
درس (5)
روزہ چھوڑنے کے جائز اسباب
ترجمانی/ پرویز یعقوب مدنی
خادم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال
محترم قارئین! بندوں پر یہ اللہ رب العالمین کی رحمت ں مہربانی ہے اور ان کے لیے آسانی ہے کہ اس نے ماہ رمضان میں ان لوگوں کو افطار یعنی روزہ چھوڑنے کی اجازت دے رکھی ہے جن کے پاس کوئی ایسا عذر ہو جو روزہ سے مانع ہو یا روزہ رکھنے کی صورت میں جس سے مشقت اور حرج محسوس ہو اور یہ اسباب درج ذیل ہیں:
نمبر ایک : بیماری اور بڑھاپا: کوئی ایسا بیمار شخص جس کے لیے روزہ رکھنا انتہائی مشقت کا باعث ہو اس کے لیے روزہ چھوڑنا جائز ہے اور جب وہ شفا یاب ہو جائے تو اس پر اتنے دنوں کی قضا کرنا واجب ہے جتنے دنوں تک اس نے روزہ چھوڑ رکھا تھا کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے: {أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ } (البقرة: 184) یہ روزے کے چند ایام ہیں ان دنوں میں جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے ایام میں گنتی پوری کرے.
اسی طرح اللہ تعالی فرماتا ہے: {فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ}(البقرۃ:185)
جو اس مہینے میں موجود ہو وہ روزہ رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر پہ ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کر لے۔
وہ مریض جس کے شفایابی کی کوئی امید نہ ہو یا روزے سے اس طرح عاجز ہو کہ وہ عاجزی مسلسل جاری رہے جیسے کہ بوڑھا شخص تو وہ روزہ چھوڑ سکتا ہے اس پر قضا بھی واجب نہیں ہے اس کے لیے روزے کی جگہ پہ فدیہ دینا ضروری ہے وہ یہ کہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔ جناب امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایسا بوڑھا شخص جو روزے کی طاقت نہیں رکھتا ہے تو وہ کھانا کھلائے گا کیونکہ جناب انس رضی اللہ تعالی عنہ جب بوڑھے ہو گئے تو ایک سال یا دو سال تک انہوں نے ہر دن کے بدلے میں ایک مسکین کو روٹی اور گوشت کھلائی اور روزہ چھوڑ دیا۔ جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بوڑھے آدمی اور بوڑھی عورت جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھیں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ دونوں ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں گے۔
چنانچہ روزے سے ایسا عاجز شخص جس کی عاجزی دور ہونے کی امید نہ ہو وہ بھی کھانا کھلائے گا چاہے اس کی عاجزی بیماری کی وجہ سے ہو یا بڑھاپے کی وجہ سے یہ عاجز شخص ہر دن کے بدلے مسکین کو آدھا صاع گیہوں، کھجور یا چاول کھلائے گا یا جو اس شہر کی عام خوراک ہو اور اس کا اندازہ جدید پیمانے کے مطابق تقریبا ڈیڑھ کلو ہوتا ہے۔
اگر کوئی مریض شخص تکلف کے ساتھ اور پریشانی اٹھا کر روزہ رکھ لے تو بھی اس کا روزہ صحیح رہے گا اور اس کے لیے کافی ہوگا گرچہ بہتر یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے دی گئی رخصت کو قبول کرے اور روزہ چھوڑ دے کیونکہ جناب عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ، كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُؤْتَى مَعْصِيَتُهُ “. (رواہ أحمد)ـ
بلا شبہ اللہ تعالی پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتیں قبول کی جائیں اسی طرح جیسے کہ وہ ناپسند کرتا ہے کہ اس کی معصیت کی جائے
اگر مریض شخص کو یقین ہو یا ظن غالب ہو کہ اس کو ضرر لاحق ہوگا یا روزے کی وجہ سے وہ ہلاک ہوسکتا ہے تو اس پر روزہ رکھنا حرام ہے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} [النساء : 29] تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو بے شک اللہ تعالی تمہارے اوپر مہربان ہے اسی طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ” لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ “.( رواہ ابن ماجۃ)انسان نہ تو خود نقصان اٹھائے گا اور نہ ہی نقصان پہنچائے گا
نمبر دو: سفر: ماہ رمضان میں سفر کرنے والے شخص کے لیے رمضان کے روزے چھوڑنا جائز ہے اور اس پر قضا واجب ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ } (البقرة: 184) جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے ایام میں گنتی پوری کرے.اسی طرح اللہ تعالی فرماتا ہے:
{فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ}(البقرۃ:185) جو اس مہینے میں موجود ہو وہ روزہ رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر پہ ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کر لے۔ اسی طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جب آپ سے سفر کے دوران روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: “إن شئت فصم و إن شئت فأفطر”اگر چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو چھوڑ دو اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں روزہ رکھ کر مکہ کی طرف نکلے جب مقام قدید کو پہنچے تو آپ نے روزہ چھوڑ دیا اور لوگوں نے بھی روزہ چھوڑ دیا
یاد رکھیں روزہ چھوڑنا صرف ایسے ہی سفر میں جائز ہوتا ہے جس میں نماز میں قصر کرنا جائز ہو اور یہ تقریبا 48/ میل کی مسافت ہوتی ہے یعنی تقریبا 80/کلومیٹر کی مسافت اور جو محض روزہ نہ رکھنے کے ارادہ سے سفر کرے تو اس کے لیے روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں ایک واجب چیز کو چھوڑنے کا حیلہ پایا جاتا ہے۔
اور اگر مسافر روزہ رکھتا ہے تو اس کا روزہ صحیح ہوگا اس کے لیے کفایت بھی کرے گا انس رضی اللہ تعالی عنہ کی مشہور حدیث ہے وہ کہتے ہیں: “كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ”.( متفق علیہ) ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کرتے تھے تو روزہ رکھنے والا روزہ چھوڑنے والے پر اور روزہ چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب جوئی یا نکتہ چینی نہیں کرتا تھا البتہ دوران سفر جس کے لیے روزہ رکھنا مشقت کا باعث ہو تو اس کے حق میں رخصت پر عمل کرنے کی بنا پر افطار یعنی روزہ نہ رکھنا ہی افضل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران ایک آدمی کو دیکھا جس کے اوپر گرمی کی شدت کی وجہ سے سایہ کیا گیا تھا لوگ اس کے ارد گرد جمع تھے تو آپ نے فرمایا: “ليس من البر الصيام فى السفر” (متفق علیہ). سفر میں روزہ رکھنا نیکی کا کام نہیں ہے۔
جو شخص کسی شہر میں غروب شمس کے بعد افطار کرے پھر جہاز پر سوار ہو جائے وہاں پہ وہ سورج دیکھ لے تو وہ روزہ نہ رہنے کی حالت میں باقی رہے گا کیونکہ اس کا حکم اس شہر کا حکم ہوگا جہاں سے اس نے پرواز کی ہے اور جہاں اس کی موجودگی میں دن ختم ہو چکا تھا اور اصل قاعدہ یہی ہے کہ روزہ رکھنے چھوڑنے اور نماز کے اوقات میں ہر شخص اس سرزمین کے مطابق عمل کرے گا جس میں وہ ہے یا اس فضا کا اعتبار کرے گا جس میں وہ چل رہا ہے۔
اگر غروب شمس سے چند منٹ پہلے جہاز اڑان بھر لے اور دن باقی رہے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ افطار کرے نہ ہی اس کے لیے مغرب کی نماز پڑھنا جائز ہے یہاں تک کہ دوران پرواز اس فضا میں سورج غروب ہو جائے جس میں اس کا جہاز اڑ رہا ہے اور اگر وہ کسی ایسے علاقے کے آسمان سے گزرے جنہوں نے افطار کر لیا ہے اور وہ مغرب کی نماز پڑھ چکے ہیں اور وہ آسمان میں سورج دیکھ رہا ہو تو وہ افطار نہیں کرے گا نہ ہی نماز پڑھے گا یہاں تک کہ اس فضا میں سورج غروب ہو جائے جس میں وہ چل رہا ہے
نمبر تین:حیض و نفاس: وہ عورت جسے ماہواری آجائے یا زچگی کے بعد کا خون آجائے تو واجب طور پر وہ رمضان کے روزے چھوڑ دے گی اس پر روزہ رکھنا حرام ہے اگر وہ روزہ رکھ بھی لے تو وہ روزہ صحیح نہیں ہوگا. جناب ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ، وَلَمْ تَصُمْ ؟ ” قُلْنَ : بَلَى.” (رواہ البخاری) کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت کو ماہواری آتی ہے تو وہ نماز نہیں پڑھتی نہ ہی روزہ رہتی ہے سب نے کہا کیوں نہیں۔ ماہواری والی عورتوں اور نفاس یعنی زچگی کے بعد آنے والے خون والی عورتوں پر واجب ہے کہ وہ روزوں کی قضا کریں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے فرمان کی وجہ سے وہ کہتی ہیں۔ “كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكَ فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ.” (رواہ مسلم)ـ ہمیں یہ عارضہ لاحق ہوتا تھا چنانچہ ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا نمازوں کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ عورت رمضان کے مہینے میں ماہواری روکنے والی مانع حیض دوائیں استعمال کرے بشرطیکہ صاحب ایمان تجربہ کار مستند ڈاکٹر یہ یقین دہانی کرائے کہ اس سے اس کو نقصان نہیں ہوگا اگرچہ مانع حیض دوائیں استعمال نہ کرنا افضل ہے اور جب عورت رمضان کے ایام میں ایسی صورت سے دوچار ہو تو اللہ رب العالمین نے عورت کے لیے روزہ اس سے رخصت دی ہے اور عورت ان دنوں کی قضا کرے گی۔
نمبر چار: حمل اور رضاعت: ایک عورت جو حمل سے ہو یا بچے کو دودھ پلا رہی ہو اسے اپنے بارے میں یا بچے کے بارے میں روزے کی وجہ سے خطرہ محسوس ہو تو اس کے لیے روزہ نہ رکھنا جائز ہے انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ، وَعَنِ الْمُسَافِرِ وَالْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ الصَّوْمَ ” (رواہ ابوداؤد و ابن ماجۃ). بلاشبہ اللہ تعالی نے مسافر سے آدھی نماز کم کر دی ہے اور مسافر حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں سے روزہ ساقط کردیا ہے. حاملہ عورتیں یا دودھ پلانے والی عورتیں ان ایام کے بدلے میں قضا کریں گی جن دنوں میں انہوں نے روزہ نہیں رکھا ہے اس شرط کے ساتھ کہ انہیں اپنی جان کا خطرہ لاحق ہو یا اپنی جان اور بچے دونوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو اگر صرف بچے کے لیے خطرہ ہو تو قضا کے ساتھ ساتھ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا بھی کھلائیں گی۔ جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ دودھ پلانے والی عورت اور حمل والی عورت اگر دونوں کو خوف لاحق ہو (امام ابو داود کہتے ہیں مراد ہے اولاد کے سلسلے میں) تو وہ دونوں روزہ چھوڑ دیں گی اور کھانا کھلائیں گی۔ جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے قضا واجب ہونے کو بیان نہیں کیا ہے کیونکہ یہ معلوم چیز ہے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تین صحابہ کرام سے فدیہ کا وجوب ثابت ہے اور ان کا کوئی مخالف معلوم نہیں ہے۔
جو شخص کسی عذر کی بنا پر روزہ چھوڑ رہا ہو پھر دن کے کسی حصے میں اس کا عذر ختم ہو جائے تو باقی دنوں میں یا دن کے باقی حصے میں امساک لازم ہے یعنی کھانے پینے سے رک جانا ضروری ہے قضا کے ساتھ ساتھ جیسے کہ مسافر آدمی جب وہ اپنے شہر پہنچ جائے یا حیض و نفاس والی عورت جب وہ پاک ہو جائے اسی طرح سے مریض جب وہ دن کے کسی حصے میں شفایاب ہو جائے تو ان سب پر دن کے باقی حصے میں کھانے پینے سے رکنا لازم ہے کیونکہ اللہ رب العالمین کے فرمان فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} [البقرة : 185] میں وہ بھی داخل ہیں کہ جو تم میں سے اس مہینہ کو پائے تو روزہ رکھے اور روزہ کے اوقات کا احترام میں بھی کھانے پینے سے رکنا لازم ہے
رمضان کے مہینے میں روزہ نہ رکھنے کے یہ جائز اسباب ہیں اور یہ بندوں پر اللہ تعالی کی مہربانی ہے اور عبادت میں ان کے لیے آسانی ہے ان کے حالات کی رعایت کی گئی ہے کیونکہ اللہ تعالی ہر بندے کو اسی چیز کا مکلف کرتا ہے جس کی وہ طاقت رکھے اللہ رب العالمین نے اس امت سے وہ بوجھ اور وہ طوق ہٹا دیا ہے جو اس سے پہلے کی امتوں پر نافذ تھی تو تمام حمد و ثنا اس اللہ رب العالمین کے لیے جس نے ہمیں اس عظیم دین کی رہنمائی فرمائی اگر اللہ تعالی ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ذکر و شکر کی اور عبادت میں بہتری لانے کی توفیق عطا فرمائے اور اس پر ہماری مدد کرے ہمیں ان اعمال کی توفیق دے جس سے وہ راضی ہو۔ آمین