






موت وہ ہے کہ کرے جس پر زمانہ افسوس
یوں تو آئے ہیں سبھی دنیا میں مرنے کے لئے
ڈاکٹر فرید احمد سلفی نمناک آنکھوں سے سپرد خاک کئے گئے
ھارون انصاری
کاٹھمانڈو نیپال ، نیپال اردو ٹائمز: 8دسمبر کی رات بڑی کربناک ثابت ہوئی،پہلے تو ان کے صاحب زادے نے دل جھنجھوڑ دینے والا ایک پوسٹ کیا جس میں انہوں نے اپنے ابو کی صحت یابی کی درخواست کی اور ویلچیئر کو اپنے ہاتھوں سے پکڑے کھڑے تھے اور سامنے انکے والد گرامی ڈاکٹر فرید احمد سلفی تھے جو آکسیجن ماسک لگائے ہوئے تھے پھر بھی مسکرانا چاہ رہےتھے۔ پھر بعد میں عزیزم ناصر الدین سلفی نے خبر سنائی کی آپ دارالبقاء رحلت کرچکے ہیں، یقین نہیں ہو رہا تھا پھر نصف ساعت کے بعد جب متواتر میسیج فون آنے لگے تو یقین ہوا کہ آپ اللہ کے پیارے ہوگئے إنا لله وإنا إليه راجعون ، 9 دسمبر اعلان کے مطابق معھد مفتاح العلوم بھیٹ پرا کے وسیع عریض میدان میں آپ کا نماز جنازہ ہوا ، جنازہ ایک بجکر پانچ منٹ پر شیخ عبد الرشید مدنی نے پڑھائی، ڈاکٹر فرید احمد سلفی رحمہ اللہ کی شخصیت نابغار تھی، ایک اندازے کے مطابق اتنی لمبی جماعت کسی کے جنازے میں نہیں دیکھی گئی۔ آپ کو گاؤں کے مقبرے میں دفن کیاگیا۔
ڈاکٹر فرید احمد سلفی رحمہ اللہ جامعہ سلفیہ مرکزی دارالعلوم بنارس کے متخرج تھے،انہوں نے فراغت کے بعد درس وتدریس کا فریضہ بحسن وخوبی معھد مفتاح العلوم ، بھٹ پرا شاخ جامعہ سلفیہ بنارس میں تفسیر قرآن اور علوم ومعارف کی کتابیں پڑھائیں، انہوں نے اپنے وقت کو ضائع نہیں کیا ، تعلیم وتعلم سے خصوصی لگاؤ تھا ، اس لئے مسائیہ میں بچوں کو اپنے ہی گھر تطوعا پڑھاتے تھے اور اس کا انتظام اپنے گھر پر کر رکھا تھا، اس کے ساتھ ساتھ وہ کلنک بھی چلاتے تھے جہاں لوگ علاج ومعالجہ کےلئے دن ہو یا رات بلا تآمل آتے تھے ، اور ڈسپنسری سے دوا لے جاتے تھے، یہ سلسلہ فراغت سے لیکر 2005 تک چلا ، واضح رہے کہ اس وقت راقم محمد ھارون فیضی مڑلا روپندیہی نیپال، اور ڈاکٹر فرید احمد سلفی بھٹ پرا، شیخ شریف مکی روہوڈیلا، ،مولانا علاؤالدین فیضی بھٹ پرا، ناظم اقبال احمد فیضی،شیخ نذیر احمد رحمانی رحمہ اللہ سمرہنی،حافظ عبد الرحمن مفتاحی نگوا کرچھلیا، شیخ عبید الرحمن سلفی نبہواں کا گروپ معھد میں تھا، ڈاکٹر صاحب چند گھنٹیاں متطوعا پڑھاتے تھے جس کا وہ کوئی معاوضہ نہیں لیتے تھے (واللہ اعلم باالصواب)
ڈاکٹر صاحب 2005 سے اپنے خطہ کے مطابق محنت کرنا شروع کئے اور کافی جہدوجہد کی جس کی جیتی جاگتی مثال کھکھرا میں قائم حاجی کرم حسین سلفیہ انٹر کالج ہے، ڈاکٹر فرید احمد سلفی کوئی کام منظم پلان کے مطابق ہی کرتے تھے۔
ڈاکٹر فرید سلفی آج بتاریخ 9 دسمبر 2024 بوقت شب سے رحمہ اللہ کہے جانے لگے آپ کا طرہ امتیاز بڑا اچھوتا تھا ہمیشہ عوامی خدمات کیسے کی جائے تدبر وفکر کیا کرتے تھے ، کرونا 2019 کے بعد آپ نے سوہانس بازار میں ایک خوبصورت ہاسپٹل کی بنیاد رکھی جا غالبا 2023 میں مکمل ہوگیا اور بڑے تزک واحتشام کے ساتھ افتتاح بھی ہوا اور ڈاکٹروں کی اچھی ٹیم کا انتخاب بھی کئے جو آج رواں دواں ہے اور خدمات انسانیہ میں مصروف ہے افسوس کہ آپ نہیں ہیں۔
آپ خاکسار ملنسار،ہمدرد تھے کوئی بھی مسئلہ آپ کے لائق ہوتا اور کوئی پہنچتا تو حسب استطاعت اس کی معاونت کرتے اور جو بھی امکانیات ہوتا اسے حل کرانے کی کوشش کرتے۔
سیاسی گلیاروں میں آپ کی اچھی سناشائی تھی اس لئے کیسا بھی کام ہو چٹکیوں میں حل کرادیتے تھے، آپ نے رفاہی کام بھی بہت کیا ہے غرباء ومساکین کے ہاں صاف ستھرے پانی کا انتظام وغیرہ وغیرہ۔
آپ کہنہ مشق خطیب بھی تھے:
نیپال اور ھندوستان بالخصوص سرحدی مضافات میں ہونے والے کانفرنسوں اجلاس اور دیگر دینی پروگراموں میں آپ کو خصوصیت کے ساتھ بلایاجاتا تھا اور آپ بلا معاوضہ خوشی خوشی تشریف لے جاتے تھے۔اور خطاب کرتے تھے آپ کے پر مغز خطاب کو عوام پسند بھی کرتی تھی اور بلاتی بھی تھی، انہوں نے اپنے قطر کے سفر پر جب وہ سمرہنی چھوٹے پروان میں مدعو تھے خطاب کے دوران اور سامع کو تقریر بہت پسند آگئی اور بول پڑا”مولوی صاحب آپو صحیح کہلا” جب یہ واقعہ سناتے تو ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو جاتے تھے۔
آپ ایک اچھے کرکٹ کھلاڑی ،کبڈی کھیلتے اور کھلاتے اور سلفیہ انٹر کالج میں یوم جمہوریہ پر پرتی یوگیتا کراتے تھے اور دور دراز اضلاع اور صوبوں سے کھلاڑی آتے تھے جو جیتتا کامیاب ہوتا اسے انعامات ٹرافی سے نوازتے تھے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ آپ کا علاج ممبئی سے کیمیو تھراپی کراتے تھے، نقاہت اس قدر بڑھ چکی تھی کہ وہ پانچ منٹ بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے باوجود اس کے انہوں نے اپنے بھائی عبدالحلیم کو ذمہ داری سونپی کہ سابقہ روایات کے مطابق امسال 2024 میں بھی پہلے کی طرح کبڈی میچ کرایا جائے چنانچہ ہوا بھی اور دن بھر اپنی آفس میں موجود رہے۔
کمزوری اور نقاہت کے باوجود حسب معمول مدرسہ سے جڑے رہے اور بھائیوں کو جوڑے رکھا۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر فرید کی لغزشوں کو درگزر فرمائے ، جنت الفردوس میں اعلی مقام دے ،لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق دے آمین۔