
مدارس اسلامیہ نیپال:زمینی حقائق اور ہماری غفلت
ابوعبدالبر عبدالحی السلفی
اسلامی مکاتب ومدارس وہ قلعے ہیں جوہماری شناخت کی تحفظ و بقاء کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں’ملک نیپال کے پہاڑی علاقوں کے بنسبت نشیبی علاقوں میں جب سے جمہوری نظام قائم ہوا ہے’نگر پالیکا’ گاؤں پالیکا’صوبہ اور نیتاؤں وسیاسی رہنماؤں کے مالی تعاون سے دیہاتوں میں چھوٹے چھوٹے مدارس کا جال بچھ گیا ہے،جنہیں حکومت کی جانب سے بہت ہی محدود رقم ملتی ہے؛جب کہ ان میں سے بیشتر اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے بعد عوامی تعاون سےچلتے ہیں۔جس کے لئے اساتذہ ماہ رمضان میں نیپال اور ہندوستان کے مختلف شہروں کا سفر کرتے ہیں۔چین وسکون کی زندگی خیرآباد کرتے ہیں۔سفر کی ساری مشکلات اور صعوبتوں کو جھیلتے ہیں،اہل خیرواصحاب ثروت کے دروازے کھٹکھٹاتے اوران کی پھٹکار سننے کے ساتھ ذلت ورسوائی تک کا سامنا کرتے ہیں-
سفراء و مچندین کے دلخراش واقعات کی روشنی میں یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ مکاتب’مدارس کے لیے چندہ کرنا اور مالی تعاون حاصل کرنا کتنا مشکل کام ہے۔
مولانا عبدالرحیم امینی حفظہ اللہ سابق شیخ الجامعہ “جامعہ دارالہدی” یوسف پور اپنے ایک خطاب میں فرماتے ہیں:کون ہے جو آپ کے بچوں کے لئے چندہ مانگےاور آپ کی گالیاں بھی سنے’یہ جراءت اور بے شرمی اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف مولویوں کو ملی ہے کہ وہ آپ کی گالیاں بھی سنے گا آپ کے دروازے پہ جائے گا اور آپ کے بچوں کو بھی پڑھائے گا’دوسرا کوئی آدمی یہ کام کرکے دکھا دے! جیسے وہ دیکھے گا کہ آپ کی پیشانی پہ شکن آگئی اور آپ کے غصہ اور ناراضی کو بھانپے گا 100 مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کے دروازے سے بھاگ کھڑا ہوگا’یہ جرأت رندانہ کسی اور کے اندر نہیں ہے.
اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ غیر مسلم اقوام ‘مسیحی تنظیمیں اورعیسائی مشنریاں اپنی عبادت گاہوں کے لئے مضبوط منصوبے اور پلاننگ کرتےہیں۔اور اس کے لئے لاکھوں روپے بے دریغ دیتے ہیں۔مگر اسلامی مدارس ومکاتب کی مالی مدد کرنے میں مسلم قوموں کی جان نکل جاتی ہے۔حتی کہ مسلم ڈاکٹرز، انجینیئرز، پروفیسرز، تجار،اور برسرِ روزگار و خوشحال علمائے کرام مکاتب و مدارس کو تعاون کرنے میں عار اور شرمندگی محسوس کرتے ہیں جب کہ انہیں نہیں بھولنا چاہئے کہ وہ بھی انہیں مدارس کی پیداوار اور پروڈیکٹ ہیں.
لہذا ہمیں متحد ہوکر ہر طرح سے ان کا تعاون کرنے کی اشد ضرورت ہے’خاص کر اپنے گاؤں یا قرب وجوار کے وہ مدارس جہاں ہمارے بچے بچیاں زیور تعلیم سے آراستہ وپیراستہ ہوتے ہیں-
بعض مکاتب اور مدراس کے ذمّہ داران میں یقینا مالی بے ضابطگیاں’بدعنوانیاں اور اس کا ناجائز استعمال کرنا پایاجاتا ہے’لیکن ان سب سے قطع نظر ہمیں یہ حسن ظن رکھنا چاہیے کہ بہت سارے ذمّہ داران حرام و حلال میں تمیز کرتے اور ایمان داری و دیانتداری سے اپنی ذمّہ داریاں نبھاتے ہوں گے۔اگر آپ منتظمہ کمیٹی یا ناظم کی کسی بھی سوء تصرف کی بناء پر مدارس کے ساتھ تعاون نہیں کرسکتے ہیں تو اشیاء خوردونوش’اساتذہ کی تنخواہوں’بجلی پانی اور درسی کتابوں کی خریداری وغیرہ میں ہاتھ بٹاکر یا جو بھی مناسب اور بسہولت آپ کرسکتے ہیں’کرتے رہیں-
ہم نہایت ادب و احترام اور اخلاص کے ساتھ آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ بحیثیت مسلمان اپنے ان مکاتب’مدارس کے تحفظ اور استحکام کے لئے ہمیشہ ان کے ساتھ تعاون کرتے رہیں،آج کے اس ترقی یافتہ دور میں علماء کرام کو اپنے یہاں پہنچنے کا انتظار نہ کیا جائے، بلکہ علاقائی سطح پر ہی سہی فنڈنگ کا ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں ہر کوئی از خود ہر مہینے تعاون کردیا کرے۔مثلا خلیجی ممالک میں برسرروزگار واٹساپ گروپ بنالیں اور ہر ماہ دس/بیس ریال کسی ایک معتمد شخص کے پاس جمع کردیا کریں اور جب ایک خاصی رقم اکٹھی ہوجائے تو سب کے مشورے سے مدرسہ میں متعین کام کے لئے رقم بھیج دی جائےتاکہ سب مطمئن رہیں اور کسی کے دل میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہ رہے’نیز اصحابِ ثروت و دولت کو چاہیے کہ وہ مالی تعاون میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ جو بھی پیسے دیں تو خوشی خوشی دیں۔علمائے عظام اور سفرائے کرام کو عزت دیں،گری نگاہ سے ہرگز نہ دیکھیں۔ اللّٰہ کے بعد ان کا شکریہ ادا کریں کہ وہ خود چل کر آپ کے پاس پہنچ رہے ہیں اور آپ سے صدقہ،خیرات اور زکوٰۃ نکلواکر آپ کے مال کو پاک وصاف کررہے ہیں اور آپ کے لیے توشۂ آخرت بنانے میں آپ کا تعاون کررہے ہیں۞ قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى ۗ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ۞يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ”-
دوسری چیز یہ ہمیشہ ذہن نشین رہے کہ آپ نے جس قدر بھی مالی تعاون کیا ہے ان سے حساب وکتاب لینےکے چکر میں نہ پڑیں اور نہ اس ٹوہ میں لگیں کہ ناظم اسے کن کن ناجائز جگہوں پر خرچ کر رہے ہیں بلکہ دینے کے بعد اس کا تذکرہ تک نہ کریں’مشہور مقولہ ہے”نیکی کر دریا میں ڈال”
“نہر زبیدہ” کا کام مکمل ہونے پہ اخراجات کی تفصیل جب ملکہ “زبیدہ بنت جعفر”رحمہا اللہ کے سامنے پیش کی گئی’ اس وقت وہ دریائے دجلہ کے کنارے اپنے محل میں رہتی تھیں’ مورخین کے مطابق انہوں نے حساب کی تفصیل لی اور دیکھے بغیر دریا میں پھیک دی ‘اور یہ تاریخی جملہ کہا تھا:” تركنا الحساب ليوم الحساب “میں نے یہ کام محض اللہ کی رضا کے لئے کیا’یہ حساب میں قیامت کے دن پر چھوڑتی ہوں”-
ہماری قوم کی سب سے بڑی بد نصیبی یہ ہے کہ یہ حساب زیادہ لیتی ہے اور دینا کم جانتی ہے۔اور وہ جس کا اپنے مذہبی رہنماؤں اور علماء کرام سے اعتبار اٹھ گیا’اور وہ قوم جو ہر کسی کو شک وشبہ کی نظر سے دیکھنے کی عادی ہوگئی وہ اس دنیا میں نہ پنپی ہے اور نہ ہی ترقی کے منازل طے کرپائے گی’ضرورت ہے کہ ہم اپنے مولویوں کو ایماندار سمجھیں،ان سے ہمیشہ حسن ظن رکھیں اور اگر ہم انہیں بے ایمان سمجھنے لگے تو ان سے وحشت و نفرت پیدا ہوجائے گی اور ہمارے ہاتھ سکڑجائیں گے تو اس کے بھیانک نتائج ہمیں بھگتنے پڑیں گے’ڈاکٹر محمد اقبال رحمہ اللہ نے کہا” ان مکتبوں کو اسی حالت میں رہنے دو،غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہیں مدارس میں پڑھنے دو،اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟جو کچھ ہوگا میں انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں۔اگر مسلمان ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل ” اندلس” میں مسلمانوں کی آٹھ سو سال کی حکومت کے باوجود جو ہوا وہ تاریخ کے اوراق میں ثبت ہے-
لہذا یہ دو اصول مکاتب اور مدارس اسلامیہ کی مددکرتے وقت ضرور ہمیشہ سامنے رکھیں ورنہ ہماری ساری نیکیاں بھی اکارت وبرباد ہوجائیں گیں.
سفراء حضرات کو چاہیے کہ پوری ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ حساب و کتاب پیش کریں۔ذمہ داران اور عہدیداران کو چاہیے کہ سفراء کے ذریعہ پیش کئے گئے حساب و کتاب کو پوری ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ محفوظ رکھیں۔ان میں خرد برد،بے ایمانی ہرگز ہرگز نہ کریں۔چندہ کے پیسوں کو اپنی جاگیر نہ سمجھیں’ یاد رکھیے کہ مرنا تو یقینی ہے اور قبر میں کچھ بھی ساتھ نہیں جائے گا’اور حرام کمائی سے آپ کے بیوی بچے اور اہل خانہ موج مستی کریں گے اور اس کی سزا آپ کو بھگتنی ہوگی،اس لیے اپنے سیاہ کارنامے پر شرمندہ ہوئیے، ندامت کے آنسو بہائیے، توبہ و استغفار کیجیے اور اللہ سے معافی مانگ لیجیے، تاکہ روز محشر بارگاہ رب ذوالجلال میں ذلت و رسوائی کا سامنا نہ کرناپڑے۔اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ہدایت کے راستے پر چلنے،حرام و حلال کے درمیان تفریق، بدعنوانیوں، بے ایمانی اور لوٹ کھسوٹ کرنے سے بچنے نیز مدارس و مکاتب کی بقاء، تحفظ و استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے اور مثبت سوچ اور بہترین اقدام کرنے کی توفیق عطا کرے، آمین