درس (15)
قسط (٢)
ترجماني/ پرویز یعقوب مدنی
خادم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال

الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ أما بعد:
محترم قارئين باتمكين! دو قسم کے اموال میں زکوۃ کے احکام بیان کیے جا چکے یعنی سونا و چاندی اور سامان تجارت کے احکام گزشتہ درس میں بیان ہو چکے ہیں اس درس میں ان شاءاللہ ان باقی اموال کا تذکرہ ہوگا جن میں زکوۃ واجب ہے اور وہ درج ذیل ہیں:
نمبر تین: غلہ جات اور پھل: ان میں بھی زکوۃ واجب ہوتی ہے، جس کی اصل قران مجید کی اس آیت سے ماخوذ ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ} [البقرة : 267]
مومنو! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہو اور جو چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سےنکالتے ہیں ان میں سے (راہ الٰہی میں) خرچ کرو۔
غلہ جات میں زکوۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب دانہ پختہ ہو جائے اور پھلوں میں زکوۃ واجب ہوتی ہے جب وہ قابل استعمال اور کھانے کے لائق ہو جائے۔ غلہ جات اور پھلوں میں وجوب زکوۃ کے لیے حولان حول یعنی سال کا پورا ہونا شرط نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ} [الأنعام : 141]
اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو اللہ کا حق بھی اس میں سے ادا کرو۔
زکوۃ ہر ایسے غلے میں واجب ہے جس کو ناپا جا سکے اور ذخیرہ کیا جا سکے چنانچہ ہر قسم کے غلہ میں زکوۃ واجب ہے خواہ وہ خوراک کے طور پر استعمال ہو یا خوراک کے طور پر استعمال نہ کیاجاتا ہو جیسے گیہوں، جو، مکئی، چاول، دھنیا اور تخم سپنداں وغیرہ کیونکہ زرعی پیداوار کے سلسلے میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی روایت عام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ، أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرُ، وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ”ـ (رواہ البخاری) وہ غلہ جسے آسمان کی بارش یا چشمے نے سیراب کیا ہو یا پھر زمین کی نمی سے سیراب ہوگیا ہو تو اس میں عشر (یعنی دسواں حصہ) ہے اور جس کو رہٹ سے کھینچ کر کے سیراب کیا گیا ہو اس میں نصف عشر (یعنی بیسواں حصہ) زکوۃ واجب ہے۔
ہر ایسے پھل میں زکوۃ واجب ہے جس کو ناپا جائے یا ذخیرہ کیا جا سکے جیسے کہ کھجور اور کشمش وغیرہ ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ”ـ (متفق علیہ) پانچ وسق سے کم غلہ میں زکوۃ فرض نہیں ہے۔ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ وجوب زکوۃ کے لیے ناپنے کا اعتبار ہوگا اور جس کو ذخیرہ کرنا ممکن نہ ہو وہ نعمت تامہ نہیں ہوا کرتی کیونکہ انجام کے طور پر اس سے نفع اٹھایا جانا ممکن نہیں ہے۔
اس بنا پر ایسی کسی چیز میں زکوۃ واجب نہیں ہے جس کو نہ تو ناپا جاسکے یا جسے ذخیرہ نہ کیا جا سکے جیسے کہ میوے اور سبزیاں وغیرہ
غلے اور پھلوں میں زکوۃ واجب ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں: پہلی شرط نصاب تک پہنچنا اور اس کی حتمی مقدار غلہ جات میں دانوں کو صاف کرنے کے بعد اور پھلوں میں چھلکے کو خشک کرنے کے بعد پانچ وسق ہے۔
ایک وسق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاع کے مطابق 60 صاع ہوتا ہے اس طرح یہ پانچ وسق 300 صاع ہوں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع یعنی صاع نبوی عام اور معتدل ہاتھوں سے دونوں ہاتھ بھر بھر کے چار لپ ہوتے ہیں اور ایک صاع کلو کے لحاظ سے تقریبا تین کلو گرام ہوتا ہے۔
دوسری شرط ہے کہ وجوب زکوٰۃ کے وقت نصاب کا انسان مالک ہو۔
زرعی پیداوار اور پھلوں میں واجب مقدار زکوۃ جو پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے یہ ہے کہ جس غلہ کو بغیر محنت کے سیراب کیا گیا ہو اس میں دسواں حصہ عشر واجب ہوتا ہے اس طرح سے کہ ندی، نہر یا کنویں کے بغل میں ہو اور اس سے نمی حاصل کرکے خود بخود سیراب ہوجائے یا آسمان سے بارش ہوئی ہو یا کوئی چشمہ ہو جس میں انسان کو محنت نہیں پڑتی ان سب صورتوں میں عشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے
اگر کوئی ایسا غلہ یا زرعی پیداوار ہے جس کو محنت کے ساتھ سیراب کیا گیا ہو اس میں 10 کی جگہ پر بیسواں حصہ واجب ہے۔ مثلا اسے رہٹ وغیرہ سے کھینچ کر سیراب کیا گیا ہو یا سینچائی کے جدید ذرائع و آلات مثلاً بورنگ وغیرہ کے ذریعہ سیراب کیا گیا ہو ان سب صورتوں میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب ہے۔
اور جسے دونوں طرح یعنی محنت کے ساتھ اور بغیر محنت کے بھی برابر برابر سینچا گیا ہو اس میں عشر کا تین اعشاریہ چار واجب ہوتا ہے۔ اور اگر دونوں میں کمی بیشی اور تفاوت ہو تو جس کا زیادہ استعمال کیا گیا ہے اسی کا اعتبار ہوگا۔
نمبر چار: بھیمۃ الأنعام
یعنی چوپائے اور چوپایہ سے مراد اونٹ، گائے بیل اور بکری ہیں ان میں بھینسیں بھی شامل ہیں کیونکہ انہیں گائے کی جنس میں شمار کیا جاتا ہے۔ اور غنم یعنی بکری میں دنبہ، بھیڑ اور مینڈھا وغیرہ سب شامل ہیں۔
بہیمۃ الأنعام میں زکوۃ واجب ہونے کی دلیل صحابي رسول جناب ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ، وَلَا بَقَرٍ، وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ، وَأَسْمَنَهُ تَنْطِحُهُ بِقُرُونِهَا، وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا ، كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا، عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ”ـ جو بھی شخص اونٹوں گایوں یا بکریوں کا مالک ہے اور اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتا ہے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے جانور اس سے زیادہ بڑے اور موٹے ہوں گے جتنا کہ دنیا میں تھے اور یہ جانور اس کو اپنی سینگوں سے ماریں گے اور انہیں کھروں سے روندیں گے اور جب ان چوپایوں کا آخری حصہ ختم ہو جائے گا تو پہلا حصہ پھر سے لوٹ کر آئے گا پھر یہی کام کرے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے۔
بھیمۃ الأنعام میں وجوب زکوۃ کے چند خاص شرائط ہیں ان شرائط کے علاوہ جو پہلے بیان کئے جاچکے ہیں اور وہ درج ذیل ہیں:
پہلی شرط یہ چوپائے شرعی نصاب تک پہنچ جائیں اور یہ شرعی نصاب اونٹوں میں پانچ اونٹ، گایوں میں تیس گائیں اور بکریوں میں چالیس بکریاں ہیں جس کے پاس نصاب سے کم جانور (یعنی چار اونٹ یا 29 گائیں ہوں یا 39 بکریاں) ہوں تو ان پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی۔ دوسری شرط یہ ہے کہ جانور پورے سال یا سال کے اکثر حصے میں چرنے والے ہوں۔ اگر وہ چرنے والے نہیں ہیں یعنی پورے سال انہیں چارہ دیا جاتا ہے تو ان میں زکوۃ واجب نہیں ہوگی اسی طرح سے اگر آدھے سال یا اس سے زیادہ چارہ دیا جاتا ہے تو پھر زکوۃ واجب نہیں ہوگی۔ سوائے اس کے کہ جانوروں کا مالک ان جانوروں میں تجارت کی نیت کرلے اگر تجارت کی نیت کرتا ہے تو اس میں سامان تجارت کے احکام نافذ ہوں گے اور زکوۃ واجب ہوگی۔
تیسری شرط یہ ہے کہ یہ جانور دودھ کے لیے یا افزائش نسل کے لیے رکھے گئے ہوں کام کے لیے نہ ہوں اگر جانور کا مالک انہیں زمین کی جوتائی میں، سامان ڈھونے میں یا کسی اور کام میں استعمال کرتا ہے تو ان پہ زکوۃ واجب نہیں ہے۔ علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گایوں کی زکوٰۃ کے بارے میں فرمایا: وَلَيْسَ عَلَى الْعَوَامِلِ شَيْءٌـ (رواہ ابوداؤد) کہ کام کرنے والے جانوروں پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ البتہ اگر ان جانوروں کو اجرت کے لیے رکھا گیا ہے تو زکوۃ اس اجرت پر واجب ہوگی جو ان سے حاصل ہوتی ہے اور وہ بھی جب اس پہ ایک سال گزر جائے۔
جانوروں میں واجب مقدار زکوۃ کی تفصیل اس طرح ہے:
پانچ اونٹوں میں ایک بکری چھ ماہ کا ایک بھیڑ یا ایک دانتا بکری، 10 اونٹوں میں دو بکریاں 15 اونٹوں میں تین بکریاں 20 اونٹوں میں چار بکریاں 25 سے 35 اونٹوں میں ایک بنت مخاض بنت مخاض اس اونٹنی کو کہتے ہیں جس کا ایک سال پورا ہو گیا ہو اور دوسرا سال لگ گیا ہو۔ اگر ایک سال کی اونٹنی نہ ملے تو ابن لبون مذکر یعنی دو سال کا اونٹ دینا ہوگا۔ 36 اونٹوں سے لے کر 45 اونٹوں تک ایک بنت لبون یعنی دو سال کی اونٹنی 46 اونٹوں سے لے کر 60 اونٹوں تک ایک حقہ یعنی تین سال کی ایک اونٹنی اور 61 اونٹوں سے لے کر کے 75 اونٹوں تک ایک جذعۃ یعنی چار سالہ اونٹنی جس کا پانچواں سال شروع ہوگیا ہو اور 76 اونٹوں سے لے کر 90 اونٹوں تک دو بنت لبون اور 91 اونٹوں سے لے کر 120 اونٹوں تک دو حقہ اور اگر 120 سے بھی اونٹ زیادہ ہو جاتے ہیں تو ہر 40 میں ایک بنت لبون اور ہر 50 میں ایک جذعۃ دینا ہوگا۔
گایوں کی زکوۃ کچھ اس طرح سے ہوگی کہ زکوۃ 30 گاؤں پر واجب ہوتی ہے 30 سے 39 گاؤں تک ایک سال کا بچھڑا یا بچھیا جس کا دوسرا سال شروع ہو گیا ہو اور 40/ گایوں سے لے کر 59/گایوں تک ایک دانتا گائے جس کا دو سال مکمل ہو گیا پھر ہر 30/میں ایک بچھڑا یا بچھیا ہے اور ہر 40/میں ایک مثنہ ہے جتنی بھی گنتی پہنچ جائے مثنہ مطلب جس کے دانت نکل آئے ہوں۔
بکریوں کی زکوۃ کچھ اس طرح ہوگی کہ 40/بکریوں سے لے کر 120/ بکریوں تک قربانی کے لائق ایک بکری واجب ہوتی ہے اور 121/ بکریوں سے 200/ بکریوں تک دو بکریاں اور 201/ بکریوں سے لے کر 399/تک تین بکریاں پھر یہی مقدار جاری رہے گی ہر سو میں ایک بکری یعنی چار سو بکریوں میں چار بکریاں پانچ سو بکریوں میں پانچ بکریاں۔
مختصر یہ کہ اموال کے انھیں اصناف میں زکوۃ واجب ہوتی ہے اور یہ اصناف ہیں: سونا چاندی سامان تجارت غلہ جات پھل اور چوپائے جس شخص کے پاس ان میں سے کوئی بھی چیز ہو جن پر زکوۃ واجب ہوتی ہو تو جلد سے جلد واجب ہوتے وقت ہی زکوۃ نکالنے کی کوشش کرے بخوشی اور رضامندی کے ساتھ اور اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالی اس سے یہ زکوۃ قبول کر لے اور اس کا بدلہ اس کو بعد میں دے اور زکوۃ کے بعد جو مال باقی بچ جائے اس میں اللہ تعالی اس کو برکت دے۔ وصلی اللہ علیہ وسلم علی نبینا محمد وعلی الہ وصحبہ اجمعین