
بہت روئے گی تیرے بعد سب کی شام تنہائی ( معذرت کے ساتھ تھوڑی تبدیلی )
اشکہائے غم بر سانحہِ ارتحال خادم قوم وملت ڈاکٹر فرید احمد سلفی رحمہ اللہ ڈائریکٹر سلفیہ ہائی اسکول و سلفیہ ہاسپٹل ،پہٹ پرا ضلع سدھارتھ نگر یو پی
جلتا ہوا چراغ بجھا کر نہیں گیا۔ وہ سلفیہ کا نقش مٹا کر نہیں گیا
چل بسا عہد جوانی میں وہ مرد پاسدار
خادم اسلام تھا ، علم وادب کا تاج دار
اس قدر جاتا ہے کوئی سب کو تنہا چھوڑ کر
دیکھ تیری موت سے غمگین ہے قرب وجوار
رو رہا۔ ہے۔ “سلفیہ”۔ کا عملہ تیری موت پر
“بھٹ پرا” والے بھی تیرے جانے سے ہیں سوگوار
نام میں کیا تھا تمہارا کام تھا سچ میں” فرید”
تو تو اپنی ذات میں تھا اک متاعِ شاہکار
اک مبلغ ،ایک خادم ،ایک تھا ایسا خطیب
صحت اور تعلیم کے میدان میں تھا باوقار
سچ میں تجھ سے محفل علم وادب آباد تھی
تیری محنت تیری خدمت تھی نگاہ آشکار
ہر کسی کے کام آئے رنج وآفت میں سدا
عرش والے نے بنایا تھا بہت ہی خاکسار
یا الہی! جنت الفردوس ہو ان کا مقام
صاحب علم وعمل تھے اور تھے بھی دیندار
ہے دعا ہم سب کی یارب یہ چمن مہکے سدا
گلستان” سلفیہ ” کا تھا وہ انصر برگ وبار
طالب دعا شریک غم” انصر نیپالی
اللہم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ واکرم نزلہ ووسع مدخلہ ،،
