

مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کا پانچواں آن لائن علمی محاضرہ اختتام پذیر
ڈاکٹر محمد اورنگزیب تیمی
ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال
————–
مورخہ 24 نومبر 2024 بروز اتوار نو بجے شب مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کے نائب امیر حضرت مولانا محمد نسیم محمد یونس مدنی حفظہ اللہ کی صدارت اور مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کے نائب ناظم شیخ حافظ انظار الاسلام کی نظامت میں ایک شاندار آن لائن علمی محاضرہ کا انعقاد عمل میں آیا، اس علمی اور دینی محاضرہ کا موضوع “شکیل بن حنیف کے باطل افکار و نظریات،اسباب و تدارک ” تھا اور محاضر ملک نیپال کے ام المدارس جامعہ سراج العلوم السلفیہ کے قابل قدر اور فاضل استاد شیخ پرویز یعقوب مدنی حفظہ اللہ و تولاہ تھے
قرآن مقدس کی بعض آیتوں سے محاضرہ کا آغاز ہوا، بعدہ بلا تاخیر موصوف محاضر نے موضوع سے متعلق اپنی قیمتی گفتگو کا آغاز فرمایا۔ پہلے حمد و صلاة اور اللہ رب العالمین شکریہ کے بعد مرکزی جمعیت اہل حدیث کے جملہ ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا پہر موضوع کی اہمیت اور حالات کے تئیں اس موضوع پر خامہ فرسائی کرنے اور موضوع کے تئیں تجاہل سے امت پر برے اثرات مرتب ہونے کی جانب اشارہ کیا۔ آپ نے بنیادی طور پر شکیل بن حنیف کا مختصر مگر جامع تعارفی خاکہ، تعلیمی منظر و پس منظر، ملعون شکیل کے باطل افکار و نظریات، اس کا دائرہ عمل، افکار دعوت، شکیل اور اس کے متبعین کی شکل و شباہت، فتنہ شکیلیت کے ذیلی مراکز، علماء اسلام اور دجال کے متعلق شکیلیوں کی رائے پیش کیا۔ پہر خروج دجال اور عیسی علیہ السلام اور امام مہدی علیہ السلام کے متعلق شریعت کے اندر وارد نصوص کو پیش کرکے ملعون شکیل اور وارد نصوص کا تقابلی موازنہ کرکے یہ ثابت کیا کہ یہ ملعون کذاب دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ آگے آپ نے صحابہ رسول جناب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مشہور حدیث کو بیان کرکے ملعون شکیل کی نقاب کشائی کی۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله علیه وآله وسلم: إِنَّهُ نَازِلٌ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ مَرْبُوعٌ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ، سَبْطٌ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ، وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ، بَيْنَ مُمَصَّرَتَيْنِ، فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، … وَيُهْلِكُ اللهُ فِي زَمَانِهِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ الْكَذَّابَ، وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى تَرْتَعَ الْإِبِلُ مَعَ الْأُسْدِ جَمِيعًا، وَالنُّمُورُ مَعَ الْبَقَرِ، وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ، وَيَلْعَبَ الصِّبْيَانُ وَالْغِلْمَانُ بِالْحَيَّاتِ، لَا يَضُرُّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَيَمْكُثُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَمْكُثَ، ثُمَّ يُتَوَفَّى فَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ وَيَدْفِنُونَهُ.(رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْدَاوُدَ.)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاہے: یقیناً عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام (میری امت میں) نازل ہوں گے۔ تم جب انہیں دیکھو تو (ان علامات سے انہیں) پہچان لینا: وہ درمیانے قد کے ہوں گے۔ ان کا رنگ سرخی و سفیدی کی طرف مائل ہو گا۔ سیدھے لٹکتے ہوئے بال ہوں گے۔ (جب وہ اتریں گے تو ان کے بالوں کی نرمی و ملائمت سے ایسا لگے گا کہ) گویا کہ ان کے سرِ اقدس سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں اگرچہ اس تک کسی قسم کی تری بھی نہیں پہنچی ہو گی۔ وہ ہلکے زرد رنگ کی دو چادروں میں ملبوس ہوں گے۔ وہ صليب کو توڑ دیں گے۔ خنزیر کو قتل (کر کے حرام خوری کا خاتمہ) کریں گے اور (بطور اِحسان غیر مسلم شہریوں سے) ریاستی حفاظت کا ٹیکس (جو عسکری خدمات سے اِستثناء کی صورت میں وصول کیا جاتا ہے) معاف کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں کذاب مسیح دجال کو بھی ہلاک کر دے گا۔ (ان کے زمانے میں) زمین میں اتنا امن ہو گا کہ شیروں کے ساتھ اونٹ، گایوں کے ساتھ چیتے اوربکریوں کے ساتھ بھیڑیے چریں گے۔ بچے اور کم عمر لڑکے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے مگر وہ ایک دوسرے کو کوئی گزند نہیں پہنچائیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام (اَہلِ) زمین میں – جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا – زندگی گزاریں گے۔ پھر آپ کی وفات ہوگی، مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور پھر تدفین کریں گے۔اس حدیث کو امام احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔
اسی طرح آپ نے دجال کے متعلق شکیل بن حنیف کے باطل نظریات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ دجال صحیح حدیث کی روشنی میں عراق و شام کے راستے سے خروج کرے گا اور ان کی علامات یہ ہیں ،
تین علامتوں کا ظہور مہدی اور دجال اور عیسی علیہ السلام کا نزول یقینی ہے اور ان کا وقوع لازمی ہو گا جیسا کہ اس پر صحیح دلائل موجود ہیں ۔اور ان تین علامتوں کا ظہور آپس میں قریب ہے یعنی ایک دوسرے سے بہت قریب ہوں گی کیونکہ جیسا کہ صحیح احادیث میں یہ بات ثابت ہے کہ عیسی علیہ السلام مہدی کے پیچھے نماز ادا کریں گے اور اسی طرح عیسی علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے ۔
لیکن ان کے وقوع کو اللہ سبحانہ وتعالی زیادہ جانتا ہے اور رہی یہ بات کہ ان کا وقوع قریب ہے تو شرعی دلائل اور نصوص سے یہ ثابت ہے کہ ان کا وقوع قریب ہے لیکن یہ کہنا کہ ہماری زندگی میں ان کا وقوع ہو گا یہ کہ ہمارے زندگی کے بعد تو یہ علم غیب میں سے ہے جس کا علم صرف اللہ تعالی کے پاس ہی ہے ۔تو مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ عموی فتنوں سے اور خاص کر دجال کے فتنے سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرتا ، اور یہ کہ وہ اللہ تعالی سے اعلانیہ اور خفیہ طریقے سے دعا مانگتا رہے کہ اللہ تعالی اسے دنیاوی اور اخروی زندگی میں صحیح قول پر ثابت قدم رکھے ۔
اسی طرح شیخ محترم نے امام مہدی کے متعلق ان کے اوصاف کا خلاصہ صحیح احادیث کی روشنی میں پیش کیا، اپ نے فرمایا امام مہدی کے والد کا نام عبداللہ ہوگا ان کی عمر 49/ سال ہوگی اور اوصاف یہ ہوں گے۔
قِیامت سے پہلے ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ دُنیا میں کُفر پھیل جائے گا، زمین ظُلْم اور سَرکَشی سے بھرجائے گی، اسلام حَرَمَین شریفَین کی طرف سمٹ جائے گا، اللہ کے نیک بندے وہاں ہجرت کرجائیں گے۔پھرسیِّدَتُنا فاطمۃُالزَّہراء رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ایک شخص پیدا ہوگا جو زمین کو عَدْل و انصاف سے بھر دے گا۔ یہی تمام روئے زمین پر حکومت کرنے والے پانچویں بادشاہ ہوں گے جنہیں حضرت امام مہدی کہا جاتا ہے۔
رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: دنیا ختم نہ ہوگی حتّٰی کہ عَرَب کا بادشاہ ایک شخص بنے گا۔
حضرت سیّدُنا امام مہدی رضی اللہ عنہ کا نام محمد اور آپ کے والد کا نام عبدُاللہ ہوگا جیساکہ حدیثِ پاک میں اشارہ ہے۔ اس حدیثِ پاک سے یہ بات بھی واضح طور پر معلوم ہوئی کہ حضرت امام مہدی ابھی پیدا نہیں ہوئے بلکہ پیدا ہوں گے نیز ان کے والد کا نام عبدُاللہ ہوگا نہ کہ امام حسن عسکری۔امام مہدی والد کی طرف سے حَسَنی سیّد ہوں گے، والدہ کی طرف سے حُسَینی، آپ کے اُصول (یعنی ماں، دادی، نانی وغیرہ اُوپر تک) میں کوئی والدہ حضرت عباس کی اولاد سے ہوں گی لہٰذا آپ حسنی بھی ہوں گے حسینی بھی اور عباسی بھی۔ اس میں اُن لوگوں کا رَد ہے جو کہتے ہیں کہ محمد ابنِ حسن عسکری’’ امام مہدی‘‘ ہیں وہ غار میں چھپے ہوئے ہیں کیونکہ وہ حسینی سیّد ہیں حسنی نہیں۔حُلیہ مبارک:حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ اخلاق، آداب اور عادات میں ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرح ہوں گے مگر شکل وصورت میں پورے مشابہ نہ ہوں گے اگرچہ بعض باتوں میں نبیِّ پاک کے ہم شکل ہوں گے۔)( جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے:رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مہدی مجھ سے ہیں، چوڑی پیشانی والے، اُونچی ناک والے،سات سال سلطنت فرمائیں گے۔
اپ نے بتایا کہ فتنہ شکیلیت اس دور کا کوئی نیا فتنہ نہیں ہے، بلکہ ہر زمانہ میں اس طرح کے فتنے کھڑے ہوتے رہے ہیں ، جبکہ اسلام کے بے لوث سپاہی ان کی سرکوبی اور قلع قمع کرتے رہے ہیں آپ، نے تاریخی تسلسل کے ساتھ اس قسم کے فتنوں کی چند مثالیں پیش کیں اور بتلایا ۔۔
کہ منکرین ختم نبوت عہد نبوی عہد صحابہ اور عہد عباسی میں بھی بڑی تعداد میں موجود تھے ،جن میں مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، سجاح بنت حارث، طلیحہ بنت خویلد ، لقیط بن مالک ازدی، مختار الثقفی کے نام سر فہرست ہیں، اور اگر دور حاضر کی بات کی جائے تو یہاں بھی بہت سارے اس قسم کے فتنہ پرور نظر آتے ہیں جن میں سید طلیبہ مصر، منال وحید منال تونس، ہیثم الاحمد سوریا، ثریا منقوش یمن ،رشاد خلیفہ امریکہ، مرزا غلام احمد پاکستان، صلاح شعیشع مصر، محمد بن عبداللہ القحطانی سعودیہ، شکیل بن حنیف ہندوستان، گوہر شاہی پاکستان، یہ فتنہ پروروں کی نام ہیں جو عصر حاضر میں فتنہ پھیلا رہے ہیں۔
ساتھ ہی بتایا کہ آج کے اس پرفتن اور پر آشوب دور میں فتنہ شکیلیت، غامدیت، پرویزیت، اخوانیت، گوہریت ، مرزائیت، بریلویت، تبلیغیت ،خارجیت، اور رافضیت کا نیا فتنہ انہی سابقہ فتنوں کا عکاس و غماز ہے جن سے ہر لمحہ بچنا اور اپنے نسل نو کو بچانا انتہائی ناگزیر ہے.
شیخ محترم نے اپنے گراں قدر محاضرہ کے آخر میں اس فتنے کے تدارک اور سد باب کے طریقے بتاتے ہوئے کہا کہ : ہر شخص ذاتی اصلاح کرے، تمام مسلمان گھروں کا ماحول دینی بنائیں، ارکان ایمان،اور ارکان اسلام کا مطالعہ فہم کے ساتھ کریں ، اپنے عقیدے کی اصلاح کریں، بچوں کو شرعی علوم سے آراستہ و پیراستہ کریں، علماء کرام وعوام باہم جڑیں، ممبر و محراب سے ان جیسے فتنوں کی نشاندہی فرمائیں،نواقض ایمان اور نواقض سلام سے عامۃ الناس کو روشناش کراییں، ان موضوعات پر بکثرت مضامین لکھے جائیں، علماء اور دعاۃ کو ان موضوعات پر مضامین اور خطبہ دینے کے لیے مکلف بنائیں وغیرہ و غیرہ ۔
بعدہ تاثراتی دور کا اغاز ہوا، سب سے پہلے راقم الحروف نے اختصار کے ساتھ اپنا تاثر پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دور انگنت فتنوں کا دور ہے بالخصوص اسلام کے خلاف بے شمار فتنے رونما ہو رہے ہیں جن کے سد باب کے لیے علماء اور دعاۃ کو متحد ہو کر میدان عمل میں آنا ہوگا اور اپنی اصلاح سے اس کے سد باب کے لیے وسیع پیمانے پر مشن چھیڑنا پڑے گا تب ہی اسلام کی شبیہ اور اس کا وقار بحال ہو پائے گا اس وقت اس میں سب سے بڑا کردار علماء ہی ادا کر سکتے ہیں اور یہ ہم سب کی اہم ذمہ داری بھی ہے۔
اس کے بعد فضیلتہ الشیخ مولانا ہارون محمد طیب مدنی حفظہ اللہ نے اپنا گراں قدر تاثر دیتے ہوئے بتایا کہ اس فتنے کے مقابلہ کے لیے مساجد و مدارس کے کردار کو فعال بنانا ہوگا، علماء، فضلاء اور پڑھے لکھے طبقہ کو اگے آنا ہوگا، عقیدہ توحید کو لوگوں کے دلوں میں راسخ کرنا ہوگا۔
آخر میں صدر محترم فضیلۃ الشیخ مولانا محمد نسیم محمد یونس مدنی حفظہ اللہ نے انتہائی اختصار سے کے ساتھ اپنا صدارتی خطاب پیش فرماتے ہوئے بتایا کہ اس وقت امت مسلمہ مختلف مسائل و مشکلات سے دوچار ہے جن میں سب سے اہم مسئلہ عقیدہ توحید کے ساتھ ساتھ فتنہ انکار حدیث، عقیدہ ختم نبوت اور مدعیان مسیح موعود کا ہے، اس کے لیے سر توڑ کوشش کرنے کی ضرورت ہے اور لوگوں کو صحیح عقیدہ اور منہج سکھلانے ،عیسی علیہ السلام، مسیح موعود ، عقیدہ ختم نبوت اور ان جیسے سلگتے موضوعات پر زیادہ سے زیادہ قرآن اور صحیح احادیث کی روشنی میں معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور عوام سے لے کر خواص تک تمام لوگوں کو ان فتنوں سے اگاہ کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ کوئی شکیل بن حنیف اور ان جیسے دیگر ملعون کے دام فریب میں آکر اپنا عقیدہ اور ایمان برباد نہ کر لے۔ اور ساتھ ہی صدر محترم نے اپنے دعائیہ کلمات کے ذریعے مجلس کے اختتام کا اعلان فرمایا۔ فالحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات.
