
شکیل بن حنیف، دربھنگہ، ھندوستان کے صوبہ بہار کے موضع عثمان پور کا رہنے والا ایک کذاب شخص ہے، جس نے چند برس قبل جب کہ وہ دہلی میں تھا مہدی ہونے اور پھر مہدی ومسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا، اور اپنا فتنہ پروان چڑھانے کی بے جوڑ کوشش شروع کردی۔ اس طرح ایک نئی فتنے کی داغ بیل ڈالی، اس نے پہلے دہلی کے مختلف محلوں میں اپنی مہدویت ومسیحیت کی تبلیغ کی، لیکن ہر جگہ اسے اپنی مشن میں کامیابی نہیں ملی بالآخر راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہوا، پہلے محلہ نبی کریم کو اس نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا، اور پھر لکشمی نگر کے دو مختلف علاقوں میں یکے بعد دیگرے رہ کر اپنے مشن کو چلایا، دہلی کے زمانہٴ قیام میں اس نے بالخصوص ان سادہ لوح نوجوانوں کو اپنا نشانہ بنایا جو دہلی کے مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے تھے، لیکن جیسے ہی لوگوں کو اس کی حرکتوں کی اطلاع ہوتی، وہ اس کے خلاف ایکشن لیتے اور اسے اپنا ٹھکانہ تبدیل کرنا پڑتا، بالآخر اسے دہلی سے ہٹنے کا فیصلہ کرنا پڑا، اور اس نے اپنی بود وباش مہاراشٹر کے ضلع اورنگ آباد میں اختیار کرلی کسی ناعاقبت اندیش عقل کے اندھے اور قرآن وحدیث کی عدم معرفت رکھنے والے نے اس کے لیے ایک پورا علاقہ خرید کر ایک نئی بستی بسادی، جس میں وہ اور اس کے ”حواری موادی چیلے “ رہتے ہیں۔
معزز قارئین!
فتنے کا ادراک سب سے پہلے کتاب وسنت کی معرفت رکھنے والے افقی نگاہ والے علماءکرام کو ہوتاہے ، کیونکہ اللہ نے انہیں (علماء ) اپنی علم بصیرت، حکمت و فراست اور دانائی عطا فرمائی ہے جو اپنی نگاہ بصیرت اور میزان رسالت مآب سے بھانپ لیتے ہیں اور عوام کو اس کی شر انگیزی کذب ورفض سے آگاہ کر دیتے ہیں ۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عقل کے ماروں اور اندھی تقلید کی وجہ سے فتنہ سر چڑھ کر بولنے لگتا ہے ، افسوس کی بات یہ ہے کہ فتنوں کی روک تھام کی فکر اس وقت ہوتی ہے جب پانی سر سےاوپر گزر جاتاہے (اذا بلغ السیل الزبی ) یعنی جب اس کے شکار ہزاروں لاکھوں لوگ ہوجاتے ہیں اور اس وقت تک فتنوں کی جڑیں اتنی مضبوط ہوچکی ہوتی ہیں یا ان کی شاخیں اتنی پھیل چکی ہوتی ہیں کہ اب اس کو روکنا گویا جوئے شیر لانا ہے۔’’شکیلیت‘‘ کا فتنہ کوئی نیا نہیں ہے یہ ایک فتنہ نہیں نہ جانے اور کتنے فتن و نوائب الدہر اپنا پیر پھیلا چکے ہیں ۔مثلاً اس وقت مودودیت ، قطبیت ،بنائیت اورخمینیت وغیرہ کے فتنے عروج پر ہیں ۔
محترم قارئین!
اس فتنے کی طرف دعوت دینے والے داعیوں کا طریقہ بہت پوشیدہ ہے۔شکیلی لوگ اپنا نیٹ ورک ایسے نوجوانوں سے خفیہ طورپر جوڑتے ہیں جنہیں مدرسے کی ہوا بھی نہ لگی ہو ، مساجد ،دروس ومحاضرات سے جن کا کوئی مطلب نہ ہو ،مشائخ و علماء ثقات سے ان کا کوئی رابطہ نہ ہو ۔ مثلاً کسی کالج کا، کسی اسکول کا ایک ایسا طالب علم ہے جس کا کسی عالم سے یا دینی جماعت سے یا دینی تنظیم سے رابطہ نہیں ہے۔
طریقۂ کار !
ان کچے اورنا پختہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے شروع میں یہ کہتے ہیں کہ ہم علاماتِ قیامت کو سائنس کے ذریعہ بتا ئیں گے، اور اس طرح جب نوجوان ان کی بات سننے پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو شروع میں علاماتِ قیامت کو اپنے وضع کردہ طریقہ اور خاص پیٹرن سے سمجھاتے ہیں، اور جی لبھانے والا اسٹائیل اپنا کرکے مخاطب کے دل میں جگہ بناتے ہیں ،اب جب زمین ہموار ہوئی تو قیامت کی علامات اور نشانیوں کو جدید ایجادات پر اس طرح فٹ کرتے ہیں کہ علامات قیامت سے متعلق نبی ﷺکی پیشین گوئیاں مثلاً ظہور مہدی ، خروجِ دجال اور نزولِ عیسیٰ کا اصل مفہوم بگڑ جاتا ہے، اور اس موضوع کی صاف اور واضح احادیث میں کھینچ تان کرکے ، تاویل وتحریف کرکے وہ ان کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
٭ فتنے کا مقابلہ کیسے کیا جائے ؟ :
۱۔ علماء و فضلاء ِدین کو جنگی پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے ، وہ فتنے کی سرکوبی کے لیے بالکل مستعد وتیار رہیں ، قلمی ولسانی جہاد کریں ، پہلے ہی سے لوگوں کے ذہن کو واش کررکھیں ، دروس وخطباتِ جمعہ میں بلاخوف لومۃ لائم کے کھول کھول کراس طرح کی فتنوں کا قسط واراور ٹھہر ٹھہر کر رد کریں ۔
۲۔ لوگ مساجد ومدارس سے اپنا ربط مضبوط کریں ، علماء سے دوری نہ بنائیں ، کچھ اردوزبان پڑھنا آتی ہو تو اردو میں ردِّ فتن پر مشتمل کتابوں کا مطالعہ کریں ،لیکن کسی جان کار سے مشورہ لے کر ۔
۳۔ گھر کا ماحول دینی بنائیں ، بچوں کو عقیدہ ٔتوحید ،ختم ِرسالت ،دین کے مسلمات اور اساس ومنہجیت کی ٹھوس تعلیم دیں ۔
۴۔ علماء کو چاہیے کہ عقیدۂ ختم ِنبوت کولوگوں کے دلوں میں راسخ کریں۔
۵۔ جلسہ وکانفرنس میں مسیح ،مہدی اوردجال کے بارے میں لوگوں کوصحیح انفارمیشن دیں ۔
۶۔ انٹرنیٹ، فیس بک، گوگل اورٹویٹر وغیرہ سے علم حاصل کرنے کے بجائے مستند وثقہ عالم سے علم حاصل کریں ۔
۷۔ دنیاوی حرص ولالچ سے بچیں ،حلال کمائی کھائیں ، ممکن ہے کہ یہ لوگ آپ کی غربت و افلاس کافائدہ اٹھاکر آپ کو سبزباغ دکھائیں اور آپ کے دین وعقیدے پر حملہ کردیں اور آپ کوشکیلی فکر کا حصہ بنا دیں ۔
اللہ تعالی عالم اسلام کو تمام فتنوں سے محفوظ رکھے
خادم کتاب و سنت
صلاح الدین لیث محمد لیثی
مرکز الصفا الاسلامی روپندہی نیپال