درس (1)


ترجماني: پرویز یعقوب مدنی
خادم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال

محترم سامعین!  ایک عظیم مہینہ ہم پر سایہ فگن ہے جسے ہم ماہ رمضان کے نام سے جانتے ہیں یہ روزے اور قیام کا مہینہ ہے جہنم سے ازادی اور مغفرت کا مہینہ ہے اور نیکیوں میں کئی گنا اضافے کا مہینہ ہے۔ جو اس ماہ میں نیک اعمال کے ذریعے خود کو رحم کا مستحق بنالے وہی رحمت الہی کا حقدار ہے اور جو اس ماہ رمضان کی بھلائیوں سے محروم رہا وہی دراصل محروم القسمت اور سراپا محروم ہے، جس نے اس ماہ میں اپنے رب کی قربت اختیار نہ کی وہی قابل ملامت ہے۔ ایسے کتنے سارے لوگ ہوتے ہیں جن کی آرزو رہتی ہے کہ وہ اس مہینے کا روزہ رکھیں مگر ان کی امید ان کا ساتھ نہیں دیتی وہ قبر کی تاریکی میں چلے جاتے ہیں تو آپ ماہ رمضان پا کر اللہ تعالی کی نعمتوں کی قدر کریں اس میں آپ کے لئے خوشخبری و بشارت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کو ماہ رمضان کی آمد پر بشارت دیا کرتے تھے تو آپ بھی خوش رہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو اعمال صالحہ میں محنت و مشقت کرنے پر ابھارتے تھے آپ صحابہ  کرام کو رب سے قریب کرنے والے اعمال میں مشغول ہونے کی ترغیب دیتے تھے۔ جناب ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “إذا كان رمضان فتحت أبواب الرحمة و غلقت أبواب جهنم و سلسلت الشياطين” جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیے جاتے ہیں۔ انہیں سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: “إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ، وَمَرَدَةُ الْجِنِّ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ، وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَيُنَادِي مُنَادٍ : يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ، أَقْبِلْ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ، أَقْصِرْ، وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ، وَذَلكَ كُلُّ لَيْلَةٍ “.(رواہ الترمذی) جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جن  قید کر دئے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ نہیں کھولا جاتا، جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا ایک آواز لگانے والا آواز لگاتا ہے اے نیکیوں کے طلبگار بھلائی کے خواہش مند اگے بڑھ اور اے برائی کا ارادہ رکھنے والے تو باز آجا اور اللہ تعالی اس مہینے کی ہر رات کو اپنے کچھ بندوں کو جہنم سے آزادی عطا کرتا ہے۔
سلف صالحین جب رمضان کا مہینہ پاجاتے تو بڑے خوش ہوتے اور اطاعت کے کاموں میں مزید لگ جاتے اپنی اوقات کو عبادات کے لیے فارغ کر لیتے۔ تو اللہ کے بندو اللہ تم پر رحم کرے آپ ماہ رمضان کا استقبال کریں اس عزم کے ساتھ کہ اپنے رب سے زیادہ سے زیادہ قربت حاصل کریں گے اور اس کے مبارک اوقات کو اعمال صالحہ کے لیے غنیمت سمجھیں گے لوگو اپنے تمام گناہوں اور برائیوں سے توبہ کرنے کے لیے جلدی کرو اللہ تعالی بڑا غفور و رحیم ہے وہ فرماتا ہے: {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ} [الشورى : 25] وہی وہ ذات ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور برائیوں کو مٹادیتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے واقف ہے۔
اللہ کے بندو تمام فرائض کو مکمل کرنے اور احسان کے ساتھ ادا کرنے میں کوشش کرو زیادہ سے زیادہ نوافل اور اطاعت کے کام کرو تمہارا رب سبحانہ و تعالی حدیث قدسی میں فرماتا ہے: “وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ” (رواہ البخاری) میرا بندہ کسی بھی ایسی چیز سے میرا تقرب حاصل نہیں کرتا جو میرے نزدیک ان چیزوں سے زیادہ محبوب ہو جو میں نے اس کے اوپر فرض کیا ہے اور میرا بندہ برابر نوافل کے ذریعہ میری قربت حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اس کا ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پیر بن جاتا ہو جس سے وہ چلتا ہے اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے ضرورت عطا کروں اور اگر میری پناہ طلب کرے تو میں اسے ضرور پناہ دوں۔
روزے دارو!  اس ماہ میں شب و روز زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرو علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: تمام اعمال کرنے والوں میں سب سے زیادہ افضل وہ شخص ہے جو اللہ کا سب سے زیادہ ذکر کرتا ہے چنانچہ سب سے افضل روزہ دار وہ ہے جو روزہ کی حالت میں اللہ کا سب سے زیادہ ذکر کرتا ہے سب سے افضل صدقہ کرنے والا وہ ہے جو اللہ کا سب سے زیادہ ذکر کرتا ہے اور اسی طرح تمام اعمال ہیں چنانچہ زیادہ سے زیادہ تسبیح، تحمید، تہلیل، تکبیر اور استغفار کرو۔ بہ کثرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھو۔ اسی طرح زیادہ سے زیادہ تلاوت قران کریں کیونکہ پوری امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ تلاوت قران تمام اذکار سے افضل ہے، چنانچہ بکثرت تلاوت کریں کیونکہ ماہ رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں قران مجید نازل کیا گیا اللہ تعالی فرماتا ہے “شھر رمضان الذی أنزل فیه القران” (البقرہ 185) اس آیت سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ دوسرے مہینوں و ایام کے بالمقابل اس مہینے میں تلاوت قرآن کی مزید امتیازی خصوصیت ہوتی ہے۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی مہینے میں قرآن مجید پڑھایا کرتے تھے، اسی ماہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کو پورا قرآن شروع سے آخر تک سناتے تھے، اور یاد رکھیں قران مجید کے ہر حرف پر ایک نیکی ملتی ہے اور ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ہوتا ہے اور نیکیاں ماہ رمضان میں کئی گنا بڑھا دی جاتی ہیں۔
لوگو! ہر بھلائی خیر اطاعت اور احسان کے کام میں جلدی کرو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ ماہ رمضان میں سب سے زیادہ سخی ہو جاتے تھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں:
“كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ حَتَّى يَنْسَلِخَ، يَعْرِضُ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ.”  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھلائی اور نیک کاموں میں لوگوں میں سب سے زیادہ سخاوت پسند تھے اور آپ کی سخاوت سب سے زیادہ رمضان میں ہوتی تھی جب آپ جبرائیل سے ملاقات کرتے تھے اور جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات آپ کے پاس تشریف لاتے یہاں تک کہ رمضان کا مہینہ گزر جاتا آپ انہیں قرآن پیش کرتے تو جب آپ جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات کرتے تو ہر بھلے کام میں آپ کی سخاوت تیز اندھی سے بڑھ کر ہوجاتی تھی۔
روزہ دارو! اللہ آپ پر رحم کرے تم اس مہینے میں اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرو اور ان اسلاف کی پیروی کرو جنہوں نے آپ کی اتباع کی اور اپنے رب کے پاس اس کے اجر کی امید رکھو اور اپنے شب و روز کی حفاظت کرو اپنے دن و رات کو ان تمام کاموں سے بچاؤ اور محفوظ رکھو جو اللہ تعالی نے تم پر حرام کیا ہے چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: “مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ وَالْجَهْلَ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ”جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نیز جہالت نہ چھوڑے تو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں ہے کہ اپنا کھانا پانی چھوڑ کے رکھے اور  انھیں سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: “وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ : إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ.”روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کسی کا روزہ رہے تو شہوت اور فحش کاموں  کے قریب نہ جائے اور نہ ہی شور مچائے اور جھگڑا کرے اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے یا لڑائی کرے تو کہے کہ میں روزے سے ہوں۔ جناب جابر ابن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں جب تم روزہ رکھو تو جھوٹ سے گناہوں سے اور حرام کاموں سے تمہارے کان تمہاری آنکھیں اور  تمہاری زبان رکی رہے۔ پڑوسی کو تکلیف دینا چھوڑ دو تمہارے اوپر وقار اور سکینت طاری رہے تم اپنے روزہ کے دن کو اور روزہ کے بغیر دن کو برابر نہ بناؤ نہ ہی دونوں کو ایک طرح نہ رکھو (مصنف ابن ابی شیبہ)
یہ شرمندگی کی بات ہے کہ یہ افضل اور مبارک ایام مباحات اور کمالات کے حصول میں اور  کشادگی و فراخی کے حصول میں ختم ہو جائیں اور اس سے بھی بڑھ کر ندامت کی بات ہے کہ یہ ایام نافرمانیوں، معصیت اور حرام کاموں میں برباد ہو جائیں مثلا ان چیزوں کو سننا یا وہ چیزیں دیکھنا جنہیں اللہ تعالی نے حرام قرار دے رکھا ہے کیونکہ انسان کے دل پر گناہ اور معصیت کا نقصان یا اثر اسی طرح ہوتا ہے جس طرح بدن پر زہر کا اثر ہوتا ہے فضیل بن عیاض رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر تم قیام اللیل اور دن میں روزہ پر قدرت نہ رکھو تو جان لو کہ تم محروم آدمی ہو تمہاری گناہوں نے تمہیں جکڑ رکھا ہے۔ جناب حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ بندہ گناہ کے کاموں میں لگ جاتا ہے جس کی بنا پر قیام لیل کی سعادت سے محروم رہتا ہے چنانچہ اے روزہ دارو! نیک اعمال کرو اس مہینے میں بھلائیوں کے کاموں میں سبقت لے جاؤ خیر کے کاموں کی طرف دوڑو منکرات سے باز آجاؤ کیونکہ اللہ تعالی ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اس نے موت اور زندگی کو اسی لیے بنایا ہے تاکہ وہ تمہیں آزمائے اور دیکھے تم میں سے کون زیادہ اطاعت گزار ہے اور کون اس کی رضا کی طلب میں آگے بڑھنے والا ہے اللہ تعالی فرماتا ہے: “الذي خلق الموت والحياة ليبلوكم أيكم أحسن عملا و هو العزيز الغفور” وہی وہ ذات ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون سب سے بہتر عمل والا ہے اور وہ غالب بخشنے والا ہے۔ واللہ أعلم