
مملکت سعودی عرب کی وزارت حج نے حج سیزن 2024 کو نہایت حکیمانہ تدابیر اپناتے ہوئے اس بات کو ثابت کردیا کہ اس نے اس کی کامیابی کے لئے جو پلان بنائے تھے وہ یقینا بڑے موثر ثابت ہوئے، دنیا بھر سے شیداء اسلام فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے اپنے اپنے ملکوں میں وزارت کی نگرانی میں سعودی عرب کی وزارت حج کے اصول وضوابط کا پابند ہوکر اجراءات مکمل کرکے حج بیت اللہ کے شرف سے بہرہ ور ہوئے۔ اللہ تعالی سبھی حجاج کے حج کو قبول فرمائے آمین۔کے اصول وضوابط کا پابند ہوکر اجراءات مکمل کرکے حج بیت اللہ کے شرف سے بہرہ ور ہوئے۔ اللہ تعالی سبھی حجاج کے حج کو قبول فرمائے آمین۔
حج بیت اللہ الحرام کے اختتامی ایام میں درجہ حرارت 50سے متجاوز ہوگیا تو خلیجی ممالک کی عام سی بات ہے، ان تمام خدشات سے نمٹنے کےلئے سعودی حکومت کی وزارت حج نے پوری تیاری کر رکھی تھی جیسے کہ شاہراہوں پر ٹھنڈے پانی کا پھوارا،سیکیورٹی اہلکاروں کے ذریعہ حاجیوں کے اوپر ٹھنڈے پانی کا چھڑکاؤ، سعودی رضاکاروں کی جانب سے مفت پانی،کھجور چھتری کا ہدیہ، آمدورفت کے لئے سرکاری سہولیات، عمدہ قسم کے خیموں کا نظم وانصرام،الکٹرانک معرفتی نظام، گمشدگی کی صورت میں وزارت حج کے ذریعہ فراہم کردہ الکٹرانک کارڈ کے ذریعہ کیمپ تک رسائی، ہرزبان میں علماء فضلاء دعاۃ مبلغین مفتیان کرام کی سہولت تاکہ ارکان کی ادائیگی میں پیش آمدہ مشکلات کا فوری تشفی بخش جوابات،ائیرپورٹ پر پرجوش خیرمقدم،طبی عملوں کی تعیناتی، فری ایمبولینس کی سہولیات وغیرہ وغیرہ جبکہ خامہ فرسائی نہیں کیاجاسکتا۔
دوران حج سعودی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق وفات پانے والوں میں ادھیڑ عمر کے اشخاص اور بیماروں کی اکثریت تھی، متوفیان کی تعداد اعداد وشمار کے مطابق 1301 بتائی گئی ہے ، جن لوگوں کی امواتیں ہوئی ہیں ان میں سے اکثر لوگ بغیر تصریح کے حج کا فریضہ انجام دے رہے تھے ،امسال چار لاکھ سے زیادہ لوگ بغیر تصریح کے حج کا فریضہ انجام دیئے،وزارت صحت سعودی عرب کے مطابق دوران حج پانچ لاکھ حجاج کا علاج کیاگیا ان میں سے 140000 وہ تھے جن کے پاس اجازت نامے نہیں تھے وزرات صحت کے مطابق اب کئی افراد اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
فی الحال پوری دنیا میں سعودی عرب کی بے مثال لا جواب کامیاب حج سیزن کو بدنام کرنے کی ناپاک سازش چل رہی ہے جسے رافضی ،یہودی اور سعودی مخالف اشخاص ریمومر پھیلا کر بدنام کرنے کی بے سود کوشش کررہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ درجہ حرارت کی شدت کے باعث چند امواتیں واقع ہوئی ہیں جس کا خلاصہ شؤون الحج کے اہلکار نے پریس کانفرنس کرکے کی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ امواتیں ان حجاج کی ہیں جو سڑکوں کے کنارے رہ رہے تھے اور بغیر تصریح حج کررہےتھے ان میں مصر جورڈن اور دیگر کچھ ایشیائی ممالک کے لوگ شامل ہیں۔
واضح رہے کہ جو افراد بغیر اجازت نامہ کے چوری چپکے حج کرتے ہیں انکے پاس ٹھہرنے کی جگہ بھی نہیں ہوتی اس لئے کڑکڑاتی 50.8 کی شدت حرارت میں انہیں لقمہ اجل بننا پڑا۔مصر حکومت نے حج ایجنسیوں کے لائسنس بھی کینسل کر دیئے ہیں اور ضروری کاروائی میں جٹی ہوئی ہے۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ انکی امواتیں سعودی عرب کے انتظامات وانصرام اور لاپرواہی کے سبب قطعی نہیں تھا بلکہ طبعی ہوئی ہیں، ویسے جہاں 1.8 ملین حجاج ہوں اس میں معدودے کی امواتیں یقینی بات ہے اس پر سعودی حکومت کو لعن وطعن کرنا نہایت احمقانہ ،عنادانہ ،حاسدانہ بات ہے۔
ہر سال موسم حج کے اختتام پر شرپسند عناصر سعودی عرب کے بے مثال خدمات دیکھ کر دل کی بھڑاس نکالنے کی ناپید کوشش کرتے چلے آرہے ہیں جو امسال حج سیزن 2024 کے اختتام پر کررہے ہیں جو بے بنیاد بات ہے،
ایک ھند نژاد حاجی نے اپنے سوشل ہنڈل سے گفتگو کرتے ہوئے ریمومر کو فاسد بتایا اور کہا کہ جولوگ سعودی گورنمنٹ کی لاپرواہی کی بات کرکے سعودی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ سراسر غلط ہے جس کا کوئی سر پیر نہیں،انہوں کہا کہ امواتیں ہوئی ہیں لیکن اس میں مصر جورڈن وغیرہ کے زیادہ ہیں جو بغیر تصریح اور بغیر خیموں کے فریضہ حج کی ادائیگی کررہے تھے، جمرات والے دن درجہ حرارت 50سے متجاوز ہوا جس میں لوگ شدت حرارت سے پریشان ہوئے اور کچھ جانی نقصان بھی ہوا۔ ریومر پھیلانے والے بالکل جھوٹے ہیں سعودی عرب اپنے اعلی کوالٹی کے انتظامات وانصرام میں بے مثال پایا گیا کسی قسم کی کوئی کمی ،کجی،کوتاہی نہیں ہوئی،امسال 1.8 ملین حاجیوں نے حج کے فرائض ادا کئے اللہ سبھی کے حج کو حج مبرور بنائے، شھداء حج کی مغفرت فرمائے لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق دے آمین۔

