
صلاح الدین لیث مدنى
مرکز الصفا الاسلامی نیپال
رمضان المبارک کا مبارک سفر تیزی سے اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے اس کے آخری دس دن ہمارے سامنے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے بے پناہ خیر و برکت رکھی ہے یہی وہ لمحات ہیں جن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادات مزید بڑھ جایا کرتی تھیں اور جن میں شب بیداری، دعائیں اور توبہ و استغفار کی کثرت کی جاتی ہے اور یہی وہ مبارک دن ہیں جن میں اعتکاف کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں دنیاوی معاملات سے کٹ کر مسجد میں قیام فرماتے، مکمل انہماک کے ساتھ عبادت میں مصروف ہو جاتے اور اپنی امت کو بھی اس کا درس دیا جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: “کَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهُ وَأَحْيَا لَيْلَهُ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ” (بخاری) یعنی جب آخری عشرہ داخل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کے لیے کمربستہ ہو جاتے، راتوں کو بیدار رہتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے۔
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَجْتَهِدُ في الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، مَا لا يَحْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ. (رواه مسلم)
(صحیح مسلم کتاب الاعتكاف، باب الاجتهاد في العشر الأواخر من شهر رمضان.)
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں جتنی مشقت (عبادت میں) برداشت کرتے تھے اتنی غیر رمضان میں نہیں کرتے تھے اور رمضان کے آخری عشرے میں جتنی محنت و مشقت کرتے تھے، اتنی پہلے دونوں عشروں میں نہیں کرتے تھے۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ ليلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ، فَلَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَجْوَدُ بِالْخَيرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلة (متفق عليه).
(صحیح بخاری کتاب بدء الوحی، باب، صحیح مسلم کتاب الفضائل، باب جودهﷺ)
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سب سے زیادہ بھی تھے اور رمضان میں جب آپ کو جبریل علیہ السلام آ کر ملتے تو آپ سب سے زیادہ سخاوت کرنے والے ہو جاتے اور جبریل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپ سے ملتے تھے اور آپ سے قرآن کا دور کرتے تھے، جب جبریل علیہ السلام آپ سے ملتے تو آپ بھلائی میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔
یہی وہ راتیں ہیں جن میں لیلۃ القدر جیسی عظیم الشان رات چھپی ہوئی ہے وہ رات جس کے بارے میں قرآن فرماتا ہے: “لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ” (القدر: 3) یعنی وہ ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یہ رحمتوں کی رات، فیصلوں کی رات اور مغفرت کی رات ہے جس میں بندہ اگر اخلاص کے ساتھ دعا کرے تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ” (بخاری) یعنی جو شخص ایمان و احتساب کے ساتھ شب قدر میں قیام کرتا ہے اس کے تمام سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ مگر افسوس کہ بہت سے لوگ ان مبارک دنوں میں بھی غفلت میں پڑے رہتے ہیں، روزہ صرف بھوکے پیاسے رہنے کا نام سمجھتے ہیں، راتوں کو آرام کرتے ہیں اور اس حقیقت سے بے خبر رہتے ہیں کہ شاید یہ ان کی زندگی کا آخری رمضان ہو۔
میرے بھائیو!! جو لمحہ گزر گیا وہ واپس نہیں آتا، جو رات ہاتھ سے نکل گئی وہ دوبارہ نصیب نہیں ہوتی اس لیے ضروری ہے کہ ان آخری دنوں کو غنیمت سمجھیں، اپنے دل کو اللہ کی یاد سے منور کریں، راتوں کو جاگ کر گڑگڑائیں، قرآن کی تلاوت کریں، دعا میں مشغول رہیں اور اللہ سے یہ مانگیں کہ ہمیں اس رمضان کی برکتوں سے مالا مال کر دے، ہمیں اپنی مغفرت میں شامل کر لے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کر لے جنہیں جہنم سے آزادی کا پروانہ ملتا ہے کیوں کہ جو شخص رمضان کے آخری عشرے میں بھی اپنی مغفرت نہ کرا سکے اس سے بڑھ کر محروم اور بدنصیب کون ہوگا؟
آج کے اس دور میں اکثر دیکھا جاتاہے کہ لیلۃ القدر کو رب سے قربت کم کھانے پینے اور نظم خوانی اور تقریر بازی کے لئے جاگاجاتاہے جو شرعاً درست نہیں ہے، ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ایسے کام کو انجام نہ دیں جس سے عبادت اور رات جاگنے میں مقصد مفقودہو،قران مجید کی تلاوت اور زیادہ زیادہ عبادت کرنی چاہئے اور رب کے حضور معافی طلب کرنی چاہئے کیونکہ رب کائنات نے فرمایا کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اسکا اجر دونگا کیونکہ انسان حقیقی معنوں میں رب سے ڈرتا اور ظاہرا باطنا خوف کھاتاہے تبھی تو وہ صبح صادق سے وقت افطار تک رضاء الہی کےلئے بھوکا رہتاہے۔
اس لئے اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ الہ العالمین تو ہماری مغفرت فرما اور ہمیں عمل صالح کی توفیق عطا فرما آمین