ابو عبدالبر عبدالحی السلفی
صلہ رحمی کے لغوی و اصطلاحی معنی 
صلہ رحمی دو لفظوں “صلہ‘‘  اور“رحم ‘‘ سے مرکب ہے۔ صلہ کے معنیٰ جوڑنے کے ہیں۔ لیکن عام اصطلاح میں اس کے معنیٰ ہیں اعزاء واقارب کے ساتھ احسان اور اچھے سلوک کامعاملہ کرنا اور ان کو عطاء اور بخشش اور اپنی مالی واخلاقی مدد واعانت کے ذریعہ فائدہ وراحت پہنچانا ۔
رَحْمٌ ورَحِمَّ بطن مادر میں اس مقام کو کہتے ہیں،جہاں جنین کااستقرار اور اس کی نشوونما ہوتی ہے۔ مجازاً اسے رشتے داری کے معنیٰ میں استعمال کیاجاتاہے۔ جب یہ بندوں کے لیے استعمال ہوتاہے تو اس کے معنی شفقت و رأفت کے ہوتے ہیں اور جب اللہ کے لیے استعمال ہوتاہے تو اس کے معنیٰ رحمت کے ہوتے ہیں﴿ابن منظور،لسان العرب﴾
اوراس کا اطلاق رشتہ پر ہوتا ہے اور ہر شخص کے رشتہ دار وہ ہوتے ہیں جن کا آپس میں نسب کا تعلق ہو خواہ وہ اس کے وارث ہوں یا نہ ہوں ، محرم ہوں یا غیر محرم ہوں ۔
 صلہ رحمی کا مفہوم :
صلہ رحمی کا مطلب یہ ہے کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا، ایک دوسرے کے دکھ، درد، خوشی اور غمی میں شریک ہونا، ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا’ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا، مشورہ دینا، کسی مشکل سے نکلنے کیلئے سہولت فراہم کرنا۔خندہ پیشانی سے ملنا ، سلام کرنا ، نرم بات کہنا ، قصور وار سے در گذر کرنا ، خاطر داری وخاکساری سے پیش آنا ، دستور کے مطابق مدارت کرنا ، ناک منہ نہ چڑانا ، اچھا سلوک کرنا اوران پر مال خرچ کرنا یعنی ہر وہ طریقہ جس سے رشتے کو اچھے سے نبھایا جائے، ایک دوسرے کا خیال رکھا جائے، ایک دوسرے کے حقوق ادا کیے جائیں اسے اختیار کرنا صلہ رحمی کہلاتا ہے۔ 
شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“صلہ رحمی اس طریقے سے ہو گی جو لوگوں کے ہاں متداول اور معروف ہو؛ کیونکہ کتاب و سنت میں صلہ رحمی کی نوعیت، صنف اور مقدار کا تعین نہیں کیا گیا؛ کیونکہ آپ ﷺ  نے صلہ رحمی کو کسی معین چیز کے ساتھ مقید نہیں کیا’ بلکہ اسے مطلق رکھا ہے؛ اس لیے صلہ رحمی کے لیے عرف کو دیکھا جائے گا کہ جو چیز عرف میں صلہ رحمی ہے وہ صلہ رحمی کہلائے گا، اور جس چیز کو عرف میں قطع رحمی کہا جائے وہ قطع رحمی ہو گی۔”(شرح رياض الصالحين)
وہ رشتہ دار جن کے ساتھ صلہ رحمی کرنا واجب ہے اہل علم کے صحیح ترین قول کے مطابق وہ رشتے جو حقیقی والد یا والدہ کی جانب سے نسب کی وجہ سے بنتے ہیں’جیسے باپ دادا، مائیں، نانیاں، دادیاں، بیٹے ، پوتے نیچے تک، پھر اس کے بعد قریب ترین رشتہ دار مثلاً: بھائی اور ان کی اولادیں، چچا اور پھوپھیاں اور ان کی اولادیں، ماموں اور خالائیں اور ان کی اولادیں۔
میاں بیوی کے رشتہ دار ایک دوسرے کے لیے ارحام نہیں ہیں، لیکن پھر بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے؛ کیونکہ یہ میاں بیوی کے درمیان حسن معاشرت کا سبب بنتے ہیں، اور اس سے دونوں کے درمیان باہمی محبت اور الفت بڑھتی ہے۔
🔷حقیقی صلہ رحمی 
عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا “صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلے میں صلہ رحمی کرے، بلکہ صلہ رحمی کرنےوالا وہ ہے کہ جو اس سے قطع رحمی کرے پھر بھی وہ اس کے ساتھ صلہ رحمی کرے ” (بخاری، کتاب الادب )
بدلے میں صلہ رحمی کا مطلب یہ ہے کہ مثلا کوئی رشتہ دار اس سے ملتا ہے، تویہ بھی اس سے ملتا ہے. اوراگر نہیں ملتا ہے، تو یہ بھی اس سے اعراض کرتا ہے. جبکہ ہونا یہ چاھئے کہ اگر وہ نہ ملے تو بھی یہ اس سے میل ملاپ رکھے، اگر وہ قطع رحمی کریں توان سے صلہ رحمی کرے، اگر وہ بدسلوکی کریں تو ان سے اچھا سلوک کرے وغیرہ وغیرہ –
  ابوھریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ ، میرے کچھ رشتے دار ایسے ہیں جن سے میں صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان سے حسن سلوک کرتا ہوں اور وہ مجھ سے بدسلوکی کرتے ہیں، میں ان سے حوصلہ سے پیش آتا ہوں اوروہ میرے ساتھ جاہلوں کا سا برتاؤ کرتے ہیں. توآپ ﷺ  نےفرمایا “اگر تو ایسا ہی ہے جیساکہ تونے کہا توگویا توان کے منہ میں گرم راکھ ڈالتاہے اورجب تک تواسی طرح کرتا رہے گا تیرے ساتھ اللہ کی طرف سے ہمیشہ ایک پشت پناہی کرنے والا رہے گا “(مسلم، کتاب البر والصلہ)
صلہ رحمی کی اہمیت و فضیلت قرآن و احادیث میں :
قرآن کریم کی بیشتر آیات صلہ رحمی کے فضائل اور رشتے داری کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں، رشتے داری کا احترام کرنے اور ان کے حقوق کی ادائیگی پر ابھارتی ہیں اور انھیں پامال کرنے سے روکتی ہیں۔
🔵ارشاد تعالیٰ کا ارشاد ہے:‘‘وَاتَّقُوااللّٰہ الَّذِیْ تَسآءلُوْن بہٰ وَالْاَرْحَامَ’’﴿النساء:۱﴾ ‘‘اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو’’
🔵ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’وہ لوگ جو اللہ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں، اور معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے، اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے، یہ لوگ انہیں جوڑے رکھتے ہیں اور اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں، اور حساب کے برے انجام سے خوف کھاتے ہیں، اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی خوشنودی کی خاطر صبر سے کام لیا، اور نماز قائم کی، اور ہم نے انہیں جو رزق عطا کیا اس میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کیا، اور برائی کا بدلہ بھلائی سے دیتے ہیں، انہیں لوگوں کیلئے انجام کا گھر ہو گا، ہمیشہ رہنے کے باغات، جن میں یہ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے والدین، بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی، اور فرشتے ان پر ہر دروازے سے داخل ہوں گے یہ کہتے ہوئے کہ سلام ہو تم پر تمہارے صبر کرنے پر، سو کیا ہی خوب ہے آخرت کا گھر (الرعد 20 تا 24)۔
🔵اور دوسری جگہ فرمایا “وآت ذاالقربی حقه “(بنی اسرائیل :26)اور رشتہ داروں کاحق ادا کرتے رہو –
🔵دوسری جگہ اللہ تعالی رشتہ داروں کی امداد کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتے ہیں “ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایتاء ذی القربی ” (نحل :90) بے شک اللہ تعالی عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کو دینے کاحکم دیتا ہے
🔵صلہ رحمی کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک عقلمندوں کی صفت ہے ۔ سورۃ الرعد میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : {وَالَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَا أَمَرَ اللّٰہُ بِہٖ أَنْ یُّوْصَلَ } [2] ’’ اور اللہ تعالیٰ نے جس چیز کے جوڑنے کا حکم دیا ہے وہ اسے جوڑتے ہیں ‘‘( یعنی رشتوں کو توڑتے نہیں بلکہ ان کو جوڑتے اور صلہ رحمی کرتے ہیں ۔)
صلہ رحمی کے فضائل احادیث میں:
🔷 صلہ رحمی سے رزق میں کشادگی اور عمر میں برکت آتی ہے انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ  نے فرمایا : ’’ جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کے رزق میں فراوانی اور اس کے اجل ( موت ) میں دیر ہو وہ صلہ رحمی کرے ۔ ‘‘ (بخاری،الأدب،باب من بسط لہ فی الرزق لصلۃ الرحم)
🔷صلہ رحمی کرنے سے خاندان میں محبت پیدا ہوتی ہے’ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم اپنا نسب معلوم کرلو تاکہ صلہ رحمی کرسکو کیونکہ صلہ رحمی سے گھر والوں میں محبت پیدا ہوتی ہے ، مال میں اضافہ ہوتا ہے اور اجل میں تاخیر ہوتی ہے۔ ‘‘ (ترمذی)
🔷صلہ رحمی کرنا اللہ تعالیٰ کی رحمت کا موجب ہے’ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ رحم عرش سے لٹکا ہوا ہے ( اور ) کہتا ہے : جو مجھے ملائے گا اللہ اس کو ( اپنی رحمت سے ) ملائے گا ۔ اور جو مجھے کاٹے گا اللہ اس کو ( اپنی رحمت سے ) کاٹے گا۔ ‘‘(مسلم)
🔷️صلہ رحمی کرنا ایمان کی علامت ہے’ ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر رکھتا ہو وہ صلہ رحمی کرے “(بخاری،کتاب الادب)
🔷صلہ رحمی کرنا جنت میں لے جانے والے اعمال میں سے ہے’ ابو ایوب الأنصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ  سے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کردے ۔ تو آپ ﷺ  نے فرمایا : ’’ تو اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنا ۔ اور نماز قائم کر ، زکاۃ ادا کر اور صلہ رحمی کر”(بخاری، کتاب الادب )
🔷 رشتہ داروں کو دینے سے دوگنا اجر ملتا ہے’ سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’مسکین پر صدقہ کرناصدقہ ہی ہے جبکہ رشتہ دار پر خرچ کرنا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی ہے ۔‘‘ (ترمذی ‘نسائی’ابن ماجه)
🔷 ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’تین صفات ایسی ہیں کہ وہ جس شخص میں بھی ہوں اللہ تعالیٰ اس سے آسان حساب لے گا اور اسے اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرمائے گا۔ صحابہ کرامؓ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ کن (صفات والوں) کو؟ تو آپﷺ نے فرمایا: جو تجھے محروم کرے تو اسے عطا کر، جو تجھ پر ظلم کرے تو اسے معاف کر، اور جو تجھ سے (رشتہ داری اور تعلق) توڑے تو اس سے جوڑ۔ایک صحابی ؓ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! اگر میں یہ کام کر لوں تو مجھے کیا ملے گا؟ تو آپﷺ نے فرمایا: تجھ سے آسان حساب لیا جائے گا اور تجھے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جنت میں داخل کر دے گا۔ (المستدرک’حاکم 3912)
🔷 ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا کہ میرے کچھ رشتہ دار ایسے ہیں کہ میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں وہ مجھ سے قطع تعلق کر لیتے ہیں، میں ان سے احسان کرتا ہوں وہ مجھ سے بد سلوکی کرتے ہیں، میں ان سے حلم اختیار کرتا ہوں وہ مجھ پر جہالت کرتے ہیں توآپ ﷺ نے فرمایا:« إِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ وَلاَ يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ »(مسلم:2558)
’’ اگر ایسے ہی ہے جس طرح تم کہہ رہے ہوں تو گویا کہ تم ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہے ہو اور جب تک اس عمل پر قائم رہو گے، ہمیشہ ان کے مقابلے میں اللہ کی طرف سے ایک مددگار تمہارے ساتھ رہے گا۔‘‘
قطع رحمی کے دنیاوی واخروی نقصانات:
جس طرح صلہ رحمی کے بے شمار فضائل اور اس کا اجر وثواب ہے اس کے برعکس قطع رحمی پر بہت سخت وعیدیں سنائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے”اَلَّـذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّـٰهِ مِنْ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَيَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّـٰهُ بِهٓ ٖ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِى الْاَرْضِ ۚ اُولٰٓئِكَ هُـمُ الْخَاسِرُوْنَ”(البقرہ، 27)۔ 
’’جو لوگ اللہ کے عہد کو اس سے پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں، اور اس (تعلق) کو کاٹتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور زمین میں فساد کرتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں‘‘
🔵قطع رحمی کرنے والا جنت سے محروم ہے’ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے آپ ﷺ  نے فرمایا “قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا ” (بخاری، کتاب الادب )
🔵قطع رحمی کرنے والے کو دنیا میں ہی سزا مل جاتی ہے    ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”بغاوت اورقطع رحمی ایسے گناہ ہیں کہ اللہ تعالی ان کی سزا دنیا کے اندر ہی دے دیتا ہے “(صحیح الترغیب والترھیب )
🔷قطع رحمی کرنے والے کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا’ابو’ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “سب لوگوں کے اعمال ہر شب جمعہ کو پیش کئے جاتے ہیں تو قطع رحمی کرنے والے شخص کا عمل قبول نہیں کیا جاتا (صحیح الترغیب والترھیب )
🔷ایک بار عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نماز فجر کے بعد اپنے حلقہ درس میں بیٹھے تو انہوں نے کہا کہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ جو قطع رحمی کرنے والا ہے کہ وہ اس مجلس سے اٹھ کر چلا جائے اس لیے کہ ہم اپنے رب سے دعا کرنا چاہتے ہیں اور آسمان کے دروازے رشتوں کو توڑنے والے پر بند ہے۔ (بیہقی’شعب الایمان:7592)
🔷قرآن کریم میں قطع رحمی کا تذکرہ فساد فی الأرض کے ساتھ کیاگیاہے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ دونوں کا باہم گہرا تعلق ہے۔
﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ 0 أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ﴾
(محمد: 22، 23)
’’ پس تم سے اسی بات کو توقع ہے کہ اگر تم والی بن جاؤ تو زمین میں فساد کرو اور اپنے رشتے کاٹ دو یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی تو اللہ نے انہیں بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں اندھی کردیں ۔
ٱلَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مِيثَٰقِهِۦ وَيَقْطَعُونَ مَآ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ﴿البقرۃ: 27﴾ ‘‘جو اللہ تعالیٰ کے عہد کو اس کے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے جوڑنے کا حکم دیاہے اس کو کاٹتے ہیں اور روئے زمین میں فساد مچاتے ہیں یہی لوگ نامراد ہیں’’
🔷دین اسلام کی یہ تعلیم نہیں کہ مسلمان صرف ان رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کریں جو ان کے ساتھ صلہ رحمی کریں۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اُن رشتے داروں کے ساتھ بھی حسن سلوک ‘اچھا برتاؤ اور صلہ رحمی کرنے کاحکم دیتاہے، جو ان کے ساتھ کسی قسم کاتعلق نہیں رکھتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:« لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ ، وَلَكِنِ الْوَاصِلُ الَّذِى إِذَا قَطَعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا »﴿بخاری: کتاب الأدب، باب:لیس الواصل بالمکافی)
’’ صلہ رحمی کرنے والا شخص وہ نہیں ہے جوبرابر کا معاملہ کرتا ہے لیکن اصل رحم کرنے والا شخص وہ ہے کہ جب اس کی رشتہ داری قطع کی جائے تو وہ اسے ملائے۔‘‘
🔷اسلام نے غیر مسلم رشتے داروں کے ساتھ بھی صلہ رحمی اور اچھا سلوک کرنے پر زور دیاہے۔سورۂ لقمان کی آیت نمبر 15 کی تشریح میں امام قرطبیؒ  نے لکھاہے کہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کافر والدین کے ساتھ صلہ رحمی کی جائے۔ اگر وہ غریب ہوں تو انھیں مال دیاجائے،ان کے ساتھ ملائمت کی بات کی جائے، انھیں نرمی کے ساتھ اسلام کی دعوت دی جائے۔ ﴿ الجامع الأحکام القرآن﴾
🔷شوشل میڈیا کے ذریعہ قریب اور بعید کے رشتہ داروں نیز اعزاء واقارب اور احباب سے تعلقات کو بنائے رکھنے اور اسے برقرار رکھنے میں کافی مدد ملتی ہے۔ یہ مسلسل رابطہ دوستی کی زندگی کو برقرار رکھتا ہے، اور دوری کو چھوٹا محسوس کرواتا ہے۔
سوشل میڈیا ماضی کے پرانے دوستوں سے دوبارہ رابطہ قائم
کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ بچپن، اسکول، یا پچھلے کام کی جگہوں سے دوستوں سے دوبارہ رابطہ بحال کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ لوگ اکثر ایسی دوستیوں کو دوبارہ دریافت کرتے ہیں جو وقت کے ساتھ ختم ہو گئی تھیں، اور اپنے موجودہ زندگیوں کے بارے میں مشترکہ یادوں اور اپ ڈیٹس کے ذریعے انہیں دوبارہ زندہ کرنے کا ایک سستا اور بہترین پلیٹ فارم ہے۔
مذکورہ قرآنی آیات واحادیث شریفہ سے یہ بات بالکل مترشح ہوجاتی ہے کہ اسلام نے صلہ رحمی پر کتنا زیادہ زور دیاہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کی بے جا طرف داری کی جائے، رشتے داروں کی ہر صورت میں حمایت کی جائے، خواہ وہ حق پر نہ ہوں اور ان کی تائید کی جائے خواہ وہ ظالم کیوں نہ ہو۔ صلہ رحمی کے نام پر کسی ناانصافی اور اقربا پروری پر اسلام نے مکمل روک لگادی ہے۔صلہ رحمی کامطلب یہ ہے کہ اپنے رشتے داروں کے ساتھ کسی کا حق تلف کیے بغیر حُسن سلوک کیاجائے۔ارشاد باری ہے:”﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا ۚ وَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا﴾( سورة النساء: 135)
ایمان والو! انصاف کے ساتھ گواہی دیتے ہوئے اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ اور تمہیں کسی قوم کی عداوت اس پر نہ اُبھارے کہ تم انصاف نہ کرو (بلکہ) انصاف کرو، یہ پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ تمہارے تمام اعمال سے خبردار ہے۔
 اللہ تعالی اسے عوام الناس کی اصلاح  کا ذریعہ بنائے  اور  ہمیں صلہ رحمی کا صحیح مفہوم سمجھنے کی توفیق اور صلہ رحمی کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین )کیونکہ اسی میں اتفاق و اتحاد ہے اور دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی ہے۔