بسم اللہ الرحمن الرحیم

درس نمبر 20


الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی النبی محمد وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین أما بعد

اللہ رب العالمین نے اوقات کے درمیان تفاضل رکھا ہے چنانچہ اوقات میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور ان اوقات میں اپنے بندوں کے لئے خصوصی پرکشش بنایا ہے انہیں اوقات میں سے ایک وقت رمضان کا آخری عشرہ ہے۔ چنانچہ اس میں بہت ساری فضیلتیں اور بہت ساری برکتیں ہیں اور انہیں ایام میں سے ایک رات لیلۃ القدر ہے جسے اللہ رب العالمین نے دوسری راتوں پر شرف اور فضیلت سے نوازا ہے اور اس امت پر اس کی زیادہ سے زیادہ فضیلت بڑھا کر احسان کیا ہے اللہ رب العالمین نے اپنی کتاب مبین میں فرمایا ہے: {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ  أَمْرًا مِنْ عِنْدِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ} (الدخان: ٣-٦)
بیشک ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل فرمایا ہم تو رستہ دکھانے والے ہیں اسی رات میں تمام حکمت کے کام فیصل کئے جاتے ہیں (یعنی) ہمارے ہاں سے حکم ہو کر۔ بےشک ہم ہی (پیغمبر کو) بھیجتے ہیں (یہ) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے۔ وہ تو سننے والا جاننے والا ہے۔
اللہ رب العالمین نے بتلایا کہ اس نے قرآن مجید کو اپنے نبی محمّد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مبارک رات میں اتارا ہے اور وہ مبارک رات لیلۃ القدر ہے جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: {إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ} [القدر : 1] ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا
اور یہ رات ماہ رمضان میں ہے جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
شهر رمضان الذي أنزل فيه القرآن (البقرة: 182) رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل کیا گیا۔
اسی طرح اللہ تعالی کے مذکورہ بالا فرمان فیها يفرق كل أمر حكيم سے مراد لیلۃ القدر ہے یعنی لیلۃ القدر میں لوح محفوظ سے کرام کاتبین کو سال بھر کے احکام الگ لکھ کر کے دیے جاتے ہیں اور اس میں عمر اور روزی بھی ہوتی ہے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ} (سورة القدر)
ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے اس میں روح (الامین) اور فرشتے ہر کام کے (انتظام کے) لیے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں یہ (رات) طلوع صبح تک (امان اور) سلامتی ہے۔
لیلۃ القدر کو شب قدر اللہ تعالی کے نزدیک اس کے مقام و مرتبے اور قدر و منزلت کی بنا پر کہا جاتا ہے اور اس بنا پر بھی کہ اس میں سال بھر کی روزی، عمر اور تقدیر کے دیگر امور مقدر کیے جاتے ہیں۔ اگلی آیت میں اللہ رب العالمین نے اس کی شان کو بہت بڑھایا اور اس کی قدر و منزلت بہت زیادہ کر دی چنانچہ فرمایا: و ما أدراك ما ليلة القدر یعنی اس کی اہمیت ہی بڑی ہے اس کی فضلیت عظیم الشان ہے
ليلة القدر خير من ألف شهر: اللہ تعالی کے اس فرمان کا معنی ہوتا ہے کہ اس کی فضیلت ایک ہزار مہینوں کے برابر ہے چنانچہ وہ عمل جو شب قدر میں ہو وہ ہزار مہینوں کے اس عمل سے بہتر اور افضل ہے جو شب قدر سے خالی ہے یعنی اللہ رب العالمین نے اس امت پر احسان کیا اور ایک ایسی رات عطا کی جس میں عمل کرنا ایک ہزار مہینوں کے عمل کے مقابل میں ہوتا ہے یا اس سے زائد ہی ہوتا ہے یعنی تقریباً ایک معمر آدمی کی عمر کے برابر جو 83 سال سے زیادہ جیتا ہو۔
تنزل الملئكة و الروح فيها:
اللہ تعالی کے اس فرمان کا معنی ہے کہ اس میں فرشتوں کا نزول زیادہ ہوتا ہے۔
روح سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں اور من کل امر سے مراد ہر وہ حکم ہے جس کا اللہ تعالی انہیں فرمان جاری کرتا ہے۔ سلام کا مطلب ہوتا ہے کہ ہر آفت اور ہر شر سے حفاظت ہوتی ہے اور یہ اس بنا پر کہ اس شب میں خیر کی کثرت ہوتی ہے۔
حتی مطلع الفجر کا معنی ہے کہ شب قدر کی ابتدا غروب شمس سے ہوتی ہے اور انتہا طلوع فجر پر ہوتی ہے۔
تو ذرا دیکھیں اس رات کی کتنی بڑی فضیلت ہے یعنی اس میں عبادت کرنا 83 سال عبادت کرنے سے بھی افضل ہے، چنانچہ تمام کے تمام عشرے میں اس رات کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے، اس کی راتوں میں قیام کرنا چاہیے اور مختلف اعمال کے ذریعے اس کے خیر و برکات کی تلاش میں لگنا چاہئے، فرض نمازوں کی پابندی سے، کثرت قیام سے، کثرت صدقات و زکوۃ سے، اللہ کی راہ میں بہ کثرت خرچ کرنے سے، روزوں کی محافظت سے، کثرت اطاعت سے، معاصی سے بچ کرکے، برائیوں سے پرہیز کرکے، آپسی دشمنی اور کینہ کپٹ سے دور ہو کرکے ہمیں اس کی برکتوں اور خیر کو تلاش کرنا چاہئے کیونکہ یہ کینہ اور بغض شب قدر کی بھلائی سے محرومی کا سبب ہو سکتا ہے۔
شب قدر کی ایک عظیم فضیلت یہ بھی ہے کہ جو شخص شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کرے گا تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ رواہ البخاری
جو شخص شب قدر میں قیام کرے ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے تو اس کے تمام گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنا اور آپ کے صحابہ شب قدر کی تلاش میں لگے رہتے تھے۔ شب قدر کی تلاش، اس میں قیام اور اس میں محنت کے حریص تھے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ وَيَقُولُ : ” تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ “.متفق علیہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ رمضان کے آخری عشرے میں شب قدر کو تلاش کرو۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا:
تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ  رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر تلاش کرو۔
اس آخری عشرے میں عبادت کا حرص اور شب قدر پانے کی لالچ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری عشرے میں مسجد میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور صرف ضروری کاموں کے لیے ہی مسجد سے نکلتے تھے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں:
إِنْ كُنْتُ لَأَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ، وَالْمَرِيضُ فِيهِ، فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ إِلَّا وَأَنَا مَارَّةٌ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا. متفق علیہ میں گھر میں کسی ضرورت کے لیے داخل ہوتی ہوں اور اس میں کوئی مریض ہوتا ہے تو میں اس کے بارے میں نہیں پوچھتی ہوں الا کہ میں گزر رہی ہوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میرے پاس داخل کیا کرتے تھے حالانکہ آپ مسجد ہی میں رہتے تو میں بالوں میں کنگھی کر دیا کرتی تھی اور آپ جب اعتکاف میں ہوتے تو گھر میں صرف ضرورت کے لیے داخل ہوتے۔
اللہ سبحانہ و تعالی نے بندوں پر رحم کرتے ہوئے شب قدر کا حتمی علم بندوں سے مخفی رکھا تاکہ ان فضیلت والی راتوں میں شب قدر طلب کرنے کے لیے بندے زیادہ سے زیادہ عمل کریں نمازوں کے ذریعے یا پھر اذکار اور دعاؤں کے ذریعے، چنانچہ زیادہ عمل کے نتیجے میں اللہ تعالی کی جانب سے زیادہ ثواب کے مستحق ہوں اور اللہ تعالی سے زیادہ سے زیادہ قریب ہوں۔
اس کا علم چھپانے کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ یہ واضح ہو جائے کون اس کی طلب میں سنجیدہ ہے کون اس کا حریص ہے اور کون اس میں سست اور غفلت برتنے والا ہے کیونکہ جو کسی چیز کا حریص ہوگا اس کی طلب میں محنت کرے گا اور اس کے نزدیک مقصد تک پہنچنے میں تھکاوٹ معمولی محسوس ہوگی۔
وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین