت و فیاضی اور دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری دنیا سے آئے ہوئے لاکھوں زائرین کے لیے پلکیں بچھائے رکھتی ہے۔ واقعتاً مملکت سعودی عرب ہر سال حج کو کامیاب بنانے کیلئے اپنے زبردست کوششوں پر شکریے کی مستحق ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ خادم الحرمین و الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی  جانب سے امت مسلمہ کے لیے ہر طرح کی سہولیات مہیا کرنا ، حرمین شریفین اور ان کے عازمین کی خدمت کرنا ، حجاج کرام کو بحفاظت وسہولت مناسک حج کی ادائیگی کرانا اور اسی طرح سے بے شمار ایسی عظیم خدمات ہیں جو قابلِ ستائش ہیں۔ حجاج کرام کو ہر طرح کی سہولتیں اورآرام پہنچانے کی غرض سے حکومت سعودی عرب تمام تر ممکنہ وسائل و ذرائع اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہے۔   مملکت سعودی عرب حج کے تمام مراحل کو جس مستحکم اور مستحسن انداز میں ہر سال پایہ تکمیل تک پہنچاتی ہے وہ بلا شبہ قابلِ تحسین ہے. یقیناً ایک انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کس طرح سے سعودی حکومت اتنے بڑے پیمانے پر اتنا بہتر انتظام و انصرام کرتی ہے۔ حجاج کرام خود جب سعودی عرب پہنچ کر سعودی عرب کی خدمات و سہولیات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو وہ سعودی حکومت کی تعریف کیے بنا نہیں رہ پاتے۔ بے شک سعودی حکومت حجاج کرام کی جس طرح خدمت کرتی ہے اور ان کی سہولتوں کا جس طرح خیال کرتی ہے تاریخ میں اس کی مثال مشکل ہے اور کوئی بھی دوسری حکومت ایسا کارنامہ سرانجام  دینے سے قاصر ہے۔ پھر اس پر مزید یہ کہ ضیوف الرحمن کی انتھک فکر ،ان کو راحت پہنچانے کیلئے ابتدا سے انتہا تک قدم قدم پر سہولتیں ،قیام و طعام کا اعلیٰ وآرام دہ انتظام اپنی مثال آپ ہے۔ حجاج کرام سعودی حکومت کے انتظامات دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں۔ ان کی زبان تعریف سے تر رہتی ہے۔ اور حقیقتاً سعودی حکومت کا حجاج کرام کی اتنی بڑی تعداد کو اتنے بہتر انداز میں کنٹرول کرنا اور خیر و عافیت سے حج کے تمام انتظامات کو بخوبی انجام دینا تصور سے باہر ہے۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا یہ عمل محض دینی جذبے، خیر خواہی و بھلائی اور اللہ کی خوشنودی کے لیے ہوتا ہے۔ حجاج کرام کے لیے سعودی حکومت کے خدمات اتنے ہیں کہ ان کو قلم بند کرنا محال ہے بس اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ اللہ مملکت سعودی عرب کو اس کی کاوشوں کا بہترین ثمر عطا کرے، حاسدوں کی حسد ، سرکشوں کی سرکشی اور ظالموں کے ظلم سے بچائے. آمین