

رمضان اور روزے سے متعلق چند موضوع و ضعیف روایات
ابو عبدالبر عبدالحي السلفي
اَلحَمْدُ لله رب العالمين والصَّلَاةُ والسَّلاَمُ عَلَی اَشْرَفِ الاَنْبِيَاءِ وَاْلُمرْسَلِيْنَ سَيِّدِنَا محمد وَعَلَی اَلِهِ وَصَحْبِهِ اَجْمَعِيْنَ:
ذیل میں ہم بطور مثال اور تنبیہ رمضان اور روزے کے حوالے سے چند موضوع وضعیف روایات درج کرتے ہیں تاکہ عوام الناس ایسی روایات سے محفوظ اور متنبہ رہیں۔
1- عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِﷺفِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ، شَهْرَ مُبَارَكٌ، شَهْرَ فِيهِ لَيْلَةً خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، جَعَلَ اللَّهُ صِيَامَهُ فَرِيضَةً، وَقِيَامَ لَيْلِهِ تَطَوُّعًا، مَنْ تَقَرَّبَ فِيهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَيْرِ، كَانَ كَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ، وَمَنْ أَدَّى فِيهِ فَرِيضَةً، كَانَ كَمَنْ أَدَّى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ، وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ، وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ، وَشَهرُ الْمُوَاسَاةِ، وَشَهرَ يَزْدَادُ فِيهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ، مَنْ فَطَرَ فِيهِ صَائِمًا كَانَ مَغْفِرَةً لِذُنُوبِهِ، وَعِتْقَ رَقَبَتِهِ مِنَ النَّارِ، وَكَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ. قَالُوا: لَيْسَ كُلْنَا نَجِدُ مَا يُفَطِرُ الصَّائِمَ. فَقَالَ: يُعْطِي اللَّهُ هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَرَ صَائِمًا عَلَى تَمْرَةٍ، أَوْ شَرْبَةِ مَاءٍ،أَوْ مَدْقَةِ لَبَنِ،وَهُوَ شَهْرَ أَوَّلَهُ رَحْمَةً، وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةً، وَآخِرُهُ عِلْقٌ مِنَ النَّارِ،مَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوكِهِ غَفَرَ اللهُ لَهُ،وَأَعْتَقَهُ مِنَ النَّارِ،وَاسْتَكْثِرُوا فِيهِ مِنْ أَرْبَعِ خِصَالٍ: خَصْلَتَيْنِ تُرْضُونَ بِهِمَا رَبَّكُمْ،وَخَصْلَتَيْنِ لَا غَنِى بِكُمْ عَنْهُمَا،فَأَمَّا الْخَصْلَتَانِ اللَّتَانِ تُرْضُونَ بِهِمَا رَبَّكُمْ،فَشَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ،وَتَسْتَغْفِرُونَهُ،وَأَمَّا اللَّتَانِ لَا عَنِّى بِكُمْ عَنْهُمَا،فَتَسْأَلُونَ اللهَ الْجَنَّةَ،وَتَعُوذُونَ بِهِ مِنَ النَّارِ،وَمَنْ أَشْبَعَ فِيهِ صَائِمًا،سَقَاهُ اللَّهُ مِنْ حَوْضِي شَرْبَةٌ لَا يَظْمَأُ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ-
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ﷺنے شعبان کے آخری روز ہم سے خطاب کرتے ہوئے فر مایا: لوگو ! تم پر عظیم الشان مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے، یہ بابرکت مہینہ ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اللہ تعالی نے اس کے روزے فرض کئے ہیں اور اس مہینے کی راتوں کا قیام نفلی ہے، جس نے بھی اس مہینہ میں کوئی خیر و بھلائی کا کام سرانجام دے کر قرب حاصل کیا تو وہ ایسے ہی ہے جیسے کسی نے اس مہینہ کے علاوہ میں کوئی فرض ادا کیا اور جس نے اس مہینہ میں کوئی فرض سر انجام دیا تو وہ ایسے ہی ہے جیسے کسی نے اس مہینہ کے علاوہ میں ستر فرض ادا کئے، یہ صبر کا مہینہ ہے، اور صبر کا ثواب جنت ہے، یہ خیر خواہی کا مہینہ ہے۔ اس ماہ مبارک میں مومن کا رزق زیادہ ہو جاتا ہے اور جس کسی نے بھی اس مہینہ میں روزے دار کوافطار کرایا اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور اس کی گردن جہنم سے آزاد کر دی جاتی ہے اور اسے بھی روزے دار جتنا اجر وثواب حاصل ہوتا ہے اور کسی کے ثواب میں کمی نہیں ہوتی۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: ہم میں سے ہر ایک کے پاس تو افطار کرانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا، تو رسول کریم ﷺنے فرمایا: اللہ تعالی یہ اجر و ثواب ہر اس شخص کو دیتا ہے جس نے کسی کو بھی روزہ کھجور یا پانی کے گھونٹ ، یا دودھ کے ساتھ افطار کرایا، اس ماہ کا ابتدائی حصہ رحمت ہے اور درمیانی حصہ بخشش اور آخری حصہ جہنم سے آزادی کا باعث ہے، جس کسی نے بھی اپنی لونڈی اور غلام سے تخفیف کی اللہ تعالی اسے بخش دیتا اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے، اس ماہ مبارک میں چار کام زیادہ سے زیادہ کیا کرو: دو خصلتوں سے تم اپنے پروردگار کو راضی کرو گے اور دو خصلتیں ایسی ہیں جن سے تم بے نیاز نہیں ہو سکتے جن دو خصلتوں سے تم اپنے پروردگار کو راضی کر سکتے ہو وہ یہ ہیں: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور اس سے بخشش طلب کرنا، اور جن دو خصلتوں کے بغیر تمہیں کوئی چارہ نہیں: جنت کا سوال کرنا اور جہنم سے پناہ مانگنا ہے۔ جس نے بھی اس ماہ مبارک میں کسی روزے دار کو پیٹ بھر کر کھلایا اللہ تعالی اسے میرےحوض کا پانی پلائے گا وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاس محسوس نہیں کرے گا۔
(ضعیف الجامع، الضعيفۃ871)۔ (محدثین نے اسے حدیث منکر اور بعض نے حدیث باطل کہا ہے)۔
2- عن أبي مسعود الغفاري،قال:سمعت رسول اللهﷺ،يقول ذات يوم، وقد أَهَلَّ رمضانُ: لو علِمَ العبادُ ما في رمَضانَ لتمنَّت أمَّتي ان یکون رمضانُ السَّنةَ كلَّها.،،۔
ابو مسعود غفاری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو ایک دن ، جب رمضان کا مہینہ شروع ہو چکا تھا، فرماتے ہوئے سنا: “اگر بندوں کو معلوم ہوجائے کہ رمضان کی کیا فضیلت ہے؟ تو میری امت پورے سال رمضان رہنے کی تمنا کرنے لگے،،۔
(ابن الجوزی۔الموضوعات : 2/ 189)۔ ضعیف الترغیب:596.)
3-عن أبي هريرة رضي الله عنه قال:قال رسول اللهﷺ: صُومُوا تَصِحُوا،، رسول اللہﷺنے فرمایا: روزہ رکھو،صحت مند رہوگے۔
(طبرانی،الاوسط(8312)۔الضعيفه :253)
نوٹ: جدید میڈیکل سائنس کی روشنی میں انسانی صحت کے لیے روزے کی افادیت مسلم ہے۔ لیکن اس سے یہ جواز نہیں ملتا کہ بلا کسی ثبوت کے اس کو نبی ﷺکی طرف منسوب کر دیاجائے ۔
4-عن أبي هريرةرضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ: الصيامُ نصفُ الصبرِ وعلى كلِّ شيءٍ زكاةٌ وزكاةُ الجسدِ الصيامُ، ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : روزہ آدھا صبر ہے اور ہر چیز کی زکوۃ ہوتی ہے اور جسم کی زکاۃ روزہ ہے۔
(سنن ابن ماجہ،کتاب الصوم( 1745)۔ الضعيفة:1329)
5-عن الحسين بن علي رضي الله عنهما قال:قال رسول اللهﷺ:من اعتكف عشرا في رمضان كان كحجتين وعمرتين،،”۔
حسین بن علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: رمضان میں دس دنوں کا اعتکاف (کا ثواب) دو حج اور دو عمرے کے برابر ہے،، (الضعيفة،موضوع(518)
6-عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّﷺقَالَ:مَنِ اعْتَكَفَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ ثَلَاثَ خَنَادِقَ، كُلَّ خَنْدَقٍ أَبَعْدُ مِمَّا بَيْنَ الخافقين،،
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ کی رضا کے لیے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہے، اللہ تعالی اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کر دیتا ہے۔ہر خندق مشرق و مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ لمبی ہے،،۔
(طبرانی،الاوسط( 7326)بیہقی،شعب الایمان (3679)(سخاوی نے اسے منکر کہا ہے۔ (التلخیص الحبیر: 2/416،الضعيفة (5345).
7-عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،أَنَّ رَسُولَ اللَّهِﷺقَالَ:في المعتكف:هويعكف الذُّنُوبَ، وَيُجْرَى لَهُ مِنْ الْحَسَنَاتِ كَعَامِل الحَسَنَاتِ كلها ،،۔ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے معتکف کے بارے میں ارشاد فرمایا: وہ ( معتکف) گناہوں سے کنارے ہو جاتا ہے اور اسے عملاً نیک اعمال کرنے والے کی طرح پوری پوری نیکیاں عطا کی جاتی ہیں۔
(ضعیف ابن ماجہ،الصیام،باب فی ثواب الاعتکاف)
8-عن عائشة أن النبيﷺقال:(من اعتكف إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه)۔جس نے ایمان اوراجروثواب کی نیت سے اعتکاف کیا اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ،،۔(ضعيف الجامع (5442).
9- روزہ دار پر عصر کے بعد گناہ نہیں لکھا جاتا یا اللہ تعالی فرشتوں کو لکھنے سے منع فرماتا ہے ۔
(موضوع۔(الموضوعات،ابن الجوزی : 1030)
10-رجب اللہ کا مہینہ ہے، شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔
(شعب الایمان قال اسنادہ منکر)(موضوع )الضعيفة:6188)
11-اللهم بارك لنا في رجب وشعبان وبلغنا رمضان،، ’’اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا دے۔‘‘ ۔
(ضعیف)(مشكاة المصابيح ،تحقيق الالباني :1369) “ضعیف الجامع” (4395)
12-من أخبر بخبر رمضان أولا حرام عليه نار جهنم ۔
جس نے سب سے پہلے رمضان کی خبر دی اس پر جہنم کی آگ حرام ہوگئی ۔
یہ قطعی طور پر غیرثابت اور من گھڑت ہے اس کا کہیں وجود ہی نہیں ہے ۔
13-جنت کو رمضان کے لئے پورا سال مزین کیا جاتا ہےجب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش کے نیچے جنت کے پتوں سے ہوا چلتی ہوئی حورعین تک پہنچتی ہے تو وہ کہتی ہیں: ہمارے رب ! اپنے بندوں میں سے ہمارے شوہر بنادے، ہم ان سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور وہ ہم سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں۔
(موضوع۔ضعیف الترغیب والترھیب : 594)
(14) ۔روزے دار کی نیند بھی عبادت ہے اور خاموش رہنا یا سانس لینا بھی تسبیح ہوتا ہے ۔(بعض اسناد موضوع اور بعض ضعیف ہیں.(الضعيفة:4696)
15-جس نے بغیر عذر اور بیماری کے ایک روزہ ترک کردیا تو وہ پوری عمر بھی روزے رکھے تو اس روزے کی قضاء نہیں دے سکتا (انوار الصحیفۃ فی الاحادیث الضعیفۃ:89)
16-عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ماہ رمضان کے روزے مدینہ میں رکھنے کا ثواب دیگر شہروں میں رکھنے سے ایک ہزار گنابہتر ہے، اور نماز جمعہ مدینہ منورہ میں ادا کرنا دیگر جگہوں میں ادا کرنے سے ہزار گنا بہتر ہے،،۔
(امام بیہقی شعب الایمان میں روایت کرنے کے بعد کہتے ہیں:”اس کی سند ضعیف ہے”۔البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو باطل قرار دیا ہے۔(الضعیفۃ (831)۔
17- مَن أدرك رمضانَ بمكةَ، فصامه، وقام منه ما تَيَسَّرَ له، كتب اللهُ له مائةَ ألفِ شهرِ رمضانَ فيما سِوَاها، وكتب اللهُ له بكلِّ يومٍ عِتْقَ رقبةٍ، وكلِّ ليلةٍ عِتْقَ رقبةٍ، وكلِّ يومٍ حُمْلانَ فَرَسٍ في سبيلِ اللهِ، وفي كلِّ يومٍ حسنةً، وفي كلِّ ليلةٍ حسنةً۔
(ضعيف الجامع :5375)
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو مکہ میں ماہ رمضان پائے اور وہیں پر روزے رکھے اور جتنا اس سے ہو سکے رات کو قیام کرے تو اللہ تعالی اس کے لئے مکہ کے علاوہ دیگر شہروں کے ایک لاکھ رمضانوں کا ثواب لکھ دیتا ہے اور اللہ تعالی اس کے لیے ہر دن کے بدلے میں ایک غلام آزاد کرنے کا اور ہر دن کے بدلہ اللہ کے راستے میں گھوڑے پر (مجاہد کو) سوار کرنے کا ثواب لکھ دیتا ہے، اور ہر روز ایک نیکی اور ہر رات ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔،،البانی رحمہ اللہ “ضعیف ابن ماجہ ” میں کہتے ہیں:”یہ روایت من گھڑت ہے”
18-ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روایت ہے نبى كريم ﷺ نے فرمايا:” جب رمضان المبارك كى پہلى رات ہوتى ہے تو اللہ تعالی اپنى مخلوق كى جانب ديكھتا ہے، اور جب اللہ تعالى كسى بندے كى طرف ديكھ لے تو اسے كبھى بھى عذاب نہيں ديتا، اور ہر روز اللہ تعالى آگ سے دس كروڑ كو آزادى ديتا ہے، اور جب انتيسويں (29)رات ہوتى ہے تو اللہ تعالى اس رات ميں پورے مہينہ ميں آزاد كردہ كى تعداد كو آزادى ديتا ہے”۔
(يموضوع ضعيف الترغيب(591)،الضعيفة(4568)
19-ابن عباس رضى اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے نبى كريم ﷺكو يہ فرماتے ہوئے سنا:” جنت كو ايك سال سے دوسرے سال تك رمضان كے مہينہ كے شروع ہونے كے لئے مزين كيا جاتا ہے، اور جب رمضان المبارك كى پہلى رات ہوتى ہے تو عرش كے نيچے سے المثيرہ نامى ہوا چلتى ہے، انہوں نے فرمايا: اور رمضان المبارك كے ہر روز افطارى كے وقت اللہ تعالى دس كروڑ كو جہنم سے آزاد فرماتا ہے، ان سب پر جہنم واجب ہو چكى ہوتى ہے، اور جب رمضان المبارك كا آخرى دن ہوتا ہے تو اس دن مہينہ كى ابتدا سے لے کرآخر تك كى آزاد كردہ كى تعداد جتنوں كو آزادى ملتى ہے” ۔
(موضوع ،ضعيف الترغيب(594)
20-حسن رضى اللہ عنہ سے روایت ہے رسول كريم ﷺ نے فرمايا:” مضان المبارك كى ہر رات اللہ تعالى چھ لاكھ كو جہنم سے آزاد كرتے ہيں، اور جب آخرى رات ہوتى ہے تو جتنے آزاد ہو چكے ہوتے اتنى تعداد ميں آزاد كرتے ہيں”۔
(ضعيف الترغيب ( 598 )
21-عن ابن عمر رضي الله عنهما قال :قال رسول اللهﷺمن صام رمضان وأتبعه ستا من شوال خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه(الطبرانی المعجم الاوسط ) (الضعيفة: 5190)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس نے رمضان کا روزہ رکھا اور اس کے بعد چھ روزے شوال کے رکھے تو وہ گناہ سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیساکہ اس کی ماں نے آج ہی جنا ہو،،۔
22-عن ابي هريرة رضى الله عنه قال:قال رسول اللهﷺمن صام ستة أيام بعد الفطر فكانما صام السنة”۔
ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جس شخص نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے تو گویا اس نے پورے سال روزہ رکھا ،،۔
(الطبراني في الأوسط(7603)ومجمع البحرین فی زوائد المعجمین (155)یہ حدیث ضعیف ہے امام البانی نے کہا ہے کہ اس لفظ کے ساتھ یہ حدیث منکر ہے۔ (الضعیفۃ (5189)
واضح ہو کہ شوال کے چھ روزوں کی مشروعیت صحیح مسلم میں ثابت ہے مگر مذکورہ لفظ کے ساتھ صحیح نہیں ہے۔
23-عن ابن عباس رضى الله عنهما قال: قال رسول اللهﷺ:ليس ليوم فضل على يوم في الصيام إلا شهر رمضان ويوم عاشوراء،،۔ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :کسی دن کو کسی دن پر کوئی فضیلت نہیں ہے روزہ رکھنے میں سوائے ماہ رمضان اور یوم عاشواء کے )۔
((الطبرانی الكبير (11253) الطحاوی، معانی الآثار:2/75)ضعیف الضعيفة:285)
24-عن انس رضي الله عنہ سئل النبيﷺأي الصوم أفضـل بـعـد رمضان قال : شعبان لتعظيم رمضان قال:فأي الصدقة أفضل؟قال: صدقة في رمضان“۔
(رواه الترمذی ابواب الزکوة ،ضعیف،الارواء(889)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا گیا کہ رمضان کے بعد کون سا روزہ افضل ہے؟آپ ﷺنے فرمایا: رمضان کی تعظیم کے لئے شعبان کا روزہ، کہا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ تو اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا رمضان کا صدقہ ،،۔
25-عن عبيد الله بن مسلم القرشي عن أبيه قال سألت أو سئل النبي ﷺعن صيام الدهر فقال:لا إن لأهلك عليك حقا صم رمضان والذي يليه وكل أربعاء وخميس فإذن أنت صمت الدهر وأفطرت،،۔
(ضعیف،ضعیف ابو داود(420)
عبید اللہ بن مسلم القرشی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سوال کیا ،یا اللہ کے رسول ﷺ سے سوال کیا گیا صیام دہر کے متعلق تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: نہیں بے شک تمہارے گھر والوں کا تمہارے اوپر حق ہے رمضان اور اس سے متصل ماہ
کے روزے رکھو اور ہر بدھ کو اور جمعرات کو تب تم نےتوپورے سال روزہ رکھا اور افطار کیا،،۔
26- ذاكِرُ اللهِ في رمضانَ مغفورٌ له، وسائِلُ اللهِ فيه لا يَخِيبُ۔رمضان میں اللہ کا ذکر کرنے والا بخش دیا جاتا ہے اوراللہ سے مانگنے والامحروم نہیں ہوتا ۔
(موضوع (الضعيفة:3621)
27-يَغْفِرُ لأمتِهِ في آخِرِ ليلةٍ في رمضانَ، قيل:يا رسولَ اللهِ!أَهِيَ ليلةُ القدرِ؟! قال : لا، ولكنَّ العاملَ إنما يُوَفَّى أجرُهُ إذا قَضَى عملَه۔رمضان کی آخری رات میں امت معاف کردی جاتی ہے ، کہا گیا اے اللہ کے رسول! کیا یہ قدر کی رات ہے تو آپ نے فرمایا: نہیں ، جب مزدور اپنے کام سے فارغ ہوتا ہے تو اسے پورا اجر دیا جاتا ہے۔
( ضعیف ۔(تخریج مشكاة المصابيح:1909)
28- أُعطِيَتْ أمَّتي خمسُ خصالٍ في رمضانَ لم تُعطَهنَّ أمَّةٌ قبلهم خلوفُ فمِ الصَّائمِ أطيبُ عند اللهِ من ريحِ المسكِ وتستغفرُ لهم الحِيتانُ حتَّى يُفطِروا ويُزيِّنُ اللهُ عزَّ وجلَّ كلَّ يومٍ جنَّتَه ثمَّ يقولُ يُوشِكُ عبادي الصَّالحون أن يُلقوا عنهم المُؤنةَ ويَصيروا إليك وتُصفَّدُ فيه مَرَدَةُ الشَّياطينِ فلا يخلُصوا فيه إلى ما كانوا يخلُصون إليه في غيرِه ويُغفرُ لهم في آخرِ ليلةٍ قيل يا رسولَ اللهِ أهي ليلةُ القدرِ قال لا ولكنَّ العاملَ إنَّما يُوَفَّى أجرَه إذا قضَى عملَه،،
(تخريج مشكاة المصابيح :1909 ۔ ضعيف الترغيب والترهيب)
ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ سے روایت ہے کہ:میری امت کو رمَضان کے بارے میں پانچ چیزیں مَخصُوص طور پر دی گئی ہیں جو پہلی امتوں کو نہیں ملی ہیں: (۱) یہ کہ اُن کے مُنہ کی بدبو اللہ کے نزدیک مُشک سے زیادہ پسند ہے۔ (۲) یہ کہ اُن کے لیے دریا کی مچھلیاں تک دعا کرتی ہیں، اور افطار کے وقت تک کرتی رہتی ہیں۔ (۳) جنت ہر روز اُن کے لیے آراستہ کی جاتی ہے، پھر اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ: قریب ہے کہ میرے نیک بندے (دنیا کی) مَشقتیں اپنے اوپر سے پھینک کر تیری طرف آئیں (۴) اِس میں سرکش شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں، کہ وہ رمَضان میں اُن بُرائیوں کی طرف نہیں پہنچ سکتے جن کی طرف غیرِ رمَضان میں پہنچ سکتے ہیں۔ (۵) رمَضان کی آخری رات میں روزہ داروں کے لیے مغفرت کی جاتی ہے، صحابہ کرام نے عرض کیا کہ: یہ شبِ مغفرت، شبِ قدر ہے؟ فرمایا: نہیں؛ بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم ہونے کے وقت مزدوری دی جاتی ہے۔(اس روایت کو علامہ البانی نے ضعیف کہا ہے۔