مرکز الصفا الإسلامى بھنگہیا روپندیہی نیپال

ماہ رجب فضائل وبدعات
سال کے خاص مہینوں میں ایک خاص مہینہ ”رجب المرجب “ بھی ہے،اس مہینے کی سب سے پہلی خصوصیت اس مہینے کا ”اشہر حرم “میں سے ہونا ہے،(صحیح البخاری)۔
ماہِ رجب ان مہینوں میں سے ہے جن کو ’’أشہر الحرم‘‘ سے جانا جاتا ہے، ان مہینوں میں مشرکینِ مکہ بھی خون خرابے سے احتراز کرتے تھے، ان کی فضیلت کا قرآن مجید میں یوں ذکر ہے: ’’إِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِيْ کِتٰبِ اللہِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْأرْضَ مِنْہَا أرْبَعَۃٌ حُرُمٌ‘‘(۶) ’’یقیناً ان مہینوں کا شمار (جو کہ) کتابِ الٰہی میں اللہ کے نزدیک (معتبر ہیں) بارہ مہینے (قمری) ہیں، جس روز اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کیے تھے (اسی روز سے اور) ان میں چار مہینے ادب کے ہیں۔‘‘ (بیان القرآن)’’عن أبی بکرۃ رضي اللہ عنہ، عن النبي ﷺ، قال: الزمان قد استدار کہيئتہٖ يوم خلق اللہ السماوات والأرض، السنۃ اثنا عشر شہرا، منہا أربعۃ حرم، ثلاث متوالیات: ذوالقعدۃ وذوالحجۃ والمحرم، ورجب مضر الذي بین جمادی وشعبان۔’’ زمانہ پھر اپنی پہلی اسی ہیئت پر آ گیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں: تین تو لگاتار یعنی ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم، اور چوتھا رجبِ مضر جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں ہے۔‘‘ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کی شعب الایمان کی روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’کان رسول اللہ ﷺ إذا دخل رجب قال: اللّٰہم بارک لنا في رجب وشعبان وبلغنا رمضان۔‘‘
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب رجب کے مہینہ کا آغاز فرماتے تو یہ دعا مانگتے: اے اللہ! رجب وشعبان کے مہینہ میں ہمارے لیے برکتیں عطا فرما،
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:” ملتِ ابراہیمی میں یہ چار مہینے ادب واحترام کے تھے ،اللہ تعالی ٰ نے ان کی حرمت کو برقرار رکھا اور مشرکینِ عرب نے جو اس میں تحریف کی تھی اس کی نفی فرما دی
واقعہ اسراء کی حقیقت
آج کل عوام میں یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفرِ اسراء و معراج جس میں جنت و دوزخ کا مشاہدہ، حق تعالیٰ شانہ کا قرب، پانچ نمازوں کا تحفہ اور دیگر بڑی بڑی نشانیوں کی زیارت کا شرف یہ حتمی طور پر ستائیسویں رجب کو حاصل ہوا تھا، جبکہ واقعۂ معراج کے حوالہ سے کسی صحیح حدیث سے متعین دن کا ثبوت نہیں ملتا ،عام طور پر اس دن مختلف محفلوں ومجلسوں کا انعقاد کرکے مختلف بدعات کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ افسوس کہ ان مجالس کی زیرسرپرستی اور انتظامات دین دار سمجھے جانے والے لوگوں کے سپرد ہوتے ہیں، جو اس میں بڑھ چڑھ کر شریکِ کار نظر آتے ہیں۔
سفرِ معراج کس سال، کس مہینے اور کس دن میں واقع ہوا؟ علماء سیرت کے ہاں ان تینوں امور کی تعیین میں شدید اختلاف ہے، تاہم اتنی بات پر اتفاق ہے کہ یہ واقعہ بعثتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کےبعد اور ہجرت سے قبل پیش آیا۔ نیز مہینہ کی تعیین کے سلسلہ میں بھی پانچ اقوال ملتے ہیں:
۱-ربیع الاول، ۲-ربیع الثانی، ۳-رجب، ۴-رمضان، ۵-شوال۔
یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جانثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت ،جن کی تعداد کم وبیش پینتالیس تک ذکر کی گئی ہے، جنہوں نےاجمالاًو تفصیلاً اس واقعہ کو نقل کیا ہے، لیکن اس کے باوجود اس رات میں مخصوص عبادت واہتمام کو نقل کرنا تو دور، اس عظیم سفر کی تاریخ کا تعین ہی نہیں کیا گیا۔اور رمضان کے مہینہ تک پہنچا۔‘‘
2- ستائیسویں رجب کا روزہ
کسی بھی معتبر سند سے مروی روایت میں اس دن سے متعلق کوئی خاص نفلی عبادت منقول نہیں ہے، لہٰذا اس دن سے متعلق مخصوص ثواب کی نیت سے روزہ رکھنا درست نہیں ہے، فتاویٰ دار العلوم دیوبند میں حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمٰن صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’ستائیسویں رجب کو جسے عوام ’’ہزارہ کا روزہ‘‘ کہتی ہے، اور اس کے روزے کے ثواب کو ہزار روزوں کے برابر تصورکرتی ہے، اس کی کچھ اصل نہیں ہے۔‘‘
3-رجب کے کونڈے
عوام میں رائج غلط رسوم میں ایک اصلاح کُن رسم کونڈے کی ہے، جس کے لیے ۲۲؍ رجب کا دن مختص کیا گیا ہے، اور مختلف من گھڑت پس منظر بیان کرکے اس کے اثبات و جواز کی کوشش کی جاتی ہے، جس میں کثیر العیال فقر وفاقہ میں گرفتار شخص کی زندگی کی حضرت جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے نام پر کونڈے تیار کرنے کی برکت سے معاشی فراخی و انقلاب کی جھوٹی داستان کو بیان کیا جاتا ہے، جبکہ درحقیقت روافض کی جانب سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر خوشی کے اظہار کے لیے ایک حیلہ اختیار کیا جاتا ہے ، لہٰذا مسلمانوں کو ایسی رسومات سے احتراز کرنا چاہیے۔
4- صلاۃ الرغائب
عوام میں یہ بات معروف ہے کہ ستائیسویں رجب کو مغرب کے بعد بارہ رکعت چھ سلام سے مخصوص سورتوں کے ساتھ اس نماز کے بعد مخصوص کلمات سے منقول درود شریف کے اہتمام کو امرِ مندوب سمجھا جاتا ہے، نیز ایک مرفوع روایت پیش کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے:
’’عَنْ أنَسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ، قَالَ: ’’فِيْ رَجَبَ لَيْلَۃٌ يُکْتَبُ لِلْعَامِلِ فِيْہَا حَسَنَاتُ مِائَۃِ سَنَۃٍ، وَذٰلِکَ لِثَلَاثٍ بَقِيْنَ مِنْ رَجَبَ، فَمَنْ صَلّٰی فِيْہَا اثْنَتَيْ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً، فَقَرَأ فِيْ کُلِّ رَکْعَۃٍ فَاتِحَۃَ الْکِتَابِ وَسُوْرَۃً مِّنَ الْقُرْآنِ، يَتَشَہَّدُ فِيْ کُلِّ رَکْعَتَيْنِ وَيُسَلِّمُ فِيْ آخِرِہِنَّ، ثُمَّ يَقُوْلُ: سُبْحَانَ اللہِ، وَالْحَمْدُ لِلہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ، وَاللہُ أکْبَرُ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، وَيَسْتَغْفِرُ اللہَ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، وَيُصَلِّيْ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، وَيَدْعُوْ لِنَفْسِہٖ مَا شَاءَ مِنْ أمْرِ دُنْيَاہُ وَآخِرَتِہٖ، وَيُصْبِحُ صَائِمًا،فَإِنَّ اللہَ يَسْتَجِيْبُ دُعَاءَہٗ کُلَّہٗ إِلَّا أنْ يَّدْعُوَ فِيْ مَعْصِيَۃٍ۔
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رجب میں ایک رات ہے کہ اس میں نیک عمل کرنے والے کو سو برس کی نیکیوں کا ثواب ہے اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے، جو ا س میں بارہ رکعت پڑھے ، ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور ایک سورت، اور ہر دور رکعت پر التحیات اور آخر میں بعد سلام سُبْحَانَ اللہِ، وَالْحَمْدُ لِلَہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ، وَاللہُ أکْبَرُ سو بار، استغفار سو بار ، درود سو بار، اور اپنی دنیا وآخرت سے جس چیز کی چاہے دعا مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کی سب دعائیں قبول فرمائے، سوائے اس دعا کے جو گناہ کے لیے ہو۔‘‘
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اور ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔اور اس کے تمام راویوں کو مجہول قرار دیا ہے۔ اسی طرح علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کے بدعت وجہالت ہونے پر تصریح فرمائی ہے، لہٰذا اس نوعیت کے عمل سے احتراز کرنا لازم ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل وکرم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ صحیح نہج وفکر سمیت اپنے احکامات پر عمل پیرا ہونے اور دوسروں تک ان کو پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)