درس (4)
روزہ کو توڑنے والی چیزیں
ترجمانی/ پرویز یعقوب مدنی
خادم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال

محترم قارئین: آپ سبھی حضرات اس بات سے واقف ہیں کہ روزے دار جب رمضان کے دن میں روزہ توڑنے والی چیزوں سے اجتناب کرتا اور رک جاتا ہے تو دراصل وہ اپنے رب کی بندگی و عبادت کر رہا ہوتا ہے اور جو شخص ان چیزوں میں سے کسی چیز کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔ یعنی رمضان کے دن میں روزہ توڑنے والی تمام چیزوں سے رکنا عبادت ہے، اسی طرح ان میں سے کسی کا ارتکاب کرنا معصیت ہے۔
روزہ کو توڑنے والی چیزیں کئی قسم کی ہوتی ہیں
نمبر ایک: جان بوجھ کر کھانا: اللہ تعالی فرماتا ہے: {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۖ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ } [البقرة : 187]
کھاؤ پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے فجر یعنی صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے واضح ہو جائے پھر روزہ کو رات تک مکمل کرو۔
اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ روزے دار کے لیے طلوع فجر کے بعد کھانا اور پینا مباح یا جائز نہیں ہے یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے اور رات شروع ہو جائے۔
البتہ جو شخص بھول کر کھالے یا بھول کر پی لے تو اس کا روزہ صحیح ہوگا البتہ جوں ہی اسے خود یاد آئے یا اسے یاد دلایا جائے اسے کھانے پینے سے فورا رک جانا واجب ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَأَكَلَ، أَوْ شَرِبَ ؛ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ”.(متفق علیہ)
جو شخص بھول جائے اس حال میں کہ وہ روزہ سے ہو چنانچہ وہ کھا پی لے تو چاہیے کہ وہ اپنا روزہ مکمل کرے کیونکہ اسے اللہ تعالی نے کھلایا اور پلایا ہے.
اسی طرح سے روزہ ہر اس چیز سے فاسد ہو جاتا ہے جو منہ اور ناک کے راستے سے پیٹ تک پہنچ جائے خواہ اس کا شمار غذا میں ہوتا ہو یا نہ ہوتا ہو وہ طاقت پہنچانے والی چیز ہو یا نہ ہو اسی طرح سے جو چیز بدن میں ناک اور منہ کے علاوہ کسی اور ذریعے سے داخل ہو جائے اگر وہ چیز تقویت بخش اور غذائیت والی ہے تو اس سے روزے دار کا روزہ ٹوٹ جائے گا جیسے کہ غذائیت والے انجکشن کیونکہ یہ کھانے اور پینے کے قائم مقام ہیں اگر وہ چیز غذائیت والی نہ ہو تو اس سے روزے دار کا روزہ نہیں ٹوٹتا ہے جیسے کہ انسولین اور ٹیکہ کاری کے انجکشن وغیرہ، اس قسم کے بہت سارے انجکشن ہیں جو بغرض علاج تجویز کیے جاتے ہیں کیونکہ یہ کھانے اور پینے کے قائم مقام نہیں ہوتے البتہ اگر ان کو رات تک مؤخر کرنا ممکن ہو تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
اسی طرح سے آنکھ اور کان میں ڈالے جانے والے ڈراپس ان سے روزے دار کا روزہ نہیں ٹوٹتا اسی طرح سے وہ مرہم جو آنکھ یا کان پر لگائے جائیں کیوں کہ آنکھ اور کان کا شمار کھانے پینے کے عادی یا عمومی ذرائع میں نہیں ہوتا اسی طرح سے ڈراپ سے یا مرہم سے بدن کو غذائیت و قوت حاصل نہیں ہوتی اور اگر انہیں بھی رات تک مؤخر کرنا ممکن ہو تو یہ بھی افضل ہے۔
اگر انسان اپنی ناک میں ڈراپس ڈالے اور وہ حلق تک پہنچ جائے اور انسان اسے نگل جائے تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا کیوں کی ناک کھانا پانی پہنچانے کا عادی ذریعہ ہے۔
اسی طرح سے ٹوتھ پیسٹ یعنی منجن کا استعمال اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا لیکن اس کے لیے احتیاط برتنا ضروری ہے کہ اس کے ذرات پیٹ تک نہ پہنچیں اور اگر اس کے اختیار کے بغیر ٹوتھ پیسٹ میں سے کوئی چیز پیٹ میں چلی جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور بہتر یہی ہے کہ ایسے منجن اور ٹوتھ پیسٹ رات تک مؤخر رکھے جائیں
نمبر دو: حجامہ کرانا یعنی پچھنا یا سینگی لگوانا رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ “(رواہ الترمذی) پچھنا اور سینگی لگانے والا اور لگوانے والا دونوں ہی کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
اسی طرح سے خون کا عطیہ دینا اس سے بھی روزے دار کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ یہ بھی زیادہ خون ہوتا ہے چنانچہ یہ سینگی کے حکم میں داخل ہے اسی طرح وہ آدمی جسے خون کا عطیہ دیا گیا ہے اور اس کے بدن میں خون چڑھایا گیا ہے تو خون چڑھائے جانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اگر بغیر کسی اختیار کے انسان کے بدن سے زیادہ خون نکل جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا جیسے کہ آدمی کا ہاتھ چھری چاقو وغیرہ سے زخمی ہو جائے یا شیشے پر اس کا پیر پڑ جائے یا اس کی نکسیر پھوٹ جائے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے: {لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا} [البقرة : 286] اللہ کسی بھی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کیا کرتا۔ اگر کوئی روزہ دار تجزیے یا جانچ کے لیے اپنے خون کا نمونہ دیتا ہے تو اس سے روزہ نہیں توڑتا کیوں کہ یہ معمولی خون ہوتا ہے جو حجامہ کے حکم میں داخل نہیں ہے۔
اگر کوئی روزہ دار شخص رمضان کے دن میں اپنے کڈنی کا ڈائیلاسز  یعنی خون کو فلٹر اور اس کی صفائی کرواتا ہے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اس طریقۂ کار میں مریض سے پورا خون نکال لیا جاتا ہے۔ اور ٹیکنالوجی ڈیوائس پر اس کا خون گزارا جاتا ہے اور پھر زہریلے مادوں اور دیگر فضلات سے پاک اور فلٹر کرنے کے بعد اسے واپس بدن میں داخل کیا جاتا ہے۔ جب کہ اس میں کچھ نمکیات گلوکوز اور شکر بھی شامل کردیے جاتے ہیں۔ یعنی بدن سے بہت زیادہ خون نکلنا روزہ ٹوٹنے کا سبب ہوتا ہے کیونکہ یہ بھی حجامہ اور سینگی کے حکم میں داخل ہے اسی طرح ساتھ جسم میں خالص اور صاف خون چڑھانا اور اس میں شکر و گلوکوز ملانا بھی ان اشیاء میں داخل ہے جن سے بدن کو قوت حاصل ہوتی ہے۔
نمبر تین: ہمبستری اور جسمانی تعلق قائم کرنا: ہمبستری کرنے سے روزہ باطل ہوجاتا ہے اگر انسان رمضان کے روزے کی حالت میں شرمگاہ میں جماع کرتا ہے یعنی روزہ رکھ کر دن میں جنسی تعلق قائم کرتا ہے تو اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے، گرچہ منی کا انزال یا خروج نہ ہوا ہو۔ روزہ صرف فاسد نہیں ہوتا بلکہ اس پر توبہ اور استغفار بھی واجب ہے اسی طرح اس دن کی قضا بھی ضروری ہے جس میں اس نے تعلق قائم کیا ہے اور توبہ اور قضا کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی لازم ہے۔ اور اس کا کفارہ ہے ایک گردن آزاد کرنا اگر اس کی طاقت نہ ہو تو دو مہینہ مسلسل روزے رکھنا اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو وہ 60/مسکینوں کو کھانا کھلائے گا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں:
“بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْتُ. قَالَ : “مَا لَكَ ؟ ” قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا ؟ ” قَالَ : لَا. قَالَ : ” فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ ” قَالَ : لَا. فَقَالَ : ” فَهَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ ” قَالَ : لَا. قَالَ : فَمَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهَا تَمْرٌ – وَالْعَرَقُ : الْمِكْتَلُ – قَالَ : ” أَيْنَ السَّائِلُ ؟ ” فَقَالَ : أَنَا. قَالَ : ” خُذْهَا فَتَصَدَّقْ بِهِ “. فَقَالَ الرَّجُلُ : أَعَلَى أَفْقَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا – يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ – أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي. فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ : ” أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ “. (متفق علیہ)
ہم لوگ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے ایک آدمی آیا اور کہا اے اللہ کے رسول میں برباد ہو گیا آپ نے فرمایا کیا ہوا اس نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی سے تعلق قائم کر لیا ہے جب کہ میں روزے سے تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے تم آزاد کر سکو انھوں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا: کیا تمہیں طاقت ہے کہ تم دو مہینے مسلسل روزہ رکھو کہا نہیں تو آپ نے فرمایا کیا تم 60/ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتے ہو آدمی نے کہا نہیں۔ راوی حدیث فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر ٹھہرے رہے تو اسی اثنا میں کہ ہم اسی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا ایک بڑا ٹوکرا لایا گیا آپ نے فرمایا سائل کہاں ہے آدمی نے کہا میں ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا کہ تم یہ ٹوکرا لے جاؤ اور اسے صدقہ کردو آدمی نے کہا کہ اللہ کے رسول کیا اپنے سے زیادہ محتاج کو صدقہ کرنا ہے اللہ کی قسم مدینہ کے دونوں سرخ وادیوں کے بیچ میں میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے دانت دکھنے لگے پھر آپ نے فرمایا اچھا جاؤ اپنے گھر والوں کو ہی کھلا دو اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: “و صم يوما مكانه”. اس کی جگہ پر ایک روزہ بھی رکھو۔
اگر عورت بھی اس عمل میں مرد کی شریک ہو اور راضی ہو تو اس پر بھی قضا اور کفارہ ضروری ہے اور اگر اس پر جبر کیا گیا ہو تو اس پر صرف قضا لازم ہے کفارہ واجب نہیں ہے۔
اگر کسی عمل سے مادہ منویہ کا خروج ہو جائے مثلا بوس و کنار سے چھیڑ چھاڑ سے یا کسی اور ذریعے سے تو اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا اس پر علماء امت کا اتفاق ہے کیونکہ یہ اس شہوت کی بنا پر ہے جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور جو روزے کے مخالف ہے اللہ تعالی حدیث قدسی میں فرماتا ہے: “يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَأَكْلَهُ وَشُرْبَهُ مِنْ أَجْلِي” روزہ دار آدمی اپنی شہوت اور اپنا کھانا و پینا میری خاطر چھوڑتا ہے۔
تو جو شخص ان افعال کا ارتکاب کرے اور انجام دے تو اس نے اپنی شہوت نہیں چھوڑی لیکن ایسے شخص پر صرف قضا لازم ہے کفارہ واجب نہیں ہے۔ کیونکہ کفارہ محض ہمبستری اور جسمانی تعلق قائم کرنے کی وجہ سے لازم ہوتا ہے کیونکہ نص کے الفاظ اسی میں مخصوص ہیں۔
اگر روزہ دار سو جائے اور احتلام ہو جائے یا بغیر شہوت کے انزال ہو جائے مثلا انسان کو کوئی بیماری ہو تو اس سے روزہ باطل نہیں ہوتا کیوں کہ یہ اس کے اختیار میں نہیں ہے۔
نمبر چار: جان بوجھ کر قے کرنا: اس سے مراد معدے میں موجود کھانا یا پانی کو منہ کے راستے سے عمدا جان بوجھ کر نکالنا ہے البتہ اگر اس پر قے غالب آجائے اور اس کے اختیار کے بغیر قے نکل آئے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ جناب ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“مَنْ ذَرَعَهُ قَيْءٌ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ، وَإِنِ اسْتَقَاءَ فَلْيَقْضِ”.
قے جس پر غالب آجائے اس پر قضا نہیں ہے اور جو جان بوجھ کر قے کرے تو چاہیے کہ وہ اپنے روزے کی قضاء کرے
نمبر پانچ: حیض و نفاس کا خون نکلنا: عورت جب بھی حیض کا خون دیکھے یا نفاس کا خون دیکھ لے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس پر قضا لازم ہوگی ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کی مشہور روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ، وَلَمْ تَصُمْ ؟ ” قُلْنَ : بَلَى.”-کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت کو حیض آتا ہے تو وہ نہ نماز پڑھتی ہے نہ روزہ رکھتی ہے تو عورتوں نے کہا کیوں نہیں اللہ کے رسول!
نمبر چھ: روزہ توڑنے کی نیت کرنا جو شخص وقت افطار سے پہلے روزہ توڑنے کی نیت کرلے اس حال میں کہ وہ روزہ سے ہو تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا گرچہ اس نے کوئی ایسی چیز استعمال نہ کی ہو جو روزہ کو توڑنے والی ہو کیونکہ نیت روزے کا رکن ہے تو جب اس نے روزہ ختم کرنے کے ارادہ سے اور جان بوجھ کر نیت توڑ دی اور روزہ توڑنے کی نیت اور ارادہ کر لیا تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔
نمبر سات: ارتداد: جو شخص نعوذباللہ اسلام سے مرتد ہوجائے تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا اللہ تعالی فرماتا ہے: {لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ} [الزمر : 65]
اے نبی اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کے سارے اعمال برباد ہوجائیں گے، اسی طرح سے اس بنا پر بھی روزہ ٹوٹ جائے گا کہ ارتداد عبادت کے منافی ہے۔
یہ روزے دار کے روزے کو توڑنے والی چند چیزیں تھیں رمضان کے دن میں جن سے بچنا ضروری ہے اللہ رب العالمین ان تمام چیزوں سے ہمارے روزوں کی حفاظت فرمائے جو اسے باطل کر دیں یا جن سے اس کا اجر کم ہو جائے۔