
آن لائن محاضرہ بعنوان “زوال امت, اسباب و تدارک” کا کامیاب اور شاندار انعقاد
ڈاکٹر محمد اورنگزیب تیمی
ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال
——————-
مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کی جانب سے 27/اکتوبر 2024م بروز اتوار بوقت نو بجے شب آن لائن محاضرہ بعنوان زوال امت، اسباب و تدارک منعقد ہوا، اس پروگرام کے محاضر جماعت اہل حدیث ہند کے معروف عالم دین ” فضیلۃ الشیخ مطیع اللہ حقیق اللہ مدنی ، سینئر استاد جامعہ اسلامیہ سنابل دہلی، تھے، جبکہ نظامت کا فریضہ مرکزی جمعیت اہلحدیث نیپال کے ناظم عمومی خاکسار ڈاکٹر محمد اورنگزیب تیمی نے ادا کیا ، شیخ محترم نے اس موضوع پر چشم کشا اور بصیرت افروز محاضرہ پیش کیا، آپ نے اپنے موضوع کا اغاز قرآن مقدس کی چند آیتوں سے کیا، آپ نے سب سے پہلے قراني آیات
“يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ،هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ،يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ”
کے ذریعے موضوع کا خلاصہ پیش کیا ۔
ان تمام آیتوں کا ترجمہ و تشریح کے بعد شیخ محترم نے مزید ایک آیت “لَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنا لِعِبادِنَا الْمُرْسَلينَ، إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُورُونَ ، وَإِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ ،فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّى حينٍ ، وَأَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ ،أَفَبِعَذابِنا يَسْتَعْجِلُونَ ، فَإِذا نَزَلَ بِساحَتِهِمْ فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرينَ ،وَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّى حينٍ ،وَأَبْصِرْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ” کا سہارا لیتے ہوئے صلب موضوع میں داخل ہوئے ، زوال امت کا معنی مفہوم کو تفصیل سے پیش کیا اور بتایا کہ آج اکثر لوگ زوال امت کا معنی و مطلب بیان کرنے میں کہیں نہ کہیں غلطی کرتے ہیں، بلکہ امت مسلمہ کو زوال امت کہنا ہی صحیح نہیں ہے۔
آپ نے مزید کہا: اخوانی فکر کے بہت سارے علماء و مصنفین مثلا شکیب ارسلان ، حسن البناء، مودودی، یوسف القرضاوی، حتی کہ علی میاں ندوی کی شہر افاق کتاب “ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين ” میں بھی زوال امت کی صحیح تشریح پیش نہیں کی گئی ہے ۔
زوال امت کی صحیح تشریح پیش کرتے ہوئے اس کے معنی کو مزید قوت عطا کرتے ہوئے موصوف نے بتایا کہ آج امت پستی کا شکار ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ امت قران و سنت، فہم سلف ،اور منہج سلف سے کوس و دور ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے یہ امت انحطاط پذیر ہے۔
آپ نے دوران محاضرہ اس جانب بھی اشارہ کیا کہ کچھ لوگ زوال امت کے اسباب :
1/ خلافت راشدہ کا خاتمہ 2/ دشمنوں کے سامنے نفسیاتی غلبہ 3/ عصری علوم مثلا سائنس، ٹیکنالوجی، بائیولوجی، فزکس، کمسٹری، وغیرہ وغیرہ میں مسلم امت کی پسماندگی کو شمار کرتے ہیں جبکہ بات اس طرح نہیں ہے اور نہ ہی یہ ساری چیزیں زوال امت کے اسباب میں سے ہیں۔ آپ نے کہا حضرت عمر کے اس فرمان کو دیکھیے کہ امیر مومنین فرماتے ہیں۔إنا كنا أذل قوم فأعزنا الله بالإسلام فمهما نطلب العزة بغير ما أعزنا الله به أذلنا الله “
محاضر موصوف نے بتایا کہ: تتبع اور دراسہ کے بعد میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ اس امت کے اسباب زوال میں یہ چند باتیں ہیں جنہیں میں ذیل میں ذکر کر رہا ہوں۔
1/ ایمان اور اثبات توحید میں کمزوری 2/ اس امت کا شرک و کفر کے دلدل میں پھنس جانا 3/ بدعت کا گراف اس امت پر بڑھ جانا 4/ عقول افتراق کا پایا جانا 5/ امت اجابہ کا افتراق وانتشار میں واقع ہو جانا 6/ سنت سے دوری 7/ عمل ,اخلاق, معاملات میں فساد واقع ہو جانا 8/ اس امت کا مال کے فتنوں میں مبتلا ہو جانا۔۔۔(حديث كعب بن عياض قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: إن لكل أمةٍ فتنةً، وفتنة أمتي المال، رواه الترمذي، عن النبي ﷺ قال: إن الدنيا حلوة خَضِرة، وإن الله مستخلفكم فيها، فينظر كيف تعملون، فاتقوا الدنيا، واتقوا النساء، فإن أول فتنة بني إسرائيل كانت في النساء،رواه مسلم،
آخر میں موصوف نے تدارک کی جانب مختصر اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ: امت مسلمہ کو ! کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا اور اس سلسلے میں بعض احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی گفتگو کو مزید پختہ کیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:أوصيكم بتقوى اللهِ والسمعِ والطاعةِ وإن عبدًا حبشيًّا، فإنه من يعِشْ منكم بعدي فسيرى اختلافًا كثيرًا، فعليكم بسنتي وسنةِ الخلفاءِ المهديّين الراشدين تمسّكوا بها، وعَضّوا عليها بالنواجذِ، وإياكم ومحدثاتِ الأمورِ فإنَّ كلَّ محدثةٍ بدعةٌ، وكلَّ بدعةٍ ضلالةٌ” اسی طرح آپ نے یہ حدیث بھی نقل کی، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں”تركتُ فيكم أَمْرَيْنِ لن تَضِلُّوا ما تَمَسَّكْتُمْ بهما : كتابَ اللهِ وسُنَّةَ نبيِّهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ”
مندرجہ بالا احادیث اور قرانی ایات کا ترجمہ اور تشریح کرتے ہوئے آپ نے اپنی گفتگو ختم کی۔ اس کے بعد تاثراتی دور کا اغاز ہوا.
سب سے پہلے ڈاکٹر سلیم انصاری صاحب نے زوال امت کے موضوع پہ اپنی رائے پیش کرتے ہوئے کہا کہ: آج امت جس طرح زوال پذیر ہے اس کی بڑی وجہ عمل میں کوتاہی، عصری علوم سے دوری، عصر حاضر کی ترقیاتی وسائل سے محرومی اور آعمال و اخلاق میں کمی ہے ۔
اس کے بعد مولانا فیصل عزیز عملی مدنی نے اپنا تاثر دیتے ہوئے گویا ہوئے :اسباب زوال امت، ذیلی اور ضمنی طور پر کچھ بھی ہو سکتے ہیں، اصل زوال اس امت کو جو درپیش ہے وہ کتاب و سنت کو چھوڑنے کی وجہ سے ہے،اور آپ نے اس کی کئی مثالیں دیں، آپ نے کہا : غزوہ بدر کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے کہ صحابہ کی ایک چھوٹی سی جماعت بڑی جماعت پر غالب رہی، اس کی بڑی وجہ ایمان کی دولت سے مالامال ہونا تھی اس کے بر خلاف بغداد اور اسپین کی تاریخی اور شاندار حکومتوں کا زوال ایمان، توحید، عمل صالح اور اخلاق و کردار میں کمی کی وجہ سے ہوا جبکہ وہ مسلمانوں کے لیے عروج کا دور تھا۔
اس کے بعد ام المدارس جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال کے نامور اور باوقار استاذ مولانا پرویز یعقوب مدنی نے زوال امت پر اپنا بیش بہا اور قیمتی تاثر دیتے ہوئے فرمایا: اس امت میں (وھن) یعنی “حب الدنیا و کراہیة الموت” کا پایا جانا زوال امت کی بڑی وجہ ہے اور ساتھ ہی آپ نے قران کی ایک آیت بھی کوٹ کی “وَلَا تَهِنُواْ وَلَا تَحْزَنُواْ وَأَنتُمُ ٱلْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ”۔
ساتھ ہی مولانا محمد ہارون بن شیخ طیب التیمی المدنی مدرس جامعۃ الکتاب والسنة روتہٹ نیپال نے اپنا تاثر پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اقتصاد کے میدان میں اس امت کا صحیح اقدام نہ کرنا اور صحیح قیادت کا فقدان بھی اس امت کے زوال اسباب کی ایک بڑی وجہ ہے۔
اخر میں صدر مجلس شیخ محمد نسیم محمد یونس مدنی نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال نے اپنے صدارتی خطاب کے ذریعے مجلس کے اختتام کا اعلان فرمایا۔