درس (14)
قسط (1)
ترجماني / پرویز یعقوب مدنی
خادم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال

الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ أما بعد!
محترم قارئین ! زکوۃ چار قسم کے مال میں واجب ہوتی ہے اور وہ درج ذیل ہیں
نمبر ایک: سونا اور چاندی
سونا اور چاندی میں زکوۃ واجب ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: {وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ۖ هَٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ} [التوبة : 35]
اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے۔ ان کو اس دن عذاب الیم کی خبر سنادو جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیا جائے گا۔ پھر اس سے ان (بخیلوں) کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا) کہ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو.
آیت کریمہ میں “لا ینفقون” کا معنی ہے اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتے ہیں.
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ، وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا ؛ إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ، فَأُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ، وَجَبِينُهُ، وَظَهْرُهُ، كُلَّمَا بَرَدَتْ أُعِيدَتْ لَهُ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ”ـ (رواہ مسلم) جو بھی سونے چاندی والا آدمی اس کا حق ادا نہیں کرتا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کے لیے آگ کی پلیٹیں تیار کی جائیں گی انہیں جہنم کی آگ پر دہکایا جائے گا اور انہیں دہکے ہوئے پلیٹوں سے اس کا پہلو اس کی پیشانی اور اس کی پیٹھ داغی جائے گی جب جب وہ پلیٹیں ٹھنڈی ہو جائیں گی ان کو دوبارہ اسی عذاب سے گزارا جائے گا ایسے دن میں جس کی مقدار 50 ہزار سال ہے یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔
ہمارے زمانے میں رائج کاغذی نوٹ اور کرنسیاں سونے اور چاندی کے حکم میں داخل ہیں۔
سونے کا نصاب 20/مثقال ہے جو جدید پیمانے کے مطابق 91/ گرام اور تین اعشاریہ سات گرام کے برابر ہوتا ہے
چاندی کا نصاب چاندی کے 200/ درہم ہیں اور یہ 595/ گرام کے مساوی ہوتے ہیں۔
علماء کا اجماع ہے کہ چاندی کا نصاب 200/ درہم اور سونے کا نصاب 20/مثقال ہے۔
سونے چاندی اور کاغذی نوٹ میں واجب زکوۃ کی مقدار ڈھائی فیصد ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: “وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشْرِ”ـ (رواہ البخاری) چاندی میں ایک عشر کا چوتھائی حصہ واجب ہے اسی طرح عبداللہ بن عمر اور عائشہ رضی اللہ تعالی عنہم کا بیان ہے:”أنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْخُذُ مِنْ كُلِّ عِشْرِينَ دِينَارًا فَصَاعِدًا نِصْفَ دِينَارٍ، وَمِنَ الْأَرْبَعِينَ دِينَارًا دِينَارًا”ـ (رواہ ابن ماجۃ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر 20/دینار یا اس سے زائد دینار میں سے آدھا دینار لیا کرتے تھے اور 40/دینار میں سے ایک دینار لیا کرتے تھے۔
نمبر دو : سامان تجارت:
اسے عروض تجارت بھی کہا جاتا ہے عروض یہ عرض کی جمع ہے اور یہ ہر وہ مال ہے جسے نفع کی غرض سے خرید و فروخت کے لیے تیار کیا جائے خواہ سامان یا اشیاء کی کوئی بھی قسم اور صنف ہو مثلا: زمین جانور گاڑیاں اور کپڑے وغیرہ ان سب میں زکوۃ واجب ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ} [البقرة : 267]
مومنو! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہوں اور جو چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سےنکالتے ہیں ان میں سے (راہ الٰہی میں) خرچ کرو۔
اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ اس آیت سے مراد سامان تجارت کی زکوۃ ہے اور سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں:” إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الَّذِي نُعِدُّ لِلْبَيْعِ”ـ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم ان اشیاء میں سے زکوۃ نکالیں جنہیں ہم بیچنے کے لیے تیار رکھتے تھے۔
صحابہ کرام کی ایک جماعت کا یہی قول اور فتوی ہے مثلا عبداللہ بن عمر عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہم وغیرہ صحابہ کرام میں سے ان کا کوئی دوسرا مخالف نہیں ملتا۔
سامان تجارت میں زکوۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب اس کی قیمت نصاب تک پہنچ جائے اور یہ نفع کمانے کی غرض اور تجارت کی نیت سے ہو خواہ اپنی محنت و عمل سے اس سامان کا مالک بنا ہو مثلاً اس کو خرید لیا ہو یا ہبہ کے طور پر قبول کیا ہو یا پھر اپنے فعل و اپنی محنت سے اس کا مالک نہ ہوا ہو جیسے کہ وراثت وغیرہ۔ جب انسان غیر تجارتی مقصد کے تحت سامان خریدے پھر اس کے بعد اس میں تجارت کی نیت کر لے تو سال کی ابتداء نیت کے وقت سے مانی جائے گی۔
اگر سامان تجارت پر ایک سال گزر جائے تو فقراء کے فوائد و مصالح کا اعتبار کرتے ہوئے سونے یا چاندی کے نصاب کے مطابق زکوۃ نکالی جائے گی اور فقراء کی مصلحت یہی ہے کہ چاندی کے نصاب کا اعتبار کیا جائے۔ چنانچہ جب سامان تجارت چاندی کے نصاب تک پہنچ جائے تو اس میں ڈھائی فیصد زکوۃ واجب ہوگی اور سامان تجارت کی مالیت کا اندازہ لگاتے وقت اس لاگت کا اعتبار نہیں ہوگا جس سے یہ سامان خریدا گیا تھا کیونکہ اشیاء کی قیمت گھٹتی بڑھتی ہے بلکہ سامان تجارت کی مالیت کا اندازہ لگانے میں سال مکمل ہونے کے وقت کی قیمت کا اعتبار ہوگا۔
اگر انسان کی ملکیت میں کسی قسم کی غیر منقولہ جائیدادیں ہیں مثلا زمین، فلیٹ، بلڈنگ اور گھر وغیرہ اور یہ اشیاء تجارت کی غرض اور منافع کمانے کی نیت سے ہوں تو ان پر بھی سامان تجارت کا حکم لاگو ہوگا اور ان جائیدادوں پر بھی زکوۃ واجب ہوگی چنانچہ صاحب جائیداد سال گزرنے پر ان میں ہر سال زکوۃ نکالے گا اور زکوٰۃ نکالنے کے لئے سال پورا ہونے پر ان کی قیمت کا  اعتبار کرے گا خواہ ان اشیاء کی قیمت خریدے جانے کے وقت سے کم ہو یا زیادہ ہو۔
اگر غیر منقولہ جائداد زمین کی شکل میں ہو اور وہاں گھر بنانا مقصود ہو خواہ اس میں رہائش کی نیت ہو یا پھر کرایہ پر دینے کا ارادہ ہو تو ایسی زمین پہ زکوۃ واجب نہیں ہے کیونکہ یہ تجارت کے مقصد سے نہیں خریدی گئی ہے۔
اگر زمین کا مالک رہائش یا تجارت دونوں میں فیصلہ نہ کرسکے اور تجارت یا رہائش میں متردد ہو تو اس میں زکوۃ واجب نہیں ہوگی کیونکہ اس نے تجارت کی پختہ نیت نہیں کی ہے۔
جو شخص کسی ایسی غیر منقولہ جائیداد کا مالک ہو جس کو اس نے کرایہ پر اٹھا رکھا ہے تو اس کی قیمت یا مالیت پر زکوۃ نہیں ہے کیونکہ وہ سامان تجارت میں سے نہیں ہے البتہ اس سے حاصل شدہ اجرت اور کرائے پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ بشرطیکہ وہ حاصل شدہ اجرت نصاب کو پہنچنے کے بعد اس کے پاس باقی رہ جائے اور اس پر ایک سال گزر جائے۔ وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ أجمعین