بسم اللہ الرحمن الرحیم
درس نمبر 21


الحمدللہ وحدہ والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین أما بعد
یہ حقیقت ہے کہ اللہ رب العالمین نے انسانوں اور جناتوں کو بے کار اور عبث پیدا نہیں کیا ہے بلکہ ایک عظیم مقصد کی خاطر ان کی تخلیق کی ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ یہ سب اللہ سبحانہ و تعالی کی عبادت کریں جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ} [الذاريات : 56] اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں۔
اور اللہ رب العالمین یہ عبادت صرف توحید ہی کے ساتھ قبول کرتا ہے جو انسان شرک اکبر میں واقع ہو جائے تو اس کی عبادت اور اس کے تمام اعمال رائیگاں چلے جاتے ہیں اللہ تعالی فرماتا ہے: {ذَٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [الأنعام : 88]
یہ اللہ کی ہدایت ہے اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہے چلائے۔ اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے۔
اسی طرح سے اللہ تعالی فرماتا ہے: {وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} [الزمر : 65]
اور (اے محمدﷺ) تمہاری طرف اور ان (پیغمبروں) کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں یہی وحی بھیجی گئی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے عمل برباد ہوجائیں گے اور تم زیاں کاروں میں ہوجاؤ گے۔
توحید کہتے ہیں اللہ تعالی کو اس کی ربوبیت، الوہیت اور ان تمام اسماء و صفات میں ایک جاننا جو اس کے لیے خاص ہیں۔
توحید کی تین قسمیں ہیں۔ پہلی قسم: توحید ربوبیت: یعنی اللہ رب العالمین کو اس کے تمام افعال میں تنہا اور اکیلا جاننا اور ماننا مثلا پیدا کرنا روزی دینا زندہ کرنا اور موت دینا
اس کی مثال یوں سمجھیں کہ انسان اس کا اعتقاد رکھے کہ صرف اللہ تعالی ہی خالق ہے اس کے علاوہ کوئی پیدا کرنے والا نہیں ہے صرف اللہ اکیلا روزی دینے والا ہے صرف اللہ تعالی تنہا زندگی اور موت دینے والا ہے اس کے علاوہ روزی دینے والا یا موت اور زندگی کا مالک کوئی اور نہیں ہے اللہ تعالی فرماتا ہے:
{قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّن يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَن يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَن يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ} [يونس : 31]
(ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔ جھٹ کہہ دیں گے کہ اللہ۔ تو کہو کہ پھر تم (اللہ سے) ڈرتے کیوں نہیں؟
اسی طرح اللہ تعالی فرماتا ہے: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ ۚ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ} [فاطر : 3] لوگو اللہ کے جو تم پر احسانات ہیں ان کو یاد کرو۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق (اور رازق ہے) جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو؟
دوسری قسم:  توحید الوہیت: یعنی اللہ سبحانہ و تعالی کے لیے عبادت کی تمام شکلیں خاص کرنا اور اللہ تعالی کو عبادت کے لیے اکیلا مستحق سمجھنا مثال کے طور پر ایک مسلمان شخص صرف اللہ تعالی ہی کو پکارے اور اسی سے دعا کرے صرف اللہ تعالی کے قربت کے لیے جانور ذبح کرے صرف اللہ ہی کی خاطر نذر و نیاز مانے اللہ تعالی فرماتا ہے: { وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاہُ} (الاسراء: 23) اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔
تیسری قسم: توحید اسماء و صفات: یعنی ان تمام ناموں میں اللہ تعالی کو اکیلا و منفرد سمجھنا جو اللہ تعالی نے اپنا نام رکھا ہے اور جن صفات سے اللہ تعالی نے خود کو اپنی کتاب میں یا اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان کے ذریعہ متصف کیا ہے اور یہ ان اسماء و صفات کو ثابت مان کر کے ہوتا ہے جسے اللہ تعالی نے ثابت کیا ہے اور اس کا انکار کر کے ہوتا ہے جس کی اللہ رب العالمین نے اور اس کے رسول نے نفی کی ہے بغیر تحریف کے بغیر تعطیل کے بغیر کیفیت بیان کیے بغیر مثال بیان کیے۔
اس قسم کی مثال یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنے مخلوق سے اعلی تر ہے چنانچہ ایک بندۂ مسلم پر واجب ہے کہ وہ اس بات کا عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالی اپنی تمام مخلوقات سے بلند ہے اللہ تعالی فرماتا ہے: {وهو العلي العظيم}(الشورى:4)
ابن بطۃ عکبری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: صحابہ کرام تابعین نظام تمام مسلمانوں اور اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ رب العالمین ساتوں آسمان کے اوپر اپنے عرش پر ہے اپنی مخلوق سے جدا ہے اور اس کا علم اس کی تمام مخلوقات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
اللہ تعالی کی یہ توحید اسلام میں اس کی سب سے زیادہ اہمیت ہے توحید کے بغیر انسان مسلم نہیں ہو سکتا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ متفق علیہ
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اگر وہ اس کا اقرار کر لیں اور لا الہ الا اللہ کہہ لیں تو مجھ سے اپنا مال اور اپنا خون محفوظ رکھیں گے سوائے اس کے حق کے ساتھ اور کا حساب اللہ تعالی پر ہے۔
اللہ رب العالمین نے دنیا اور آخرت میں توحید کی بڑی فضیلتیں رکھی ہیں جن میں سے چند کو آج کے درس میں بیان کیا جا رہا ہے:
نمبر ایک: یہ توحید امن و ہدایت کا سبب ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے: {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ} [الأنعام : 82] جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم سے مخلوط نہیں کیا ان کے لئے امن (اور جمعیت خاطر) ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔
نمبر دو: یہ توحید گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ ہے انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالی فرماتا ہے: يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا، ثُمَّ لَقِيتَنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً رواہ الترمذی اے ابن آدم اگر تو زمین کے برابر گناہ لے کر آئے گا پھر مجھ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے تو میں اسی کے برابر معافی لے کر آؤں گا۔
نمبر تین: یہ دخول جنت کا سبب ہے عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ – أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنَ الْعَمَلِ متفق علیہ
جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود حقیقی نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور عیسی علیہ السلام اللہ کے بندے اس کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جنہیں اس نے مریم میں ڈالا اور اس کی جانب سے ایک روح ہیں جنت حق ہے دوزخ حق ہے تو اللہ تعالی اس کو جنت میں داخل کرے گا اس کا عمل جو بھی ہو۔
نمبر چار: توحید جہنم سے نجات کا سبب ہے. عتبان بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؛ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ متفق علیہ
بلا شبہ اللہ رب العالمین نے اس شخص پر جہنم حرام کر رکھا ہے جو لا الہ الا اللہ کہے اس کے ذریعے وہ اللہ تعالی کے چہرہ کا دیدار چاہتا ہو۔
لا الہ الا اللہ کا معنی ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں ہے اللہ رب العالمین فرماتا ہے: {ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ} [الحج : 62]
یہ اس لئے کہ اللہ ہی برحق ہے اور جس چیز کو (کافر) اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہے اور اس لئے اللہ رفیع الشان اور بڑا ہے
اور مقصود یہ ہے کہ انسان یہ لاالہ الا اللہ اس کا معنی جانتے ہوئے اور ظاہری و باطنی طور پر اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہوئے کہے۔ محض زبان سے بول دینا اور اس کا معنی نہ جاننا یا اس کے تقاضوں کے مطابق عمل نہ کرنا یہ کوئی نفع بخش نہیں ہے اس پر امت کا اجماع ہے۔
وہب بن منبہ سے ایک مرتبہ کہا گیا کہ کیا لاالہ الا اللہ جنت کی کنجی نہیں ہے انہوں نے کہا کیوں نہیں لیکن جو بھی کنجی ہوتی ہے اس میں دندانے ہوتے ہیں اگر آپ کوئی ایسی کنجی لائیں گے جس میں دندانے ہوں گے تو آپ کے لیے تالا کھل جائے گا اور اگر دندانے نہیں ہیں تو نہیں کھولا جا سکے گا۔
ان کے اس قول میں دندانوں سے مراد نیک اعمال ہیں اللہ تعالی فرماتا ہے: {فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا} [الكهف : 110] تو جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھے چاہیئے کہ عمل نیک کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے
نمبر پانچ:  یہ توحید مسلمانوں کی طاقت و قوت اور زمین میں ان کے رسوخ کا سبب ہے اور اسی توحید کے ذریعہ دشمنوں کی مدافعت ہوتی ہے اللہ تعالی فرماتا ہے: {وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ} [النور : 55]
جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنادے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم وپائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اپنی صحیح میں فرماتے ہیں: اس بات کا بیان کہ قتال سے پہلے عمل صالح ضروری ہے ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ بلاشبہ تم لوگ اپنے اعمال کی بنا پر قتال کیے جاؤ گے اور اس بات کا بیان کہ سب سے افضل اور اعظم ترین عمل توحید ہے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ – أَوْ : بِضْعٌ وَسِتُّونَ – شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ “. ایمان کی 70 سے زائد یا 60 سے زائد شاخیں ہیں ان میں سب سے افضل عمل لاالہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے کمتر درجہ راستے سے تکلیف دہ چیزوں کو ہٹا دینا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو توحید پر زندہ رکھے سنت کے مطابق زندہ رکھے اور ہمیں توحید و سنت پر موت دے اور ہمارے دلوں اور ہمارے اعمال کی اصلاح فرمائے اور ہمیں گمراہ کن فتنوں سے محفوظ رکھے و صلی اللہ وسلم علی نبینا محمد وعلی آلہ أصحابہ أجمعین