شیخ محمد مصطفیٰ کعبی ازھری
                     فاضل الازہر یونیورسٹی مصر عربیہ۔   
ھند و نیپال میں کچھ عرصے سے ایک نام کافی گونج رہی ہے ہر ذی علم کی محفل میں اس نام کا تذکرہ سنے اور دیکھنے کو ملتا ہے اکثر و بیشتر جلسے جلوسوں میں یا جمیعت و جماعت کی محفلوں میں وہ چہرا دیکھنے کو ملتا ہے
  وجوہات بہت ساری ہو سکتی ہے اسکو بلاۓ طاق رکھتے ہوۓ اس شخصیت پر بات کی جائے تو بہت سی باتیں کہی  جاسکتی ہےجن کا تذکرہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں
انکا قلم ایک الگ انداز میں بولتا ہے جب لکھنے پے آجائے تو عزیر شمش رحمہ اللہ جیسی عظیم شخصیت پر سنہرے حروف میں کتاب تصنیف کر دیتے ہیں
مختلف مقامات سے شائع ہونے والے مجلات ( محدث بنارس، اصلاح وترقی اعظم گڑھ، نور الحدیث لاہور ، تفہیم الاسلام بہاولپور ، السراج جھنڈانگر نیپال، القلم روپندیہی نیپال وغیرہ) میں اور اخبارات (سماج نیوز ۔۔سیاسی تقدیر اور سھارا۔۔ وغیرہ) میں مختلف موضوعات پر روشنی ڈالتے رہتے ہیں
اور جب زبانی قوت کا مظاہرہ کر نے کا موقع ملے تو محفل آپکی اور لوگ آپ کے مرید بن جاتے ہیں
اللہ نے آپ کو کتابت و خطابت دونوں میدان میں مایہ ناز قابلیت بخشی ہے
انہیں تمام چیزوں کو دیکھتے ہوۓ چند روز قبل ہندوستان میں آپ کو مدعو کیا گیا اور ”تقریب ختم نبوت ریڈرز کلب انٹرنیشنل ڈاکٹر بہاءالدین ایوارڈ براۓ ”تذکرۃ المناظرین“مؤلف:محمد مقتدیٰ اعظمی عمری “میں تأثراتی کلمات پیش کرنے کا موقع ملا
یہ تو انکی علمی کارنامے ہیں اگر ان کی سماج کے متعلق سوچ کو جانا جاۓ تو معلوم ہوگا آپ خواہش رکھتے ہیں کہ ہر بچہ علوم نبوت سے سرفراز ہو اور آپ اسکے لۓ حتی المقدور و تعاونوا على البر والتقوى کے تحت بچوں کی تعاون بھی کرتے ہیں
اگر آپ کی اخلاق کی بات کی جائے تو معلوم ہوتا ہے اور میں نے  بھی آپ کو بہت قریب سے جانا ہے کہ ۔۔آپ سادگی پسند۔۔ لوگوں سے ہم کلام ہوتے وقت نرم لہجہ اور دوستانہ تعلق رکھتے ہیں اور بہت ساری خوبیوں کے مالک ہیں
    اللہ سے یہی دعاء 🤲🤲🤲ہے کہ آپ کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی دیں اور ہر میدان میں کامیاب کریں آمین
                         آپ کا اپنا بھائی
                   محمد حامد بن محمد مسلم
    استاذ کلیہ فاطمۃ الزھراء للبنات کٹیا دھنوشا نیپال