

(تحریر:- محمد مصطفیٰ کعبی ازہریؔ/ فاضل الازھر یونیورسٹی مصر عربیہ)
ریاست بہار میں ضلع مدھوبنی دریائے باگمتی کے مشرقی کنارے پر صوبہ بہار میں ترہت کمشنری کا ایک قدیم اور مشہور شہر ہے، یہ مدت مدید تک ترہت کا دارالصدور رہ چکا ہے، عہد ہنود اور خصوصاً سلاطین اسلامیہ کے دور حکومت میں اس کی حیثیت نہایت شاندار تھی،اب بھی یہ ضلع کا صدر مقام ہے،اس کا ماضی و حال دونوں گوناگوں خصوصیتوں کی وجہ سے خاص امیتازی شرف رکھتا ہے،اس کی تاریخی قدامت علمی عظمت،تمدنی شوکت،اور اسلامی یادگاریں ہندوستان کے اضلاع میں خاص مرتبہ رکھتی ہیں،اس کا ایک ایک گوشہ اور اس کا ایک ایک منہدم کھنڈر اپنے اندر شان جاذبیت رکھتا ہے۔
اسی طرح ضلع مدھوبنی سرزمین نے بیسویں صدی کے وسط سے علمی وادبی جہتوں میں بہت تیز رفتاری سے ترقی کی ہے، اس صدی میں بہت سی عظیم المرتبت شخصیات اس خطے سے اٹھیں ، اور اپنی علمی ،ادبی ، تعلیمی دعوتی اور اصلاحی خدمات اور تاریخ ساز کارناموں سے نہ صرف خطے علاقے بلکہ ملکی پیمانے پربھی انھوں نے گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، ان کے علمی و فکری کمالات،اخلاقی اوصاف اور متنوع خدمات کا تقاضا تھا کہ انہیں ضبط تحریر میں لاکر دنیا والوں کے سامنے اجاگر کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ان نقوش کی روشنی میں ارتقاء کی راہیں طے کرسکیں۔
مولانا محمد عالم اسلامی حفظہ اللہ کی معیت میں مدرسہ اسلامیہ بھوارہ مؤرخہ 17 صفر 1446ھ مطابق 22 اگست 2024 بروز جمعرات کو پہونچا مولانا عالم اسلامی صاحب استاذ محترم فضیلۃ الشیخ منصور عالم اسلامی صاحب کو کال کیا علیک سلیک کے بعد مولانا عالم نے کہا کہ شیخ محترم(منصور عالم اسلامی) میں مدرسہ اسلامیہ میں پہونچا ہوں تو شیخ منصور عالم اسلامی صاحب نے جواب دیا کہ کچھ دیر میں ملتا ہوں جب شیخ منصور عالم اسلامی صاحب ملے تو تعجب کرنے لگے کہ آپ کے ساتھ شیخ کعبی ازھری موجود ہیں آپ کال کیے تو یہ بھی نہیں کہہ رہے تھے کہ ہمارے ساتھ شیخ کعبی ازھری بھی آئے ہوئے ہیں استاذ محترم سے علیک سلیک ہوا اس کے بعد استاذ محترم کلاسوں کی طرف لیکر چلنے لگے دو تین کلاس کے بعد شیخ نور العین سلفی صاحب سے ملاقات ہوئی علیک سلیک کے بعد شیخین آگے آگے چل رہے تھے تمام کلاسوں ، لائبریری، ہاسٹل طلباء اور مطبخ وغیرہ کا معائنہ کروایا اسی دوران اساتذہ مدرسہ اسلامیہ بھوارہ سے ملاقات کروایا اور ناچیز کا تعارف بھی پیش کیا جن میں فضیلۃ الشیخ صغیر احمد محمد عیسی مدنی ناظم اعلیٰ مدرسہ اسلامیہ بھورہ ، عمید المدرسہ اور جملہ اراکین وغیرہ شامل رہے ۔
اور شیخ نور العین سلفی صاحب استاذ مدرسہ اسلامیہ بھوراہ مدھوبنی بہار ہند ایک باصلاحیت عالم، کامیاب سنن ترمذی کے مدرس ، مخلص مربی اور بے لوث داعی ہیں اور آپ علم وفن کا روشن چراغ، جمعیت وجماعت کا وقار ہیں اور آپ نہایت ہی سادگی پسند، منکسر المزاج، بذلہ سنج، ملنسار، مہمان نواز اور خوش خلق ہیں ۔ علم کا سمندر ہونے کے ساتھ ساتھ عاجزی و انکساری کا مجسم پیکرِ ہیں، تصنع وتکلف، ظاہری ٹھاٹ اور کر و فر سے کوسوں دور، اور ملمع سازی سے نفور آپ کا خاص وصف ہے کہ آپ کسی سے کوئی حسد نہیں رکھتے ہیں ۔ اور ہر چھوٹے ، بڑے شخص کو عزت کرتے ہیں ۔
استاذ محترم فضیلۃ الشیخ منصور عالم اسلامی حفظہ اللہ استاذ مدرسہ اسلامیہ بھوارہ نہایت خلیق و ملنسار، متواضع ،مہمان نواز،علماء کے قدرداں،جماعتی غیرت سے سرشار اور متدین انسان ہیں۔ علاقائی اور ضلعی جمعیت وجماعت کے کاز سے بڑی دلچسپی رکھتے ہیں – جمعیت وجماعت کی کانفرنسوں ودیگر پروگراموں میں شریکِ ہوتے رہتے ہیں ۔ علاقے میں سلفی مواضعات کا بطورِ خاص دعوتی واصلاحی دورہ کرتے رہتے ہیں۔عنفوان شباب سے ہی دعوت وتبلیغ کے کاز سے جڑے رہے اورقدیم دینی درسگاہ مدرسہ فیض العلوم السلفیہ مارر نیپال اور اس کے بعد مدرسہ اسلامیہ بھوارہ سے منسلک ہوکر تدریس، دعوت وتبلیغ اور اصلاح وتربیت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔مجھ ناچیز سے بڑی محبت کیا کرتے ہیں خوشی اظہار کرتے رہتے ہیں کہ جس پودا کو لگایا تھا آج وہ پھل دے رہا ہے اور مدرسہ فیض العلوم السلفیہ مارر نیپال میں بڑی شفقت فرماتے تھے ۔
شیخین کی ہمراہ رہائش گاہ اساتذہ میں پہونچے شیخین نے عمدہ ضیافت کی اس کے بعد نماز ظہر ادا کرنے کے لئے مسجد کی طرف نکلے وہاں شیخین نے امامت کی ذمہ داری ناچیز کو دے دیا کہ شیخ کعبی ازھری صاحب آپ ہمارے مہمان ہیں اس لئے آپ ہی نماز ظہر پڑھائیں ناچیز ایسا ہی کیا نماز ظہر ادا کرنے کے بعد شیخ نور العین سلفی صاحب نے عوام الناس کے سامنے ناچیز کی تعارف پیش کیا اور کہا کہ آج ہم لوگ جس شخصیت کی اقتداء میں نماز ظہر ادا کیے ہیں وہ شیخ محمد مصطفیٰ کعبی ازھری صاحب نیپال کے ہیں جواں سال عالم دین ،مشہور صحافی ،کئی کتابوں کے مصنف اپنے چند احباب کے ساتھ مدرسہ اسلامیہ آپہنچے ،ابھی جن عظیم علماء کرام سے ہند و نیپال کی بزم سجی ہوئی ہے ان میں ایک مستند نام مصطفی کعبی ازہری کا بھی ہے۔
نماز ظہر ادا کرنے کے بعد شیخین کے ہمراہ اس کے رہائش گاہ پر پہونچے شیخین کے ساتھ ظہرانہ کھانا تناول کیا قلت وقت میں بہتر ظہرانے انتظام و انصرام کرنے کی کوشش کی گئی شیخین نے عمدہ ضیافت کی ۔ شیخین کے ساتھ دو گھنٹے تک ہم لوگوں کی مختلف موضوعات پر باتیں ہوئیں ۔دل تو نہیں چاہ رہا تھا کہ ہماری یہ مجلس ختم ہو پر دو گھنٹے کیسے گزر گیا پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔۔ہم لوگوں کی منزل بھی کہیں اور تھی ۔۔۔۔ اس کے بعد شیخین اور ہم لوگ آگے کی منزل کی طرف رواں ہوئے ۔
اللہ شیخین کی حفاظت فرمائے اور قوم وملت کا زیادہ سے زیادہ کام لیتا رہے ۔آمین
تعارف مدرسہ اسلامیہ بھوارہ:
مدرسہ اسلامیہ بھوارہ موجودہ بہار ریاست میں ایک یونیورسیٹی کی حیثیت ہے جس کی تعلیم اور تربیت بھی اس کے اعلی مقاصد کا آئینہ دار ہے ۔ وہ اپنے معاصر اداروں سے سبقت رکھتے ہیں اتنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ہندوستان کے تمام مکاتب فکر میں یہ مثل تاروں میں چاند دکھائی دیتے ہیں ۔ یہاں تک کہ ان کی دوسرے شعبوں میں بھی کارکردگی اپنے معیار اور حجم ہی کے مطابق ہے ۔ میں نے جب سے شعور کی آنکھیں کھولی ہیں اس مدرسے کا چرچا اسی متداول حیثیت کا غماز پایا ہے ۔ اللہ اس کے اقبال کو ہمیشہ اسی طرح بلند رکھے اور مزید شفافیت اس کی تعلیم اس کے نظام اور اس کی کارکردگی میں عطا کرے آمین ۔
مسلک اہل حدیث کے ادارے اور شخصیات بھی اچھی تعداد رکھتے ہیں ۔ اس ضلع میں مسلمانوں کا سیاسی اثرو رسوخ بھی قابل قدر ہے اور ادھر معاشرتی زندگی اور مسلمانوں کا ٹھاٹھ باٹھ بھی مالی اور علمی جوہر کو نمایاں کر رہا تھا۔ مولانا حافظ شفیق اللہ انصاری سابق ممبر پارلیامنٹ اور جنا ب الحاج عبد الحنان صاحب سابق ممبر پارلیامنٹ رحمہما اللہ جیسی عبقری اور بے باک شخصیتیں پیدا ہوئیں اور سیاسی قیادت و سیادت کے ساتھ ساتھ دینی اعتبار سے بھی یہ رشد و ہدایت کے امام تھے ۔ان کے علاوہ اور بھی بزرگ علمی شخصیات ہیں جنہوں نے کتاب وسنت کی اشاعت و ترویج میں اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اور یہ مدرسہ ہند ونیپال کے سنگم پر، پیہم اپنی تعلیمی، تربیتی، دینی، دعوتی جد وجہد کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں نظر آرہا ہے ۔ مدرسہ اسلامیہ کی اپنی ایک خاص روایت رہی ہے ہر دور میں یہ ادارہ مختلف فنون اور کتابوں کے ماہر اساتذہ سے پر رہا کیا ہے جن کی اپنی تدریسی خصوصیتیں اور لیاقتیں ہیں کبھی مولانا ابوالقاسم سلفی جو سبعہ سیارہ کہے جاتے تھے مسند درس پر فائز رہے تو کبھی شیخ عزیزالرب فیضی حفظہ اللہ نے تدریس کو وہ عروج بخشا جو کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں اور فی الحال شیخ صغیر احمد مدنی صاحب نظامت کی ذمہ داری کے ساتھ مستند درس بخاری سنبھالے ہوئے ہیں ۔ ماہر حدیث ، صحیح بخاری کے مدرس ، و فقہ وعقیدہ فضیلۃ الشیخ محمد اشفاق سلفی صاحب بھی مسند تدریس پر خدمات انجام دے رہے ہیں یقیناً آپ جماعت اہل حدیث کے نازش سلفیت ہیں ، فقہ وحدیث پرتبحر علمی رکھتے ہیں فقہ کے تو آپ حفظہ اللہ متخصص اور ماہر ہیں اور سعودی مشایخ کے ہم پلہ ہیں آپ کے شاگردوں کی بڑی تعداد ہے ، وہ آپ کا اچھا تذکرہ کرتے ہیں ، آپ کی تقریروں نے عوامی سطح پر آپ کو اچھی پہچان دی ہے ، اہل علم طبقہ آپ کی علمی لیاقتوں کا معترف ہے۔ مدرسہ میں فی الوقت مختلف فنون اور کتابوں کے پڑھانے والے طاق اور منفرد اساتذہ موجود ہیں۔
مدرسہ اور مکتب کا وجود ایک مسلم معاشرے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ہندوستان ، پاکستان ، نیپال اور خلیج ممالک میں رہنے والے حضرات سے یہ مخفی نہیں ہے کہ مدرسہ اسلامیہ بھوارہ ایک خالص اسلامی ، دینی، تعلیمی، رفاہی، تربیتی اور ثقافتی قدیم درسگاہ ہے جو بہار کے مشہور کھادی صنعت والے ضلع مدھوبنی کے قصبہ بھوارہ شہر میں واقع ہے ۔ مدرسہ اسلامیہ کی علاقائی خدمات سے کون بھلا ناواقف ہوگا جس سے کہ بلاشبہ ہند و نیپال کے طلباء بہت کچھ فیض حاصل کرتے ہیں اور علمی تشنگی بجھاتے ہیں۔
جس کا قیام 1335ھ مطابق 1917ء میں مخلص اکابر علامہ عبد العزیز محدث رحیم آبادی اور حافظ عبداللہ غازی پوری رحمہما اللہ کے ہاتھوں سے ہوا۔ رفتہ رفتہ علامہ عبدالوہاب آروی رحمہ اللہ سابق ناظم اعلیٰ جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر سرپرستی یہ ادارہ پروان چڑھتا رہا۔ بفضل اللہ مدرسہ ہذا سے ملک وبیرون ملک کے طلباء وطالبات کثیر تعداد میں علمی تشنگی بجھانے کے بعد مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہندوستان کی مختلف جامعات میں زیر تعلیم ہیں اور کثیر تعداد میں طلباء سعودی جامعات میں بھی زیر تعلیم ہیں اور کثیر تعداد میں طلباء وطالبات کرام فارغ ہوکر مختلف علاقوں، شہروں، اور مختلف ملکوں کے مختلف شعبوں میں اپنے اپنے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
فی الحال مدرسہ ہذا کے تمام شعبہ جات میں کم وبیش 700 طلباء زیر تعلیم ہیں جن میں تقریباً 150 طلباء کو قیام وطعام ،روشنی کتب اور دیگر سہولیات مدرسہ فراہم کرتا ہے ۔۔
بہرحال ہند و نیپال کے اندر اس ادارے کی شہرت و مقبولیت اپنے کام و خدمات کے اعتبار سے ہے اور دن بدن بڑھتی ہی جارہی ہے، لہذا حاجت مند قارئين سے گزارش ہے کہ آپ اگر اپنے بچوں کا مستقبل روشن دیکھنا چاہتے ہیں تو اس ادارہ کو ترجیح دے کر دارین کی سعادت حاصل کریں۔
میری دل سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مدرسہ ھذا کو ترقی در ترقی عطا کرے اور اس کے ذمہ داران ، اساتذہ کو ہر آفات و بلیّات سے محفوظ رکھے۔ آمین