تحریر: عبداللہ منصور ھندی
نوجوان سماج کی ترقی میں سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ان کے اندر جوش ۔امنگ ۔ہمت ۔اور لازوال صلاحیتیں پنہاں ہوتی ہیں جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کی ضمانت فراہم کرتی ہیں ۔ شیخ مصطفی کعبی ازہری جیسے با صلاحیت اور متحرک و فعال نوجوان جنہوں نے اپنی استطاعت بھر قوم کی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ شیخ سے ملاقات پرساہی میں ہوا لیکن حالات کے تھپیڑوں اور وقت کی تنگ دامنی نے موقع نہیں فراہم کیا کہ احساسات و جذبات کو قلمبند کروں :
لیکن شیخ جب بروز جمعہ دیودھا آۓ آپ میرا نمبر میرے بھائی معراج و ریاض منصور عالم فضیلت سال آخر جامعہ عالیہ عربیہ مؤ سے  حاصل کۓ آپ نے فوراً مجھے کال کۓ علیک سلیک کے بعد فوراً میں آپ سے ملنے کو کہا راقم الحروف اور میرے سینئیر مولوی عالم اسلامی حفظہ اللہ کے ساتھ آپ کو دیدار کیا کافی اہم باتوں پر گفتگو ہوئی۔  آپ نئ نسل کے لئے مشعل راہ ہے میں نے اکثرو بیشتر مضامین آپ کے پڑھے ہیں شیخ مصطفیٰ کعبی ازہری خوبصورت ڈیل ڈول اور متشرع چہرہ والے اور بے باک حق گو صحافی کا نام ہے۔ نو وارد قلمکار ہیں جس نے اپنی آنکھیں علم وادب کی بستی بیلہا ضلع سرہا نیپال میں کھولی آپ کو ہمیشہ سے ہی صحافت سے گہری دلچسپی رہی ہے جس کی وجہ موصوف کے مضامین نیپال کے علاوہ ہندوستان کے اخبار و رسائل و جرائد میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے ۔اور یہ سلسلہ دراز ہوتا ہوا یہاں تک آ پہونچا کہ اب نئ نسل کی اکثریت آپ کے مضامین کا بے صبری سے انتظار کرتی ہے ۔ آپ نے کم عمری میں بڑی شہرت اور بلندی حاصل کی ہے اس کی بنیادی وجہ موصوف کی محنت ، لگن ، کوشش ، شوق ، ذوق ، جذبہ اور جنون ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے مضامین روزنامہ سماجی نیوز ، روز نامہ سیاسی تقدیر ، روزنامہ قومی تنظیم ، روزنامہ سہارا ایکسپریس پٹنہ، رانچی، دہلی کے علاوہ ، دو ماہی نور الحدیث لاہور پاکستان، مجلہ تفہیم الاسلام بہاولپور پاکستان، مجلہ محدث جامعہ سلفیہ بنارس ، مجلہ اہل السنہ ممبئی، مجلہ سراج منیر بلرام پور یوپی، مجلہ الفرقان ڈومریا گنج سدھارتھ نگر، مجلہ اصلاح و ترقی علی گڑھ یوپی، ماہنامہ الفجر مشرقی چمپارن بہار، سہ ماہی مجلہ البلاغ مہراج گنج یوپی، سہ ماہی مجلہ الہادی ہورہ کولکاتہ ہند، مجلہ صدائے حق بنگلور ہند، سہ ماہی مجلہ صدائے حق جھاڑکھنڈ ہند، ماہنامہ صوت القرآن احمدآباد ہند، مجلہ نور توحید کرشنانگر نیپال، مجلہ السراج جھنڈانگر کپل وستو نیپال، مجلہ القلم روپندیہی نیپال، سہ ماہی مجلہ النور بیریا روٹہت نیپال، ہفتہ واری صداۓ عام نیپال و دیگر میں پابندی کے ساتھ شائع ہوتے رہتے ہیں ۔ قلم کو مسلسل حرکت میں رکھنا اور حالات کے مطابق لکھتے رہنا آپ کا امتیازی وصف ہے ۔
جو انہیں دیگر قلمکاروں سے ممتاز کرتی ہے ۔
موصوف کے ایک کامیاب قلمکار ہونے کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ کہ آپ نے علامہ عزیر شمس رحمہ اللہ کی حیات و خدمات پر ایک جامع کتاب لکھ ڈالے جو جلد ہی مکتبہ دارالسلام مئو سے منظر عام پر آ جاۓ گا ۔جن سے نئ نسل کو کافی معلومات اور مستقبل میں بہتر کرنے سیکھنے کو ملے گا ان شاء اللہ ۔
       موصوف کی تحریر میں اتنی پختگی یونہی نہیں آئی بلکہ اسے کرنے کے لئے انہوں نے نرم و گداز بستر سے کٹ کر۔ آنکھوں کی پیاری نیند کو تج کر ۔ جہد مسلسل ۔ اور عمل پیہم کو وظیفہ حیات بنایا تب جاکر کم عمری میں ہی رب العزت نے انہیں اتنا بڑا مقام و مرتبہ اور اتنی شہرتیں عطا کیں ۔ موصوف کی پرواز کا سلسلۂ دراز ہوتا رہے لوگوں کی محبتیں اور شفقتیں یونہی ان کے دامن کو سدا بھرتی رہے اور قوم ملت کے دکھ درد اور ایسے ہی بے باکی اور حق گوئی کے ساتھ قلمبند کرتے رہیں موصوف کی شخصیت پہ لکھنے کے لئے طویل مضمون کی ضرورت ہے لیکن وقت اور حالات فی الحال میرے ساتھ نہیں بس
    موصوف کی بلندی اور روشن مستقبل کی نذر یہ شعر کرتا چلوں کہ
     تجھے نصیب ہو ایسا عروج دنیا میں 
  کہ آسماں بھی تیری رفعتوں پہ ناز کرے
نوٹ: پہلی تصویر کہ دائیں جانب شیخ مصطفیٰ کعبی ازہری
و دوسری میں بائیں اخیر میں مولانا تبارک سلفی راقم الحروف کعبی ازہری کے بعد عالم اسلامی حفظہ اور شکرگزار ہوں فوٹو گرافر مولانا ماسٹر محمد جاسم
اللہ بہتر بدلہ دے آمین یارب العالمین