

اسلامی معاشرے کی تشکیل میں خواتین ملت اسلامیہ کا کردار
قمر الدین ریاضی
استاذ جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال
بلا شبہ اسلامی معاشرہ عدل وانصاف، تقویٰ وپرہیز گاری، اخوت وبھائی چارگی اور اخلاقی اقدار پر مبنی ایک مثالی معاشرہ کا نام ہے، اس معاشرے کی تعمیر میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کا کردار بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام نے عورت کو وہ مقام عطا کیا جس کا تصور کسی اور تہذیب یا مذہب میں نہیں ملتا ہے۔ عورت محض ایک صنفِ نازک نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے جو نسلوں کی پرورش، معاشرتی ترقی اور دینی و علمی ارتقا میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ درج ذیل سطور میں معاشرے کی تشکیل میں خواتین ملت اسلامیہ کے اہم کردار کا تذکرہ اختصار کے ساتھ کیا جارہا ہے۔
*اسلامی خاندان کی تشکیل میں عورت کا کردار* :خاندان کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے، اور عورت اس اکائی کی اصل معمار ہے۔ ایک نیک، صالح اور باشعور ماں ہی ایک ایسی نسل تیار کر سکتی ہے جو اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر معاشرے میں بہتری لا سکتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔ ایک عورت اپنے شوہر کے گھر اور بچوں کی نگراں ہے اور اس سے اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں سوال ہوگا۔” (بخاری و مسلم)
یہ حدیث اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ عورت نہ صرف بچوں کی جسمانی بلکہ اخلاقی، روحانی اور فکری تربیت کی بھی ذمہ دار ہے۔
*خواتین کا تعلیمی و فکری کردار* :اسلام نے عورت کی تعلیم کو اتنی ہی اہمیت دی ہے جتنی مرد کی تعلیم کو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔” (ابن ماجہ)
تعلیم یافتہ خواتین نہ صرف اپنی نسلوں کی بہتر تربیت کرتی ہیں بلکہ وہ معاشرے میں اصلاح، رہنمائی اور ترقی کے لیے بھی مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔ اسلامی تاریخ میں حضرت عائشہؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ اور دیگر عظیم خواتین نے فقہ، حدیث، طب اور تعلیم کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔
*اسلامی اقدار اور سماجی اصلاح میں خواتین کا کردار* :خواتین اسلامی اقدار کی محافظ اور نگران ہوتی ہیں۔ ان کی حیا، عفت اور اخلاقی پاکیزگی معاشرے میں پاکیزگی اور استحکام پیدا کرتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، وہ بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔” (التوبہ: 71)
یہ آیت خواتین کے سماجی کردار کو واضح کرتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنی ذات بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں۔
*خواتین کا اقتصادی اور سیاسی کردار* :اسلام نے عورت کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنے مال کی خود مالک ہو، تجارت کرے اور اپنی معاشی ضروریات خود پوری کرے۔
حضرت خدیجہؓ رضی اللہ عنہا نہ صرف نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ تھیں بلکہ ایک انتہائی کامیاب اور معزز تاجرہ بھی تھیں۔ وہ اعلیٰ معیار کی تجارت کرتی تھیں اور ان کے تجارتی قافلے ملک شام اور دیگر خطوں تک سفر کرتے تھے۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی ایمانداری اور معاملہ فہمی کو دیکھ کر اپنے کاروبار کے لیے منتخب کیا، جو بعد میں اسلامی معیشت کے استحکام کا ذریعہ بنا۔
اسی طرح حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ، جو حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی والدہ تھیں، نہایت سمجھدار اور معاملہ فہم خاتون تھیں۔ وہ نہ صرف اپنے خاندان کی کفالت کرتی تھیں بلکہ کھجوروں کے باغات سنبھالتی تھیں اور تجارتی امور میں مہارت رکھتی تھیں۔
اسلامی تاریخ میں کئی خواتین نے سیاسی میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
ام المومنین حضرت عائشہؓ نہایت ذہین وفطین، معاملہ فہم اور فقہ و حدیث میں ماہر خاتون تھیں۔ خلافتِ راشدہ کے دوران، خاص طور پر حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے عہد میں، انہوں نے سیاسی معاملات میں مؤثر کردار ادا کیا۔ جنگِ جمل میں وہ ایک اہم سیاسی شخصیت کے طور پر سامنے ابھر کر آئیں۔
حضرت ام سلمہؓ رضی اللہ عنہا، جو نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ تھیں، سیاسی بصیرت میں منفرد مقام رکھتی تھیں۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب صحابہ کرامؓ کسی فیصلے کو قبول کرنے میں تذبذب کا شکار تھے، تو انہی کے مشورے پر نبی کریم ﷺ نے عملی قدم اٹھایا، جس کے نتیجے میں صلح کی شرائط تسلیم کر لی گئیں۔
خواتین کا خدمتِ خلق میں کردار:اسلامی تاریخ میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جہاں خواتین نے میدانِ جنگ میں زخمیوں کی تیمارداری کی، دفاعی محاذوں پر خدمات انجام دیں اور فلاحی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ حضرت رفیدہ اسلمیہؓ مدینہ میں ایک بہترین نرس تھیں، جو جنگوں میں زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔
مذکورہ باتوں سے پتہ چلا کہ اسلامی معاشرے کی تشکیل میں خواتین کا کردار کسی بھی طرح مردوں سے کم نہیں۔ وہ ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سے اسلامی اقدار کے فروغ میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر خواتین دینی و دنیاوی تعلیم سے آراستہ ہوں، اسلامی اصولوں پر کاربند رہیں اور معاشرتی بھلائی میں اپنا کردار ادا کریں، تو ایک مثالی اسلامی معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ اسلام نے عورت کو جو حقوق اور مقام دیا ہے، اگر ان سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھایا جائے تو مسلم معاشرہ دنیا کے لیے ایک بہترین نمونہ بن سکتا ہے۔
اخير ميں دعا گو ہوں کہ بار الہ! ہماری خواتین کو نسلوں کی بہترین تربیت کی توفیق عطا فرما۔ انہیں علم، حکمت اور صبر کی دولت سے نواز تاکہ وہ اپنی اولاد کو دین و دنیا کی بھلائی کی راہ پر چلا سکیں۔ رب ذو المنن! ان کے دلوں میں محبت، شفقت اور تقویٰ پیدا فرما تاکہ وہ ایمان اور اخلاق کی روشنی سے اپنی نسلوں کو منور کر سکیں۔ آمین یارب العالمین ۔