
نثاراحمد مدنی (مفتی جمیعت اہل حدیث بھیونڈی،ممبئ)
ارض حجاز اس روئے زمین کی وہ مقدس ومتبرک جگہ ہے جس کے پہلو میں حرمین شریفین،مشاعر مقدسہ اور بہت سارے تاریخی مقامات واقع ہیں ۔ جو پورے سال دنیا بھر کے علماء ،صلحاء،اتقیاء،عوام وخواص بلکہ تمام مسلمانان عالم کے مرجع خلائق رہتے ہیں خصوصاً موجودہ قیادت کے حسن انتظام اور بالغ نظری نے ان بقاع مقدسہ کی زیارت ،سفر عمرہ و حج کی خاطر ضیوف الرحمان کی آمد ورفت کے سہولیات بڑھادئیے ہیں خصوصاً ماہ رمضان میں دنیا بھر کے مسلمان اپنے دلوں میں عقیدت و محبت کے جذبات رکھتے ہوے یومیہ لاکھوں کلمہ گو جوق در جوق یہاں پہنچ کر اپنے ایمان کی تجدید کرتے اور اپنے مولی کے سامنے سر بسجود ہوتے ہیں۔ حرم مکی میں تقریبا 30 لاکھ اور حرم نبوی میں 20 لاکھ مصلیوں کی گنجائش ہے۔ اس وقت رمضان کی وجہ سے دن بدن اژدحام بڑھتا جا رہا ہے جو آخری عشرے میں کہاں تک جائے گا کچھ کہنا مشکل ہے۔ چوں کہ ایک صحیح حدیث کے مطابق ماہ رمضان میں عمرہ کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے جیسا ہے اس لیے بسا اوقات حج کے موسم سے زیادہ رمضان میں اور بالخصوص آخری عشرے میں زائرین آتے ہیں۔ بلا انقطاع یہ سارے اعمال 24 گھنٹے جاری رہتے ہیں لیکن کیا مجال کہ کہیں دھکا مکی، بد نظمی اور بے ترتیبی دیکھنے کو ملے۔ ہر نوع کے انتظام و انصرام کے لیے کارکنان کی ایک بڑی تعداد مقرر ہوتی ہے۔ کچھ فوجی وردی میں، کچھ پولیس ڈریس میں ، کچھ عام لباس میں ۔ صفائی ستھرائی والوں کا ڈریس الگ، زمزم کی فراہمی اور اس کے انتظام کاروں کا ڈریس الگ ، صفائی کے لیے دوڑتی خود کار مشینیں اور ان کے ذمہ داران ، مردوں میں الگ ، عورتوں میں الگ، طہارت خانوں کی دیکھ ریکھ، صفائی ستھرائی کا انتظام ، آنے جانے والے راستوں کی نگرانی ۔۔۔۔ غرض قدم قدم پر کارکنوں اور خدمت گاروں کا منصوبہ بند نظام، حرم کے اندرونی حصے اور بیرونی حصے میں کتنے کتنے فاصلے پر آنے جانے کے لیے راستے چھوڑے جائیں ، ان راستوں پر لوگوں کے صف لگانے یا بیٹھنے سے روکنا، کن کن جگہوں پر ماء زمزم کے ڈبے رکھے جائیں، معذوروں اور کمزوروں کو نماز پڑھنے کے لیے کرسیوں کی فراہمی ، ان کو استعمال کے بعد کہاں رکھا جائے ، قرآن کے لیے مخصوص الماریاں اور کتنے فاصلے پر انہیں رکھا جائے کہ ہر شخص بسہولت قرآن لے کر تلاوت کر سکے۔ صفائی ستھرائی کے لیے مستقل افراد اور مشینوں کے علاوہ جگہ جگہ ملازمین تھیلے لے لے کر کھڑے رہتے یا چلتے رہتے ہیں جو تنکوں تک کو زمین پر رہنے نہیں دیتے اور فوراً سے بیشتر چن لیتے ہیں۔
مسجد کے اندرونی حصوں میں کھانے پینے کی زیادہ چیزیں لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی ، اس لیے باہر صحن میں افطار کا بڑا پر تکلف انتظام ہوتا ہے، اور روزے دار شکم سیر ہو کر اٹھتے ہیں، اور بسا اوقات بہت کچھ لے کر بھی جاتے ہیں۔ حرمین کے علاوہ بہت سی مساجد میں بھی اہل خیر کی طرف سے افطار کا خاطر خواہ انتظام رہتا ہے۔ چونکہ حدیث صحیح کے مطابق روز بے دار کو افطار کرانے والے کو روزے دار جیسا ثواب ملتا ہے اور اس سے روزے دار کے اجر وثواب میں کوئی کمی نہیں آتی ، اس لیے اس خواب کو حاصل کرنے کے لیے یہاں کے لوگ خوب خرچ کرتے ہیں۔ مغرب کی نماز کے بعد بھی بعض لوگ دستر خوان لگاتے ہیں اور ماکولات و مشروبات کے ساتھ چائے اور قہوہ بھی پیش کرتے ہیں۔
حرمین سے واپسی کے وقت جب لوگ بسوں پر سوار ہونے کے لیے پہنچتے ہیں تو اس بھیٹر کو منظم کرنے اور افراتفری سے بچانے کے لیے اس مقام پر بھی رضا کاروں کی ٹیم موجود ہوتی ہے۔ خواتین والے دروازے پر خواتین رضا کار بھی ہوتی ہیں۔ جب بس پر ہو جاتی ہے تو دیگر مسافروں کو روک کر بس کے دروازے رضا کار بند کراتے ہیں اور اس کو روانہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد دوسری بیس مقررہ جگہ پر آکر لگ جاتی ہے اور لوگ اس نظم وضبط کے ساتھ سوار کرائے جاتے ہیں۔
سعودی عرب کی اسلامی حکومت ان دونوں مقامات کی دیکھ ریکھ اور تعمیر و توسیع کی جو خدمت انجام دے رہی ہے وہ بے مثال اور باعث حیرت و استعجاب ہے۔ ان مقامات کی زیارت کے لیے آنے والا ہر فرد یہاں کے مختلف نوع انتظامات کو دیکھ کر حیران ہوتا ہے کہ کتنی منصوبہ بندی اور کتنی باریکی سے ایک ایک کام انجام پاتا ہے۔ حرم مکی میں نماز پنجگانہ کے علاوہ عمرہ کے لیے طواف اور سعی کے عمل کو منظم کرنے کے لیے کیا نظام بنایا گیا ہے۔ عمرہ کرنے والوں میں مرد بھی ہوتے ہیں خواتین بھی اور بچے بھی معمر بھی ہوتے ہیں اور کمسن بھی ، ایک تعداد ویل چیئر سے طواف وسعی کرتی ہے۔ طواف مکمل کرنے کے بعد سب کو دو رکعت نماز ادا کرنا ہوتا ہے جسے مقام ابراہیم کے پیچھے ادا کرنا سنت ہے۔ پھر صفا و مروہ کے درمیان سات چکر لگانا اور اس کے بعد بال
رمضان میں عصر کے بعد ہی سے افطار کے دستر خوان لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے ہر روزے دار کے لیے ایک افطار کٹ فراہم کی جاتی ہے۔ جس میں کھجوریں، پانی کی بوتل ، ڈبہ بند دہی، دہی میں ملانے کے لیے مسالہ،وغیرہ بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں۔ یہ افطار کٹ ہر شخص بشمول خواتین و اطفال کو مہیا کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی محسنین اپنے بچوں اور ملازمین کے ساتھ افطار کے مزید لوازمات لے کر آتے
نمائندے چائے اور قہوہ کے تھر مسں اور گلاس لیے حرم میں جگہ جگہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر گذرنے والے کو پیش کرتے ہیں۔ تراویحکے بعد تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ حرم کے باہر راستوں پر جگہ جگہ پانی کی بوتلیں راہگیروں کو پیش کی جاتی ہیں۔
اندرونی حصوں میں دستیاب جگہیں اگر مصلیوں سے پر ہو چکی ہیں تو دروازوں کے اوپر سرخ بتی جل جاتی ہے اور عربی و انگریزی میں (ممتلئ Full) کا اشارہ آجاتا ہے اور جب بالکل گنجائش نہیں رہ جاتی تو بیر یکیٹنگ کرکے بھیڑ کو کنٹرول کیا جاتا ہے ذیل میں ماہ رمضان میں خصوصی طور پر انتظامات کی مختصر جھلکیاں پیش ہیں:
(1) سعودی عرب کے ویژن 2030 کے تناظر میں برنامج خدمة ضيوف الرحمن کے تحت حجاج ومعتمرين کے بہترین تجربہ کے مقصد کے تحت ویزوں کو جاری کرنے میں آسانیاں پیدا کی گئی ہیں.نیزضیوف الرحمن اور زائرین بیت اللہ الحرام کی خدمت میں متعدد دینی ،ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا جاتا ہے علاوہ ازیں تاریخی مساجد ومقامات کی از سر نو تعمیر اسی ویژن کا ایک حصہ ہے.
(2) پورے ماہ رمضان مصلیوں کی راحت رسانی اور معتمرین وزائرین کے لیے متعدد خدمات پیش کئے جاتے ہیں مثلاً 5.6 ملين بیت اللہ شریف کے قاصدین کے لیے پورے ماہ افطار کٹ کا نظم .
(3) اندرون حرم انتظامات:
120.3 ہزار لائٹنگ یونٹ کا نظم ، اور 33 ہزار جاے نماز،20 ہزار آب زمزم کے لیے ڈبوں کی اضافی فراہمی نیز تقریباً 11 ہزار سے زائد زائرین کی خدمت میں اسٹاف کی تقرری میں اضافہ.
(4)اضافی خدمات:
10 ہزار ضرورت مندوں کی خدمت کے لیے ہینڈ ٹرالیوں کی فراہمی ، حرم شریف کے تمام احاطوں میں عمدہ آواز کے پیش نظر 8 ہزار ائیر فون کا انتظام کیا گیا ہے.
(5) مکہ مکرمہ میں حکومت کے مختلف شعبوں کی طرف سے خصوصی تیاریاں کی گئی ہیں چنانچہ اس ماہ مقدس میں زائرین ومعتمرین کی عمدہ ومثالی خدمت کے پیش نظر مزید خدمات کی چند جھلکیاں پیش خدمت ہیں:
تنظیم*هيئة الهلال الأحمر السعودي*
نے مكہ مكرمہ کی سطح پر ماہ رمضان میں بیت اللہ شریف کے زائرین کی میڈیکل سہولیات کی کامل طریقہ پر بھرپور خدمات پیش کی ہیں درج ذیل انداز میں:
(الف)طبی مراکز کا قیام:
35 سے زائد طبی مراکز کی خدمات 24 گھنٹے بحال رکھا گیا ہے ،جن میں چھ مراکز حرم شریف کے اندر موجود ہیں جو جدید وسائل اور تمام تر طبی وسائل ومطلوبہ سازو سامان سے لیس ہیں.
(ب)(Human Resources):
انسانی خدمت اور جملہ ضروریات ومشکلات کے حل کے لیے اس ادارہ کے تحت تقریباً 887 اسٹاف کی تعیین عمل میں آئ ہے جبکہ اس ماہ مبارک میں زائرین کی خدمت کے لیے 900مرد وخواتین والینٹئیرس کی تقرری کی گئی ہے .
(ج)اضافی انتظامات:
ایمیرجینس حالات کے لئیے سات عدد گاڑیوں کا نظم ، 150 بائیک واسکوٹر، و10 موٹر سائیکل،مزید براں 14 ایسی گاڑیوں کا بندوست جو طبی ضروریات کے تحت صحن حرم میں حمل ونقل کو آسان بنانے کے پیش نظر رکھے گئے ہیں.
(6) وزارة الشؤون الإسلامية والدعوة والإرشاد کے مشاریع ووظائف*
وزارة الشؤون الإسلامية والدعوة والإرشاد نے ماہ رمضان کے استقبال کے حوالہ سے درج ذیل چیزوں کی تیاریوں کا اعلان کیا ہے :
(الف) تمام مساجد وجوامع کو خصوصی طور پر تیار کیا جاے:
ائرکنڈیشن پوائنٹس کی صفائی و ستھرائی نیز ان کی اصلاح ،کارپیٹ کی صفائی،مصاحف کی فراہمی اور مصلیوں کی جملہ راحت رسانی کو یقینی بنایا جائے.
(ب) دعوتی سرگرمیاں:
مصلیوں کے یہاں دینی بیداری کی خاطر مختلف دینی دروس ومحاضرات کی باقاعدہ ترتیب بنائ جاے .
(7)امسال حکومتی سطح پر ماہ رمضان میں عمرہ کرنے والوں کے سرکے بال کٹوانے یا سرمنڈوانے کے لیے مفت سہولیات فراہم کی گئی ہیں
(8)سعودی حکومت نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مسجد حرام میں معذوروں اور معمر افراد کے لئے جدید ترین سہولیات اور خدمات سے آراستہ ۲ خصوصی دروازے اور ۲ نماز کے احاطے فراہم کیا ہے جہاں پرانہیں قرآن پاک کے نسخے اور زمزم کا پانی بھی فراہم کیا گیا ہے
یہ اور اس کے علاوہ مختلف انداز کے جدید وسائل کی روشنی میں حرمین شریفین کو پورے طور پر مصلیوں ،زیارت وعمرہ پر آے ہوے جملہ فرزندان توحید اور ضیوف الرحمان کی راحت رسانی کے تمام اسباب کی حتی المقدور فراہمی میں پورا عملہ پیش پیش نظر آتا ہے۔