
مؤمنوں! مہمان ماہ رمضان کا استقبال کیسے کریں؟
صلاح الدین لیث مدنی
مرکز الصفا الاسلامی روپندیہی نیپال
رمضان المبارک وہ مقدس مہینہ جس کی آمد مؤمن کے دل میں شوق و محبت کی شمعیں روشن کر دیتی ہے جس کے آغاز پر جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیے جاتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ
(جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں) (صحیح مسلم: 1079)
یہ وہی بابرکت مہینہ ہے جس میں قرآن کا نزول ہوا وہی قرآن جو ہدایت کا سرچشمہ ہے جس کی آیتیں ایمان والوں کے دلوں میں خشیت کے دریا بہا دیتی ہیں جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی روشنی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں شَهْرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْءَانُ هُدًۭى لِّلنَّاسِ
(رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے) (البقرہ: 185)
یہی وہ مبارک ایام ہیں جن میں عبادت و ریاضت کا ذوق عروج پر ہوتا ہے دل نیکیوں کی طرف مائل ہوتے ہیں زبانیں ذکر و اذکار میں مصروف ہو جاتی ہیں آنکھیں آنسو بہاتی ہیں ہاتھ دعا کے لیے بلند ہوتے ہیں اور سینے خوف خدا اور محبت الٰہی کی کیفیت سے سرشار ہو جاتے ہیں لیکن یہ سعادت صرف انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو رمضان کے حقیقی استقبال کے لیے خود کو تیار کر لیتے ہیں۔
*رمضان کا استقبال کیسے کیا جائے؟*
رمضان کا استقبال محض تقویم کے اوراق پلٹنے سے نہیں ہوتا نہ ہی یہ صرف سحری اور افطار کے معمولات کو اپنانے کا نام ہے بلکہ رمضان کا حقیقی استقبال وہی کرتا ہے جو اپنے دل کو ایمان کے نور سے معمور کر لیتا ہے اپنی زندگی کو توبہ و استغفار کی روشنی میں داخل کر دیتا ہے اور اللہ کی رحمت کی جستجو میں خود کو مکمل طور پر نیکیوں کے سانچے میں ڈھال لیتا ہے رمضان کے استقبال کے لئے سب سے پہلا اور اہم قدم *اخلاص کے ساتھ توبہ اور استغفار ہے*
ہمیں چاہیے کہ رمضان کے آغاز سے قبل ہی اپنے گناہوں پر شرمسار ہو کر اللہ کے حضور جھک جائیں اپنے ماضی کی کوتاہیوں پر آنسو بہائیں اور آئندہ نیکی کی راہ پر چلنے کا عزم کریں اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ تُوبُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ تَوْبَةًۭ نَّصُوحًۭا
(اے ایمان والو اللہ کے حضور سچی توبہ کرو) (التحریم: 8)
اس توبہ کے بغیر رمضان کی برکتوں سے مکمل طور پر فیض یاب ہونا ممکن نہیں کیونکہ جب تک دل میں گناہوں کا بوجھ ہو آنکھوں پر غفلت کی دھند چھائی ہو اور روح میں نافرمانی کی زنجیریں جکڑی ہوں تب تک رحمت الٰہی کی بارش میں بھیگنے کی توفیق حاصل نہیں ہوتی۔
دوسرا اہم قدم *عبادات کو سنوارنا اور ان میں استقامت پیدا کرنا ہے*
رمضان میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو پہلے سے عبادات کا ذوق و شوق پیدا کر لیتا ہے نمازوں کو پابندی سے ادا کرنا سنن و نوافل کو اپنانا تہجد کا معمول بنانا تلاوت قرآن کو اپنی روح کی غذا بنانا ذکر و اذکار سے اپنی زبان کو تر رکھنا اور دعاؤں میں خشوع و خضوع اختیار کرنا یہ سب اعمال رمضان کی تیاری کا حصہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
(جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں) (صحیح بخاری: 38)
اسی طرح سے *قرآن سے اپنے تعلقات مضبوط کرنا ہے*
کیونکہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا اور جس میں اس کی تلاوت کی فضیلت کئی گنا بڑھا دی جاتی ہے ہمیں چاہیے کہ ہم روزانہ قرآن کی تلاوت کریں اس کے معانی و مطالب پر غور کریں اور اس کی روشنی میں اپنی زندگی کو سنواریں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ القُرْآنِ كَالبَيْتِ الخَرِبِ (جس شخص کے دل میں قرآن کا کچھ حصہ نہیں وہ ویران گھر کی مانند ہے) (سنن ترمذی: 2913)
اسی طرح سے رمضان میں *صدقہ و خیرات کی کثرت* بھی انتہائی اہم ہے
کیونکہ اس مہینے میں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں ان کی سخاوت بے مثال ہوتی تھی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت بے مثال ہوتی تھی) (صحیح بخاری: 6)
یہی وہ مہینہ ہے جس میں دل کی سختی نرمی میں بدلتی ہے جسم کی سستی عبادت کے شوق میں ڈھلتی ہے اور گناہوں کی تاریکی نیکیوں کی روشنی میں تبدیل ہو جاتی ہے جو اس مہینے کو پا کر بھی مغفرت سے محروم رہ گیا وہ یقینا بدقسمت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رَغِمَ أَنْفُ امْرِئٍ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ (اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جو رمضان کا مہینہ پائے اور پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہو) (مسند احمد: 7450)
یہی وہ وقت ہے جب ہمیں اپنی زندگی کا رخ بدل لینا چاہیے اپنے دل کی دنیا کو ایمان کی روشنی سے منور کرنا چاہیے اور اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے سانچے میں ڈھال لینا چاہیے اگر ہم نے اس مہینے کو ضائع کر دیا تو شاید ہمیں دوبارہ یہ موقع نہ ملے۔
رب العالمین سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں اس رمضان کو بہترین رمضان بنانے کی توفیق عطا فرمائے ہمیں اس کی برکتوں سے مالا مال کرے اور ہمیں ان خوش نصیبوں میں شامل کرے جن کے لیے رمضان جنت کا پروانہ بن کر آتا ہے آمین یا رب العالمین۔