الشیخ قمر الدین  ریاضی

عید میلاد النبی ﷺکی شرعی حیثیت
قمر الدین ریاضی، استاذ جامعہ سراج العلوم السلفیہ

مذہب اسلام کا مسلمہ دستور ہے کہ جو بھی اپنے آپ کی نسبت اس دین کی طر ف کرتا ہے اس کے لئے واجب وضروری ہے کہ اس کا ہر عمل اللہ کی خوشنودی کے لئے ہو اور ساتھ ہی ساتھ اس عمل کی مشروعیت نبی کریمﷺسے ثابت ہو، عمل کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو لیکن اگر وہ خلوص و للہیت اور اتباع سنت سے خالی ہو تو اللہ کی بارگاہ میں اس عمل کی کوئی وقعت نہیں ہوتی، ارشاد ربانی ہیں: “وما امروا إلا لیعبدوا الله مخلصین له الدین” (البینة)
ترجمہ: انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیاگیا کہ صرف اللہ عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔
دوسری جگہ ارشاد فرمایا: “قل ان صلاتی ونسکی ومحیایی ومماتی للہ رب العالمین”
ترجمہ:آپ فرمادیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔
اسی طرح سے نبی کریمﷺ نے ہر دینی عمل كو اپنی سنت کو لازم قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: “من عمل عملا لیس علیه امرنا فہو رد” یعنی: جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس کے کرنے پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ عمل مردود ہے۔(صحیح مسلم۳۹۴۴)
دوسری حدیث میں آپﷺ نے فرمایا: “جس نے ہمارے اس امر(دین)میں کوئی ایسی نئی بات شروع کی جو اس میں نہیں تو وہ مردود ہے”۔(صحیح مسلم۲۹۴۴)
مذکورہ بالا نصوص سے یہ بات اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ ہمارا کوئی بھی عمل ہو اور ہم اسے حصول ثواب کی نیت سے انجام دینا چاہتے ہیں تو اس عمل میں دو چیزوں کا پایا جانا لازمی ہے:
(1) اخلاص عمل: اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارا یہ عمل خالص اللہ کی رضامندی اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہو، ہمارے اس عمل میں ریا و نمود کا شائبہ نہ ہو، اگر اس عمل سے ریاکاری مقصود ہے تو اللہ کے دربار میں وہ عمل قابل قبول نہ ہوگا۔
(2)اتباع سنت: اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارا عمل بعینہ سنت کے مطابق ہو، اگر اس عمل کو سنت نبوی کے مطابق انجام نہ دیا گیا تو وہ عمل قبول نہ ہوگا۔
بلا شبہ نبی کریمﷺ سے محبت کرنا دین کا لازمی حصہ ہے، بلا محبت رسول ﷺ کے کسی بھی کلمہ گو کاایمان کامل ہو ہی نہیں سکتا ہے، جیساکہ ارشاد نبوی ہے: “لا یومن أحدکم حتی أکون أحب الیه من والدہ وولدہ والناس اجمعین” یعنی: کسی کا ایمان اس وقت تک مکمل ہو ہی نہیں سکتا جب تک اس کے والد اور اس کی اولاد اورتمام لوگوں سے اس کے دل میں میری محبت نہ ہو جائے۔
اللہ اور اس کے رسول سے محبت کا معیار کیا ہے؟ اس کی وضاحت نصوص شرعیہ میں صاف طور پر فرمادی گئی ہیں، شریعت مطہرہ میں محبت کا معیار یہ ہے کہ محبت کرنے والا حد درجہ کتاب وسنت کا پاپند ہو، چنانچہ جو شخص جتنا ہی کتاب وسنت کا متبع ہوگا اس کی محبت اتنی ہی قوی وعظیم ہوگی ، بلا اتباع کتاب وسنت کے محبت کا دعوی کرنا بے سود وبے معنی ہوگا، جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے “قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ” ترجمہ: کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میر تابعداری کرو۔
مذکورہ بالا نصوص شرعیہ سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ سے محبت کرنے کا دعوی کرے تو اس کے لئے لازم ہے وہ نبی کریمﷺ کی اتباع تمام امور میں ضرور بالضرور کرے بغیر اتباع رسول ﷺ کے اس کا یہ دعوی باطل ہوگا۔
ربیع الاول کا مہینہ ہمارے سروں پر سایہ فگن ہے، یہی وہ مبارک مہینہ ہے جس میں اس کائنات کی سب سب اشرف ومعزز شخصیت جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی، بلاشبہ آپﷺ کی ولادت باسعادت پوری انسانیت کے لئے باعث خیر وبرکت اور خوش کن ہے البتہ واضح رہے کہ ہماری یہ خوشی نبی کریمﷺ کی پاکیزہ تعلیمات کی روشنی میں ہو، کیونکہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کا مطلب ہی یہی ہے کہ شرعی تعلیمات کے سامنے سر تسلیم خم کردینا۔
آج معاشرے کے بہت سارے مسلمان نبی کریمﷺکی ولادت باسعادت کی مناسبت سے محبت رسول ﷺ کا واسطہ دے کر ایسے کام انجام دیتے ہیں جس کا تصور قرون مفضلہ میں دور دور تک نہیں تھا، جشن میلاد کے نام پر ڈھول، تاشے، ڈی جے، ناچ گانے کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے اور اس کو بکار ثواب سمجھ کر بڑے ہی جوش وخروش سے انجام دیا جاتاہے، جب کہ ہمیں سنجیدگی سے سوچنا جاہئے کہ اگر یہ عمل کارثواب ہوتا تو اللہ کے رسول ﷺ اس کی طرف رہنمائی ضرور فرماتے کیونکہ آپ کا فرمان ہے: “ماترکت شیئا یقربکم الی اللہ الا و امرتکم بہ” یعنی:میں نے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جس سے اللہ کا تقرب حاصل کیا جائے الا یہ کہ میں نے اس کاحکم دے ہی دیا۔
ذور سوچیں! اگر جشن میلاد منانا کارثواب ہوتا تو کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ اس عمل کو انجام دینے سے چوکتے؟! اگر یہ کارخیر ہوتا تو حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان غنی، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم اجمعین اس میں پیچھے رہ جاتے، اگر جشن میلاد منانا درست ہوتا تو آپ ﷺ کی سب سے چہیتی بیوی اماں عائشہ رضی اللہ عنہا اس عمل کے انجام دہی میں پیچھے رہ جاتیں ، اگرجشن میلاد منانا درست ہوتا توحضرت حسن وحسین رضی اللہ عنہما ضرور بالضرور مناتے، لیکن ایک بھی روایات ان حضرات سے مروی نہیں ہے کہ انہوں خود جشن میلاد منایا ہو یا مناے کا حکم صادر فرمایا ہو۔
ذرا سوچیں!  اگر جشن میلاد منانا درست ہوتا تو امام اعظم حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ ضرور اپنے متبعین کو اس کا حکم دیتے،حضرت امام شافعی، حضرت امام مالک، حضرت امام احمد بن حنبل رحمہہم اللہ ضرور بالضرور اس جشن منانے کے لئے فتوی صادر فرماتے، لیکن ایک بھی روایت ان  سلف صالحین سے ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے جشن منایا ہو یا منانے کا حکم دیا ہو۔
قارئین کرام!  جشن عید میلاد النبیﷺ کی شروعات چوتھی صدی ہجری عبیدیوں وفاطمیوں کے ہاتھوں سے ہوئی جیسا کہ بعض مورخین ذکر کرتے ہیں، اور بعض مورخین کے نزدیک جشن میلاد کی شروعات چھٹی صدی ہجری میں بادشاہ اربل مظفرابو سعیدکے ہاتھوں ہوئی،یہ سب ایسے افراد ہیں جن کا اتباع سنت سے کوئی سروکارنہ تھا۔ لہذا کسی بھی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اس طرح کے بدعات خرافات میں اپنے آپ کو مصروف کرے اور اس بدعت کو فروغ دے، رہا ان لوگوں کا معاملہ جو حضرات اس جشن کو بدعت حسنہ قرار دیتے ہیں تو ان کی یہ تقسیم نبی کریم ﷺ کی شخصیت کو مجروح کررہی ہے گویا نبی کریمﷺ اس عمل کی رہنمائی نہ کرسکے جس کو آج کے مسلمان محبت رسولﷺ کا دعوی کرکے انجام دے رہے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت سے مالا مال کرے۔
اور اس بدعت سے ہم سب کو محفوظ رکھے۔آمین ثم آمین۔