
نثاراحمد مدنی/شیخ الجامعہ ،جامعۃ التوحید ،بھیونڈی انسان خطاونسیان کا پتلا ہے ،جہالت ،سستی،شیطانی وسوسوں اور بشری تقاضوں کی بنیاد پر اس سے لغزشوں کا صدور ہونا ایک لازمی شی ہے چنانچہ اللہ رب العزت جو اپنے بندوں پر حددرجہ مہربان ہے وہ ان کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے پاک کرنے کے لئے توبہ واستغفار کا تاکیدی حکم صادر کرتاہے ،نفلی صوم وصلاۃ اور زکاۃ وحج کو فرائض اسلام کا جزو لاینفک قرار دیتا ہے تاکہ بندے رب کی گرفت سے بچ سکیں اور کوتاہیوں کی تلافی کا جتن ممکن ہوسکے علاوہ ازیں ہربندہ مسلم کے تزکیہ و تطہیر نیز فقراء ومساکین کی غمخواری وغمگساری کا بہترین وقابل رشک نظام “صدقۃ الفطر” کی پاسداری کو نافذ العمل قرار دیا ہے،ذیل کے سطور میں افادہ عامہ کی خاطر کتاب وسنت کی روشنی میں صدقہ فطر کے احکام ومسائل حوالہ قرطاس کئے جارہے ہیں۔ صدقہ فطر کا معنی ومفہوم: فرمان باری تعالی:قد أفلح من تزکی (الأعلى:14)یعنی “جس نے اپنے آپ کو پاک کیا وہ کامیاب ہوگیا”کی تفسیر میں امام سعید بن المسیب اور خلیفۂ راشد عمر بن عبدالعزیز رحمہمااللہفرماتے ہیں:کہ اس سے مراد زکاۃ الفطر ہے اور اس کی نسبت فطر کی طرف محض اس لئے ہےکہ چونکہ رمضان سے فراغت کےفورا بعد یہ واجب ہوجاتی ہے(المغنی لابن قدامہ 4/282)اور ابن قتیبہ فرماتے ہیں کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فطرت سے ہے جس کے معنی خلقت کے ہیں جس پر انسان کی پیدائش ہوئ ہے اور اس سے مقصود نفس اور بدن کا صدقہ ہے۔ (1/184)حافظ ابن حجر نے پہلے مفہوم کو راجح قرار دیا ہے (فتح الباری 3/463)۔ شیخ الحدیث عبیداللہ مبارکپوری صدقۃ الفطر کا اصطلاحی مفہوم بیان کرتے ہیں:”یہ وہ خوردنی شے ہے جسے ہر مسلمان صلاۃ عید سے قبل ماہ رمضان کے اختتام پراپنے صیام کو لغزشوں سے پاک کرنے اور مسکینوں کو کھلانے کیلیے ایک متعین مقدار میں نکالتا ہے۔”(مرعاۃ المفاتیح 6/185)۔ صدقہ فطر کا حکم:صدقہ فطر ہرمسلمان مردوعورت ،پیروجواں،بزرگ وبچہ،آزاد وغلام پر فرض ہے ۔جیساکہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:” فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر صاعا من تمر او صاعا من شعير على العبد , والحر , والذكر , والانثى , والصغير , والكبير من المسلمين، وامر بها ان تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة”.(صحیح البخاری:1503) ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطر کی زکوٰۃ (صدقہ فطر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض قرار دی تھی۔ غلام ‘ آزاد ‘ مرد ‘ عورت ‘ چھوٹے اور بڑے تمام مسلمانوں پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم یہ تھا کہ نماز (عید) کے لیے جانے سے پہلے یہ صدقہ ادا کر دیا جائے”۔۔ امام ابن المنذر لکھتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق تمام علماء کا صدقہ فطر کی فرضیت پر اجماع ہے(الاجماع ص 109)۔ اس میں صاحب نصاب ہونا ضروری نہیں ہے البتہ امام نووی نے نصوص شریعت کی روشنی میں اس کے وجوب کی تین شرائط ذکر کی ہیں 1-اسلام 2-آزادی3-استطاعت وگنجائش (المجموع ،6/49) البتہ غلام کا صدقہ اس کے مالک کے ذمہ ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ اگر گھر کا سرپرست تمام اہل خانہ کی جانب سے ان کی رضامندی ورغبت سے ادا کرتا ہے تو کفایت کرے گا گو ان میں کا کوئ فرد ازخود ادا کرسکتا ہو ،چنانچہ مشہور صحابی رسول عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ معمول تھا کہ وہ اپنے اہل خانہ حتی کہ اپنے غلام نافع اور اپنی اولاد کی طرف سے صدقہ فطر نکالتے تھے۔(صحیح بخاری:1511) صدقہ فطر کی حکمت: ایک مسلمان شریعت مطہرہ پر عمل پیرا ہونے کے لئےحکمتوں کی معرفت ضروری نہیں ہے البتہ ان کی آگاہی سے عمل میں شوق وذوق کے جذبات پروان چڑھتے ہیں ،ذیل میں اس کی چند حکمتیں پیش خدمت ہیں:۔ (1) اللہ اور اسکے رسول کے حکم کی تعمیل (2)لغو اور بیہودہ باتوں سے صائم کی پاکی (3)عین عید کے دن فقراء ومساکین کے ساتھ احسان اور ان کی دلجوئی وغمخواری ،اس سلسلہ میں فرمان نبوی ہے:فرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زکاۃ الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين( صحيح سنن أبي داود:1609)”صدقۃ الفطر لغو وبیہودہ باتوں سے صائم کی پاکی اور مساکین کی خوراک کاذریعہ ہے”۔ شیخ عبدالرحمن السعدی نے اس کی دومزید حکمتیں ذکر کی ہیں آپ فرماتے ہیں:۔ (4)صدقہ فطر انسان کے جسم وبدن کی زکوۃ ہے ،چونکہ سال بھر اللہ نے اسے زندہ اور باقی رکھا اب تکمیل پر ایک ماہ کےصوم رکھے اور اس کے بعد صدقہ فطر کی شکل میں اس کی زکوۃ نکالی جاے۔ (5) اللہ نے صائمین کو صوم کی نعمت سے سرفراز کیا ہے جس پر شکرانے کے طور پر صدقہ فطر ادا کیا جاتا ہے ۔(الإرشاد إلى معرفة الأحكام ص82_81). صدقۃ الفطر کن اجناس سے ادا کیا جائے گا:عہد نبوی ،عہد صحابہ اور عہد تابعین میں لوگ خوردنی اشیاء جنہیں وہ عام طور پر بطور خوراک استعمال کرتے تھے ،سے صدقہ فطر نکالتے تھے چنانچہ ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : “كنا نخرج زكاة الفطر صاعا من طعام، أو صاعا من شعير، أو صاعا من تمر، أو صاعا من أقط، أو صاعا من زبيب”.(صحیح بخاری:1506) “ہم صدقہ فطرایک صاع اناج یا گیہوں یا ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع زبیب ( خشک انگوریا انجیر ) نکالا کرتے تھے”۔ اور اسی حدیث کے بعض الفاظ میں ہے ۔”وكان طعامنا يومئذ الشعير والتمر والزبيب والأقط”(صحيح بخاري:1510) یعنی”ان دنوں ہماری خوراک جو،کھجور،کشمش اور پنیر ہوا کرتی تھی”۔ اسی طرح عبد اللہ بن عباس کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:”أدوا صاعا من طعام”. يعني “خوردنی اشیاء میں سے ایک صاع صدقہ فطر ادا کرو “(سنن بیہقی4/167وحسنه الألباني في الصحيحة:179)۔ یہ وہ اصناف خمسہ ہیں جنہیں عہد رسالت میں بطور خوراک استعمال کیا جاتا تھا ان میں بعض یا تو غلہ (دانہ) کی قبیل سے تھے جیسے گیہوں ،جو یا بعض پھل تھے جیسے کھجور ،کشمش۔یہی اس وقت اہل مدینہ کی عام خوراک تھی جسے وہ براہ راست تناول کرتے تھےچونکہ یہ سب بغیر چھلکےکےہوتے تھے یہی وجہ ہےکہ انہیں طعام کہاگیاہے،۔ اب اگر کسی جگہ کی عام خوراک چاول،باجرا اورمکئ وغیرہ ہے تو ان کے لئے جویا گندم ہی پر اکتفا کرنا لازم ہوگا اور چاول ،باجرا اور مکئ کافی نہ ہوگا ؟۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ:اس سلسلہ میں امام احمد کے دوقول ہیں:ایک تو حدیث میں وارد اشیاء پر اکتفا کرنے کا ہےاور دوسرا قول جو اکثر علماء کا مذہب ہے جیسے امام شافعی وغیرہ اور یہی سب سے صحیح رای ہے کہ جو جس کی خوراک ہو وہ اسی سے نکالے کیونکہ صدقات کی فرضیت کے سلسلے میں اصل یہ ہے کہ وہ فقراء کے لیے یکساں برابر ہو نیز حدیث میں جن اصناف کا تذکرہ ہے وہی اہل مدینہ کی خوراک تھی اور صدقہ فطر کفارات کے قبیل سے ہے کیونکہ وہ بدنی صدقہ ہے برخلاف مالی صدقات کے جن کا تعلق مال سے ہے۔اور آٹے کے سلسلے میں امام شافعی کے علاوہ امام ابوحنیفہ کی رائے جواز کی ہے۔ البتہ اسے وزن کے حساب سے نکالے گا کیونکہ آٹے کے مابین (ہلکے پن کی وجہ سے)خالی جگہ ہوتی ہے۔(مجموع فتاوی ابن تیمیۃ -25/68,69)۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دھان جو چھلکے کے ساتھ ہوتا ہے اسے صدقہ فطر میں دے سکتے ہیں ؟اس سلسلہ میں شیخ ابن باز رحمہ اللہ_ سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا:دھان بھوسی کے بغیر یعنی (چاول)میں ادا کیا جانا چاہیے لیکن بصورت مجبوری اگر بھوسی سمیت نکالنا پڑجاے تو اتنی مقدار میں نکالا جائے کہ صفائی کے بعد ڈھائ کلو ہوسکے(مجموع فتاوی ومقالات متنوعہ 14/206)۔ صدقہ فطر کی مقدار: مذکورہ بالا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ میں صدقہ فطر کی مقدار ایک صاع قرار دی گئ ہے جو صاع حجازی ہے جس کا وزن آج کل موجودہ میزان سے ڈھائی کلو گرام ہے ہے جو اصناف خمسہ یا اس کے قائم مقام آٹا ،جو وغیرہ اشیاء میں بھی ہے ،البتہ متعدد صحابہ کرام اور تابعین عظام مثلاً عثمان بن عفان ،علی بن ابی طالب ،ابوھریرہ،جابر،ابن عباس،ابن الزبیر اور اسماء بنت ابی بکر الصدیق- رضی اللہ عنہم- سے بسند صحیح یہ ثابت ہے کہ وہ گیہوں میں نصف صاع یعنی سوا کلو کے قائل تھے (انظر فتح الباری 3/471,مرعاۃ المفاتیح 6/197)۔ اور تابعین عظام میں عروہ بن زبیر ،سعید بن جبیر ،ابوسلمہ،مصعب بن سعد،سعید بن المسیب ،عطاء،طاؤس،مجاہد بن جبیر اور عمر بن عبدالعزیز -رحمہم اللہ-بھی اسی کے قائل رہےہیں (معرفۃ السنن والآثار للبیہقی 3/303)اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اسی کو اختیار کیا ہے (الاختیارات الفقھیۃ ص1)۔ شیخ الحدیث عبیداللہ مبارکپوری لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک گیہوں میں سے ایک صاع ادا کرنے میں زیادہ احتیاط ہے اگر کوئ شخص اس سلسلے میں مروی ضعیف احادیث اور آثار صحابہ کے پیش نظر آدھا صاع بھی ادا کرے تو ان شاءاللہ کافی ہوگا یہی رائے شوکانی اور عط اللہ بھوجیانی کی بھی ہے(انظر،مرعاۃ المفاتیح 6/199،نیل الاوطار3/147,148والتعلیقات السلفیۃ 3/204)۔ لہذا اگر کوئی شخص پریشانی ،تنگدستی یا وسعت کے باوجود نصف صاع ںکالتا ہے تو اس پر نکیر نہیں کی جاے گی البتہ وسعت کی صورت میں احتیاط کا تقاضہ یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح صریح مرفوع روایات سے ثابت ایک صاع ہی پر عمل پیرا ہوں ۔واللہ تعالیٰ اعلم۔ صدقہ فطر میں قیمت کی ادائیگی کا حکم: بلا عذر شرعی صدقہ فطر میں قیمت ادا کرنا جائز نہیں ہے ،ہاں اگر کوئ ایسی جگہ ہوجہاں طعام کی قلت ہو یا کسی ضروری مصروفیت میں اس قدر منہمک ہو کہ چاند رات غلہ کا بندوبست نہ کرسکا اور صبح تلاش بسیار کے بعد بھی غلہ کی فراہمی نہیں ہوسکی یا غلہ تو تھا لیکن تمام تر کوشش اور تلاش کے باوجود غلہ لینے والے نہ مل سکے اور صلاۃ عید کا وقت ہوگیا لہذا بدرجہ مجبوری ادا کرسکتا ہے کیونکہ مذکورہ احادیث میں صدقہ فطر کے لئے پانچ خوردنی اشیاء کے اجناس ہی کا تذکرہ ہے حالانکہ اس عہد سعید میں درہم و دینار کا رواج تھا جس کے احتیاج وضرورت میں وہ ہماری طرح یکساں تھے پھر بھی آپ نے سرے سے ان کا تذکرہ نہیں فرمایا اگر ان میں سے کوئ کفایت کرتے تو آپ ضرور اس کا تذکرہ فرماتے کیونکہ قاعدہ ہے”لايجوز تاخير البيان عن وقت الحاجة” یعني بیان ووضاحت کو ضرورت وحاجت سے مؤخر کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر بیان ہوا ہوتا تو صحابہ کرام جو سنت کے سب سے زیادہ حریص تھے ضرور اس پر عمل پیرا ہوتے ،شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:صدقہ فطر کی حیثیت کفارہ یمین،کفارہ ظہار،کفارہ قتل،رمضان میں کفارہ جماع اور کفارہ حج کی ہے ،کیونکہ اس کے واجب ہونے کا سبب بدن ہے نہ کہ مال۔۔۔۔ اس لئے اللہ نے جس طرح طعام کی شکل میں کفارہ کو ضروری قرار دیا ہےاسی طرح صدقہ فطر کو بھی واجب کہا ہے (مجموع الفتاوی 13/46)۔ شیخ صالح فوزان فرماتے ہیں:صدقہ فطر کی ادائیگی کرنا ایک عبادت ہے جس کی شکل وصورت اور حدود شریعت نے مقرر کردئے ہیں۔اس کے نکالنے کا وقت،اس کی جگہ،اس کی مقدار،اس کے حقدار اور اس کی نوعیت ساری چیزیں متعین ہیں، لہذا صدقہ فطر ادا کرتے وقت ان شرعی امور کا لحاظ کرنا ضروری ہے ،ورنہ یہ عبادت درست ہوگی اور نہ ہی عہدہ برآ کرنے والی ہوگی (المنتقى من فتاوى الشيخ صالح بن فوزان3/113,116)۔ انہی اسباب ووجوہ کے پیش نظر ائمہ ثلاثہ مالک،شافعی،احمداور اکثر علماء وفقہاء نے قیمت کی ادائیگی کو ناجائز کہا ہے البتہ امام ابوحنیفہ اور دیگر کچھ علماء نے اس کے جواز کی بات کہی ہے (المجموع للنووی6/123،المغنی لابن قدامہ4/53,55،بدائع الصنائع للکاسانی2/205) صدقہ فطر نکالنے کا وقت:صدقہ فطر نکالنے کے دو اوقات ہیں ایک واجبی وقت ہے جسے فضیلت اور دوسرا جائز وقت ہے ذیل میں دونوں اوقات مع دلائل پیش کئے جارہے ہیں:۔ وقت فضیلت:عن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:أن رسول الله أمر بإخراج زكاة الفطر أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة (صحيح بخاري: 503وصحيح مسلم:2288)يعنی” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۃ الفطر نکالنے کا حکم دیا اور یہ کہ لوگوں کے صلاۃ عید کے لئے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے”۔ اور ابن عباس کی روایت کے الفاظ ہیں:”فمن أداها قبل الصلاة فهى زكاة مقبولة ومن أداها بعد الصلاة فهى صدقة من الصدقات”(سنن أبي داود:1609وحسنه الألباني في الإرواء:843)۔ امام ابن القیم فرماتے ہیں:دونوں حدیثوں کا تقاضا ہے کہ صدقہ فطر کو صلاۃ سے مؤخر کرنا جائز نہیں ہے اور صلاۃ سے فراغت کے بعد اس کا وقت رخصت ہوجاتا ہے یہی صحیح ہے،اس لئے کہ کوئ حدیث ان دونوں حدیثوں کی معارض ہے،نہ ناسخ اور نہ ہی کوئ اجماع ہے جو ان دونوں حدیثوں کو رد کرتا ہے ۔ہمارے شیخ (ابن تیمیہ)اسی مذہب کو قوی بتاتے رہے اور اس کی تائید فرماتے تھے (زاد المعاد 2/21,22)۔ صدقہ فطر کا جائز وقت: صلاۃ عید سے ایک یا دو اور زیادہ سے زیادہ تین روز قبل فقراء ومساکین کو صدقہ فطر دینا جائز ہےجس کی تائید درج ذیل احادیث وآثار سے ہوتی ہیں:۔ 1:عن نافع قال:كان ابن عمر يعطيها للذين يقبلونها وكانوا يعطون قبل الفطر بيوم أو يومين. يعني:ابن عمر صدقہ لینے والوں کو دیتے تھے اور انہیں عید سے ایک یا دوروز قبل دے دیتے تھے۔ 2:اور موطا امام مالک میں ہے:”أنه كان يبعث بزكاة الفطر إلى الذي يجمع عنده قبل الفطر بيومين أو ثلاثة (1/296رقم:759طبعة الرسالة)”. يعني:”ابن عمر جس کے پاس صدقہ جمع ہوتا تھا عیدالفطر سے دو یا تین دن قبل بھیج دیا کرتے تھے۔”۔ انہی روایات کی بنیاد پر دو یاتین دن قبل صدقہ فطر کے نکالنے پرسعودی عرب کے کبار علماء بشمول شیخ ابن باز نے فتوی صادر کیا ہے۔(فتاوی لجنہ دائمہ 9/369)۔ صدقہ فطر کے مستحقین:اس کے مستحقین درحقیقت احادیث میں وارد لفظ “طعمة للمساكين”کے تحت تمام آٹھوں اصناف زکاۃ میں صرف فقراء ومساکین اور حاجت مند کے لیے مختص ہوجاتا ہوجاتا ہے مزید برآں عام زکاۃ اور صدقہ فطر کی نوعیت میں کافی فرق بھی جس کی وجہ سے اسے عمومی زکاۃ کے دیگر مدوں میں اسے صرف کرنا درست نہ ہوگا مثلاً زکاۃ الفطر کا تعلق ابدان سے ہے ،اس کے لئے صاحب نصاب اورحولان حول کی قید نہیں ہے ،مقداراور دیگر اعتبارات سے نمایاں فرق ہے۔۔ یہاں یہ وضاحت فائدہ سے خالی نہیں ہےکہ مدارس میں زیر تعلیم صرف غریب ونادار طلبہ تک عید سے قبل پہنچانے کا بندوبست کیا جائے تب ان کے حق میں روا ہوگا ورنہ جمع کرکے غریب وامیر تمام طلبہ کے لئے آئیندہ کے لیے اسٹور کیا جائے اور اس سے اساتذہ واسٹاف کے مشاہرے جوکہ ایک طرح سے انکا حق محنت ومعاوضہ ہےاس سے دینا درست نہ ہوگا کیونکہ یہ صرف غرباء ومساکین کا عید کے موقع پر بلامعاوضہ دیا جانے والا ان کا حق ہے۔ اسی طرح اگر شہر سے دور کچھ لوگ ہیں جو صدقہ فطر کے مستحق ہیں اور مقامی لوگوں کو دینے والے وافر مقدار میں ہیں تو کیا ان کے مابین تقسیم کیا جاسکتا ہے ؟اس سلسلے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:اگر لوگ محتاج ہیں اور زکاۃ کے مستحق ہیں اور کسی جہت سے بقدر کفاف رزق کا بندوبست نہیں ہوپارہا ہے تو اگرچہ کسی دوردراز علاقہ میں آباد ہوں انہیں صدقہ دینے میں کوئ حرج نہیں ہے ۔واللہ اعلم ( مجموع الفتاوی 25/85)
اللہ ہمیں دین کی صحیح معرفت عطافرمائے اور مادی وپرفتن دور میں صراط مستقیم پر گامزن رکھے آمین یارب العالمین