
درس (6)
ترجمانی/ پرویز یعقوب مدنی
خادم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال
محترم قارئین!روزے دار کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے روزے کے دوران چند باتوں کی رعایت کرے جس کی وجہ سے اللہ تعالی کے نزدیک اس کے اجر و ثواب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
نمبر ایک: سحری کھانا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ” تَسَحَّرُوا ؛ فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً “. (متفق علیہ) سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔
سحری کھانے کا جو فرمان ہے یہ کم کھانے اور زیادہ کھانے دونوں ہی سے اس پر عمل ہو جائے گا اگرچہ انسان ایک گھونٹ پانی ہی کیوں نہ پی لے اسی طرح سے سحری کو رات کے آخری حصے تک مؤخر کرنا مستحب ہے اور یہ وہی وقت ہے جسے ہم لوگ سحری کا وقت کہتے ہیں انس رضی اللہ تعالی عنہ زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں: “تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قُلْتُ : كَمْ كَانَ قَدْرُ مَا بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ : خَمْسِينَ آيَةً”.(متفق علیہ) ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کیا پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے میں نے کہا کہ سحری اور نماز کے درمیان کتنا وقفہ تھا آپ نے کہا 50/ آیات کے برابر۔
نمبر دو: افطار میں جلدی کرنا: جب سورج کا غروب ہونا ثابت ہو جائے تو روزے دار کے لیے افطار میں جلدی کرنا مستحب ہوتا ہے. جناب سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ “.(متفق علیہ) لوگ اس وقت تک خیر میں رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کریں گے
نمبر تین: تر کھجور سے افطار کرنا: اگر یہ میسر نہ ہو تو خشک کھجور کھانا اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو پانی کے چند گھونٹ پینا۔ جناب انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں:”كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ عَلَى رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ رُطَبَاتٌ فَعَلَى تَمَرَاتٍ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ”.(رواہ ابوداؤد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے سے پہلے چند تر کھجوروں سے افطار کیا کرتے تھے اگر تر کھجوریں میسر نہ ہوتیں تو خشک کھجوریں کھاتے تھے اگر یہ بھی مہیا نہ ہوتی تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے تھے۔
اگر کوئی انسان کچھ بھی نہ پائے تو اپنے دل میں افطار کی نیت کر لے اور یہی اس کے لیے کافی ہوگا۔
نمبر چار: افطاری کے وقت اور روزہ کے دوران دعا کرنا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ” ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمُ ؛ الصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَالْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ”. (رواہ الترمذی) تین لوگ ایسے ہیں جن کی دعا رد نہیں کی جاتی روزہ دار آدمی یہاں تک کہ وہ افطار کرلے عادل امام اور مظلوم کی دعا۔
نمبر پانچ:جو کوئی گالی گلوچ کرے اس سے کہنا کہ میں روزے سے ہوں: جناب ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ.” (متفق علیہ)جب تم میں سے کوئی شخص روزے سے ہو تو وہ فحش باتوں کے قریب نہ جائے اور نہ ہی لڑائی جھگڑا کرے اگر اس سے کوئی گالی گلوچ کرے یا لڑائی کرے تو وہ کہے کہ میں روزے سے ہوں
نمبر چھ: روزے داروں کو افطار کرانا بھی افضل اور مستحب عمل ہے: جناب زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْئًا ” (رواہ الترمذی). جو شخص کسی روزے دار کو افطار کرادے تو اس کو اسی کے روزہ برابر ثواب ملے گا اور روزے دار کے ثواب میں کوئی بھی کمی نہیں ہوگی۔
نمبر سات:رمضان میں عمرہ کرنا بھی مستحب ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاریہ عورت سے (جو آپ کے ساتھ حج نہیں کر سکی تھیں) فرمایا: ” فَإِذَا كَانَ رَمَضَانُ اعْتَمِرِي فِيهِ ؛ فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ حَجَّةٌ “( متفق علیہ) جب رمضان کا مہینہ آجائے تو تم عمرہ کرلو کیونکہ اس میں عمرہ کرنا حج کرنے کے برابر ہے۔
روزے دار کے حق میں بعض چیزیں مکروہ اور ناپسندیدہ بھی ہوتی ہیں جن سے روزے میں خلل اور ثواب میں کمی واقع ہوتی ہے اور وہ درج ذیل ہیں:
نمبر ایک:کلی کرتے وقت یا دوران وضو ناک میں پانی ڈالتے وقت مبالغہ کرنا: اور یہ اس بنا پر کہ اس سے پانی پیٹ میں جانے کا خدشہ رہتا ہے جناب لقیط بن صبرۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا “.( رواہ ابوداؤد)ناک میں پانی ڈالتے وقت مبالغہ کرو الا یہ کہ تم روزے سے ہو۔
اسی طرح غرغرہ کے ذریعہ علاج کرنا بھی ہے یہ بھی کلی میں مبالغہ کرنے کے حکم میں داخل ہے، اگر روزے دار کو دن میں اس کی ضرورت پڑجائے تو اس کے لیے جائز ہے لیکن پیٹ میں کوئی چیز داخل ہونے سے بچاؤ اور احتیاط ضروری ہے اگر بغیر اختیار کے کچھ داخل ہو جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا اور اگر رات تک غرغرہ کو مؤخر کردیا جائے تو یہ افضل ہے۔
نمبر دو:شہوت والے شخص کے لیے بوس و کنار کرنا. ایسا شخص اپنے آپ پر مامون نہ ہو چنانچہ روزے دار کے لیے مکروہ اور ناپسندیدہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو بوسہ دے کیونکہ یہ چیز شہوت ابھرنے تک پہنچاتی ہے جس سے روزے کا فساد لازم آتا ہے چاہے وہ انزال منی کے ذریعہ ہو یا پھر ہم بستری کے ذریعہ اگر انسان کو روزے میں خرابی کا خوف نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کو بوسہ دیا کرتے تھے اس حال میں کہ وہ روزے سے ہوتے تھے۔ ام المومنین جناب عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ پر اپنی حاجت پر سب سے زیادہ قدرت رکھنے والے تھے۔
جس شخص کو حرام کام میں پڑنے کا اندیشہ ہو تو اس پر ہر ایسی چیز سے بچنا ضروری ہے جس سے اس کی شہوت بھڑکے یا شہوت متحرک ہو مثلا بیوی کو مسلسل دیکھنا یا ہمبستری کے بارے میں سوچتے رہنا کیونکہ اس سے خروج منی یا ہم بستری کا اندیشہ ہے۔
نمبر تین: بلا ضرورت کھانا چکھنا: اگر آدمی کو اس کی ضرورت ہو مثلا وہ باورچی ہو تو نمک وغیرہ چکھنے کا وہ محتاج ہوتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن احتیاط رہے کہ ان میں سے کوئی بھی چیز اس کے حلق تک پہنچ سکے اور چاہیے کہ چکھنے کے بعد اس کو تھوک دے
روزے دار اور وغیرہ پر بلغم وغیرہ کا نگلنا حرام ہے جب اس کے منہ تک پہنچ جائے کیونکہ اس میں گندگی ہوتی ہے اور اس سے ضرر کا اندیشہ ہے ۔
روزے دار کے لیے مسواک استعمال کرنے میں کوئی کراہت نہیں ہے بلکہ یہ زوال سے پہلے اور زوال کے بعد دونوں ہی وقت مستحب ہے ان عمومی دلائل پر عمل کرتے ہوئے جو اس کے استحباب میں وارد ہوئی ہیں
اللہ کے بندو! اللہ تعالی تمہاری حفاظت فرمائے ایسے اعمال کے انجام دینے میں اور اس کی طرف جلدی کرنے میں حریص بنو جو روزے میں مستحب ہوتی ہیں اور ایسی چیزوں کے چھوڑنے میں حریص بنو جو روزے میں مکروہ ہوتی ہیں تاکہ اللہ تعالی کے پاس تمہارا اجر بڑھ جائے اور تاکہ تم اللہ تعالی کی محبت حاصل کر سکو حدیث قدسی میں آتا ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، رواہ البخاری میرا بندہ نوافل کے ذریعہ مجھ سے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں
اللہ رب العالمین ہمیں ان لوگوں میں شامل کرلے جو اس کی محبتوں کے مستحق ہیں۔ آمین