پرویز یعقوب مدنی

_______________________________________
خادم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال
_______________________________________
حجاج کرام کے لئے مقام عرفہ میں ٩ ذي الحج کا ٹہرنا حج کا وہ عظیم رکن ہے جس کے بغیر حاجی کی حج مکمل نہیں ہوتی ہے۔
*میدان عرفہ مکہ مکرمہ کا وہ عظیم مقام ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہیں پر جبریل امین نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو مناسک حج سکھلایا تھا اور مقام عرفہ ہی کے بابت یہ روایت بھی ہے کہ جب اللہ تعالٰی نے ابو البشر جناب آدم علیہ السلام اور جناب حواء علیہا السلام کو جنت سے نکالا تھا تو طویل جدائی کے دونوں کی ملاقات اسی مقام پر ہوئی تھی۔
*عرفہ وہ عظیم مقام ہے جہاں ایک عظیم پہاڑ جبل رحمت موجود ہے جس جگہ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجة الوداع ارشاد فرمایا تھا اور وہیں پر قرآن کریم کی آیت “الیوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا” نازل ہوئی تھی۔ جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دین اسلام کی تکمیل اور اللہ رب العالمین کے نعمتوں کی اتمام وہیں وقوف عرفہ کے وقت مقام عرفہ میں ہوئی۔
*9 ذی الحجہ یعنی عرفہ کا روزہ حجاج کرام کے علاوه دیگر مسلمانوں کے لئے مستحب ہے نیز اس دن کا روزہ دو سال صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہے صحابی رسول جناب قتادہ رضي اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے یوم عرفہ کے روزہ کے متعلق ارشاد فرمایا “يُكفِّر السنة الماضية والباقية” عرفہ کا روزہ گزشتہ اور آنے والے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ (صحيح مسلم:١١٦٢)
*عرفہ ہی وہ مقام ہے جہاں دنیا سے بھر سے تشریف لانے والے حجاج کرام 9 ذی الحجہ کو حاضر ہو کر ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ جمع کرکے ظہر کے وقت میں ادا کرتے ہیں۔ پہر باقی ماندہ وقت کھانے پینے، تلاوت قرآن اور ذکر و اذکار ، تسبیح و تھلیل، توبہ و استغفار اور دعا میں گزارتے ہیں۔ کیونکہ یہی سنت رسول ہے۔
*9 ذی الحجہ کو میدان عرفات میں ٹھہرنے والے حجاج کرام کے گناہوں کی بخشش اور جہنم سے آزادی ہوتی ہے ام المؤمنین جناب عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے آپ ﷺ نے فرمایا :
” مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ، مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمِ الْمَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ؟
کوئی دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو، الله رب العالمين (اپنے بندوں کے) قریب ہوتا ہے۔ اور فرشتوں کے سامنے ان لوگوں کی بناء پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟” (صحيح مسلم: ٣٢٨٨)
باری تعالیٰ ہمیں مقام عرفہ کے فضائل مسائل کو سمجھنے کے ساتھ عرفہ کے روزہ کی ادائیگی، ذکر و اذکار و صدقہ و خیرات کی توفیق دے۔ آمین