محمد اظہر عبداللطیف نیپالی نے جامعہ عالیہ عربیہ و ملک نیپال کا نام روشن کیا
اسٹار فاونڈیشن مئو کے زیر اہتمام ضلعی پیمانے پر اردو، ہندی اور انگریزی زبانوں میں اسپیچ کمپٹیشن
———————————————————-
لمبنی/ ہارون انصاری
اسٹار فاؤنڈیشن ضلع مئو کی جانب سے ضلعی پیمانے پر سہ لسانی تقریری مسابقے کا انعقاد بتاریخ ۲۹ستمبر ۲۰۲۴ء بروز اتوار گارڈن پلازہ ، جہانگیرہ باد،  نزد متّل ہوسپیٹل مئو میں ہوا،کمپٹیشن اردو، ہندی اور انگریزی زبان میں تھا  جس میں مختلف جامعات، مدارس، اسکولز اور کالجز کے طلبہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
محمد اظہر بن عبداللطیف متعلم جامعہ عالیہ عربیہ مئو ناتھ بھنجن یوپی انڈیا نیپال کے مشہور ضلع روپندیہی  مولد گوتم بدھ لمبنی سے متصل لمبنی سانسکرتک نگر پالیکا وارڈ نمبر 6 موضع تنہوا سے ہے۔ ان کی اس کامیابی پر اہل خانہ سمیت احباب واقارب نے مبارکبادی کے برقی پیغام ارسال کئے ہیں۔
واضح رہے کہ  مسابقے میں پہلی ، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے خوش بخت مشارکین کو اسٹار فاؤنڈیشن نے ٹرافی ، سرٹیفیکٹ اور مڈل سے نوازا گیا۔ اردو تقریر میں پہلی پوزیشن عزیزم محمد اظہر بن عبداللطیف( نیپالی ) متعلم جامعہ عالیہ عربیہ، مئو نے حاصل کرکے ادارہ، مشفق  اساتدۂ کرام سمیت اپنے ملک نیپال کا روشن کیا۔
جامعہ عالیہ عربیہ کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر حفیظ الرحمن سنابلی نے اپنی خوشی کا اظہار کیا اور طالب علم کی خوب ستائش کی اور جامعہ میں پہونچتے ہی تمام طلبہ کے سامنے طالب علم کو اعزاز سے نوازا  اور اس کامیابی پر انھیں مبارکباد پیش کی اور تمام طلبہ کو اس طرح کے پروگراموں میں شرکت کرنے کی تلقین کی  مزید کہا کہ آپ لوگوں کے اندر دنیا کا ہر کام کرنے کی صلاحیت ہے بس آپ کو نکھارنے ،تراشنے نوک پلک سنوارنے اور ٹرینڈ کرنے کی ضرورت ہے ۔ آپ لوگ ہی  قوم کے رہنما ہیں اور آپکی صحیح رہنمائی  کا انتظار دنیا کررہی ہے لیکن یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ آج ہم ذلیل وخوار ہوتے جارہے ہیں کچھ علماء کی کوتاہیوں کی وجہ سے کیونکہ اگر یہ سدھر جائیں گے تو پورا سماج سدھر جائے گا اور اگر یہ بگڑ گئے تو پورا سماج گمراہ ہوجائے گا اور اگر یہ لوگ عزم کرلیں اصلاح وبہتری کی تو تاریخ  کا رخ بھی موڑ سکتے ہیں جیسا کہ ہماری تاریخ رہی ہے۔
صلاح سراجی ڈایریکٹر صلاح ٹور اینڈ ٹراولس نے انہیں مبارکبادی پیش کرتے ہوئے سماج نیوز کی ذریعہ اس پیغام کو عام کیا کہ اس طرح کے مسابقے کم از کم سال میں ایک بار ضرور انتظامیہ کو کرانے چاہئے ،انہوں نے کہا کہ بچوں کے اندر صلاحیت فطری  طور پر ودیعت شدہ ہوتی ہے لیکن وقت پر درست رہنمائی ، نشان دہی ، اچھے مربی کی نگرانی نہیں ہوتا اس لئے آج کے بچے صلاحیت کے باوجود احساس کمتری کے شکار ہوتے ہیں اور محفلوں میں بولنے،گفتگو کرنے سے گھبراتے ہیں۔
صحافی وتجزیہ نگار محمد ہارون انصاری نے انکی اس کامیابی پر مبارکبادی دی اور سماج نیوز سروس کے پلیٹ فارم سے یہ پیغام دیا کہ (یہ آوارہ ذرے ہیں انکی گلی میں •|• بنیں گے یہ شمس و قمر دیکھ لینا) والدین ابتدائی دنوں سے بچوں کو احساس کمتری کا شکار بنا دیتے ہیں،انکی کامیابی چہ جائے کہ انہیں اپنی بساط بھر کچھ سوغات لاکر دیں، انہیں اپنے ساتھ رکھ کر اپنی موجودگی کا احساس دلاکر خیر وشر سے آگاہ کریں ، صحیح تربیت کریں ، اسلاف صحابہ کرام کے واقعے سناکر انکے ایمان و یقین کے اندر مضبوطی پیدا کریں بلکہ بات بات پر جھڑکنا،بچوں کو پھٹکار لگانا،دوستوں کے درمیان زجروتوبیخ کرنا،معمولی بات پر بچوں کے ساتھ ڈرامہ کرنا وغیرہ وغیرہ۔بچوں کو کمزور تر بنا دیتا ہے خمیازہ یہ ہوتاہے کہ بچہ زندگی کے ہر میدان میں ناکام ہی رہتاہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں کی صحیح تربیت کریں،ہت جائز خواہش کی تکمیل کریں،کامیابی پر مبارکبادی پیش کرکے انہیں خوشی ومسرت احساس دلائیں تاکہ اس کے عزم و استقلال حوصلے بلند ہوں۔
انگریزی زبان میں دوسری پوزیشن جامعہ کے ایک سابق متعلم محمد انورمحمد  آفات  اللہ متعلم جامعہ فیض عالم نے حاصل کی اور آن اسٹیج اپنے استاد ڈاکٹر حفیظ الرحمن سنابلی  (جن کو انگلش زبان میں جج کی حیثیت سے مدعو کیا گیا تھا) کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے ادارے کے اساتذہ و ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا۔  ان بچوں کی کامیابی پر فاونڈیشن کے صدر نور عالم صاحب اور فاونڈر ومینیجنگ ڈائرکٹر  اقدس رشاد صاحب نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مبارکبادپیش کی۔
پروگرام میں شہر کے معززین بالخصوص عالی جناب سالم انصاری صاحب (سابق ایم پی)، طیب پالکی صاحب (سابق چیرمیں نگر پالیکا، مئو) قوم کے خیر خواہ عالی جناب جمال ارپن صاحب  نے شرکت کی اور مشارکین ومنتظمین پروگرام کی حوصلہ افزائی کی۔